ہر بار الیکشن کمیشن ہی جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا اہم سبب بنا

ہر بار الیکشن کمیشن ہی جمہوریت کی بساط لپیٹنے کا اہم سبب بنا

                                        لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل ) اس پاک خطے کی عمر 67برس ہوگئی ہے لیکن ملک میں غیر جانبدار ، شفاف اور حقیقی معنوں میں خود مختار الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں نہیں لایا جاسکا، عوامی سطح پرکسی ایک بھی الیکشن کو دھاندلی سے پاک اور شفاف قرار نہ دیا جاسکا اس طرح جمہوری سیٹ اپ کا خالق، الیکشن کمیشن ہی ہر دور میں جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کا اہم سبب بھی بنا ۔ سیاسی تاریخ کی اوراق کے مطابق دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن ہی کم وبیش ہر دور میں بے چینی ، احتجاج ، دھرنوں ، مارچ اور جلسے و جلوسوں کی وجہ بنا کیونکہ 1970سے لیکر 2013کے 10ویں عام الیکشن تک ملک میں کسی ایک بھی الیکشن کو عوامی سطح پر قبول نہ کیا گیا اور ہر دور میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے جاتے رہے پھر یہی الزامات رفتہ رفتہ احتجاج اور جلسے ، جلوسوں و دھرنوں کی شکل اختیار کرتے رہے اور حکومتیں گرتی بنتی رہیں۔ملک میں پہلاالیکشن کمیشن 23مارچ 1956کو ملک کے پہلے آئین کے ساتھ ہی بنا جو 1958میں مارشل لاءکے نفاذ سے آئین کے ساتھ ہی ختم کردیا گیا۔ پھر 1962کے آئین کے تحت بننے والے الیکشن کمیشن کے ذریعے ملک کے 80ہزار بنیادی جمہوریتوں کے نمائندوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے نمائندوں کا چناﺅ کیا۔ لیکن محض 6سال بعد اسے بھی آئین کے ساتھ ہی ختم کردیا گیا ۔ دستور 1973کے آرٹیکل 218کے تحت پھرسے الیکشن کمیشن بنا جو چند تبدیلیوں اورآئین کی 18ویں ترمیم کے ساتھ 40برسوں سے قائم ہے لیکن پاکستانی الیکشن کمیشن کو اپنی غیر جانبدارانہ ، منصفانہ اور شفاف ساکھ بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ الیکشن خواہ 1970 سے لیکر2013 تک تمام انتخابات میں الیکشن کمیشن پر دھاندلی اور جانبداری کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ 1970کے عام انتخابات میں بھی عوامی لیگ اورپیپلز پارٹی ،جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے بھی غیر جانبداری و دھاندلی کے الزامات عائد کئے۔ 1977 میںبھی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر پاکستان نیشنل الائنس نے الزامات عائد کئے۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابا ت کو ایک طر ف سیاسی جماعتوں نے ہی قبول نہ کیا تو دوسری جانب الیکشن کمیشن الزامات کی زد میں رہا۔ 1988کے عام انتخابات میں پنجاب میں پیپلز پارٹی اور دیگر صوبوں میں اسلامی جمہوری اتحاد اور ایم کیو ایم ،جمعیت علمائے اسلام ، بلوچستان نیشنل الائنس ،پاکستان عوامی اتحاد اور عوامی نیشنل پارٹی وغیر ہ نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کئے۔1990کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی ، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی نے الیکشن کمیشن کو جانبدار قرار دیا۔1993کے انتخابات میں مسلم لیگ نواز گروپ ، اسلامی جمہوری محاذاور متحدہ دینی محاذ وغیر ہ نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات عائد کئے۔1997 میں پیپلز پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے الیکشن کمیشن پر جانبدار قراردیا۔ 2002کے انتخابات میں مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، متحدہ مجلس عمل، نیشنل الائنس اور دوسری سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر جانبداری کے الزامات لگائے ۔ 2008کے عام انتخابا ت میں بھی پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کا الیکشن کمیشن کے بارے میں پرانا موقف قائم رہا ۔ 2013کے عام انتخابا ت سے قبل ہی پیپلز پارٹی اور بعض دیگر جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کی جانبداری پر سوالیہ نشان اٹھائے جانے لگے اور انتخابات کے بعد پاکستان تحریک ِانصاف کے چیئرمین عمران خان نے دھاندلی اور الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ سابق چیف جسٹس اور ریٹرننگ افسروں پر بھی الزامات لگائے ۔ان الزامات کی بنیاد پر عمران خان نے ابتدا میں قومی اسمبلی کے چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کرنے کا مطالبہ کیا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ہی مطالبات اور الزامات میں میں شدت آتی گئی اور اب وہ ملک کے تمام حلقوں میں دوبارہ گنتی یا مڈٹرم الیکشن کا مطالبہ کررہے ہیں اور اسی سلسلے میں 14اگست کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کی کال دے چکے ہیں۔ یوں ملک میں جب بھی حکومت رخصت ہوئی تو اس کی وجوھات میں الیکشن کمیشن پر لگائے جانے والے الزامات نے بنیادی سنگ میل کا کردار ادا کیا۔

 الیکشن کمیشن

مزید : صفحہ آخر