اسلام آباد کو فوج سپرد کرنیکا فیصلہ آئینی طور پر درست مگر سیاسی اعتبار سے غلط ہے ، سراج الحق

اسلام آباد کو فوج سپرد کرنیکا فیصلہ آئینی طور پر درست مگر سیاسی اعتبار سے غلط ...

                               لاہور(سٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف نے آئین کے آرٹیکل 245کے تحت اسلام آباد کو فوج کے حوالے کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ آئینی طور پر درست سہی لیکن سیاسی طور پر صریحاً غلط فیصلہ ہے۔ کوئی ایسا سانحہ ،و اقعہ یا حادثہ رونما نہیں ہونا چاہےے جس کے نتیجے میں پھر کسی کو مارشل لاءلگانے کا موقع مل جائے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبے کے عوام کی امانت ہے ،اسے تحلیل کرنے کی خبروں کو صوبے کے عوام نے پسند نہیں کیا ۔ جمہوری ادارے چلتے رہنا چاہئیں ۔ صوبے میں تین سےاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت ہے۔ کوئی پارٹی حکومت سے الگ ہونا چاہے تو وہ الگ ہو سکتی ہے لیکن اسمبلی توڑنا درست اقدام نہ ہوگا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن جلد از جلد ختم کرکے متاثرین کی فوری طور پر اپنے گھروں کو باعزت واپسی کو ےقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے بنوں میں فضل قادر شہید پارک میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر محمدا براہیم خان ، نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل، جماعت اسلامی ضلع بنوں کے امیر مفتی صفت اللہ ، الخدمت فاﺅنڈیشن پاکستان کے نائب صدر سید احسان اللہ وقاص ، صوبائی صدر نور الحق جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈوکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سراج الحق نے کہا کہ اسلام آباد کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی غلط فیصلہ ہے کیونکہ لوگ کہتے ہےں کہ میاں نواز شریف وفاقی در الحکومت میں امن قائم نہیں رکھ سکتے تو وہ کراچی، لاہور ، کوئٹہ ، پشاور اور قبائلی علاقوں میں کےسے امن قائم کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے میاں نواز شریف کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے ووٹ دئےے ہیں لیکن وہ اپنے معاملات دوسروں کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے ۔ قبائلی عوام کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے انتہائی دکھ سے بھر ے ہوئے لہجے میں حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ قبائلی عوام کو کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہیں اپنے ہی ملک میں اپنے گھروں سے بے گھر کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کشتی اسوقت گرداب میں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں ملک کی کشتی کو ساحل پر لگانے اور جمہوریت کی بقاءاور کے اےجنڈے پر متفق ہو جائےں۔ جلسہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمدا براہیم خان نے اس موقع پر کہا کہ شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین بکا خیل کیمپ میں رہنے کے لئے تیار نہیں ۔ انہیں سکولوں اور کالجوں میں کیمپوں سے نکالنے سے پہلے اُن کے لئے بنوںمیں کیمپ بنائے جائیں۔ جلسہ سے الخدمت فاﺅنڈیشن کے مرکزی نائب صدر احسان اللہ وقاص، جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال، جماعت اسلامی بنوں کے امیرمفتی صفت اللہ نے بھی خطاب کیا۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر