ڈی چوک پر ہونے والا میچ ’’فکس‘‘ کرانے کیلئے خورشید شاہ بیک ڈور چینل سے سرگرم

ڈی چوک پر ہونے والا میچ ’’فکس‘‘ کرانے کیلئے خورشید شاہ بیک ڈور چینل سے ...


کراچی /لاہور /جیکب آباد(آئی این پی) تحریک انصاف کی جانب سے 14اگست کو آزادی مارچ کے اعلان کے بعد حکومت کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور رابطوں اورمزاکرات کاسلسلہ جاری ہے، حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے سیاسی کھلاڑی اکھاڑے میں اترے ہوئے ہیں ذرائع کے مطابق 14 اگست کو ’’ڈی چوک‘‘ پر ہونے والے میچ کو ’’فکس‘‘ کرنے کے لیے ’’قائد حزب اختلاف‘‘ سید خورشید شاہ بیک ڈور چینل کے ذریعے کردار اداکرنے میں مصروف ،کپتان نے حکومت سے مذاکرات اور تحفظات کو ختم کرنے کے لیے ضامن طلب کرلیا ،کپتان کا اپنے پرانے دوست ’’وزیر داخلہ‘‘ کو ضامن لینے سے انکار ، نواز شریف کی طرف سے ’’شاہ صاحب‘‘ کوضامن بنائے جانے کی اطلاعات موصول، ذرائع کے مطابق ’’شاہ صاحب‘‘نے ضامن بننے کی حامی بھرلی ۔ ذمہ دار اور باخبرسیاسی ذرائع کے مطابق’’میثاق جمہوریت‘‘ کے معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے ’’شاہ صاحب ‘‘ کو ضامن بنانے کے لیے ’’ہاں ‘‘ کردی ہے ،’’حکومت‘‘ کی ضمانت ’’قائد حزب اختلاف‘‘اٹھانے کے لیے تیار ہوچکے ہے، قائد حزب اختلاف سید خورشید اور عمران خان کے درمیان ’’فائنل راؤنڈ‘‘ آئندہ چند روز میں متوقع ہے ،ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ 14آگست کو دارالحکومت کے ’’ڈی چوک‘‘ پر جو میچ ہونے والا ہے وہ ’’کچھ لوکچھ دو‘‘ کی بنیاد پر ’’فکس‘‘ ہوچکا ہے ،14اگست کو عمران خان کا ’’ آزادی مارچ ‘‘ اسلام آباد پہنچے گا اور ڈی چوک پر آزادی مارچ ’’آزادی جلسہ‘‘ کی صورت اختیار کرے گا اور عمران خان جلسہ سے روائتی انداز میں اپنے جوشیلے خطاب سے عوام کے دل جیت لیں گے اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل اور آئندہ کی تاریخ کا اعلان کرکے کارکنان کو واپس گھروں کو جانے کا کہیں گے ،دریں اثناء ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بنی گالہ میں عمران خان اور چوہدری نثار کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تمام معاملات پر تفصیلی بحث ہوئی اورچوہدری نثار نے پی ٹی آئی کے تمام تحفظات کو دور کرنے کی یقین دہانی کرائی، ملاقات میں عمران خان کی جانب سے ’’ضامن‘‘کی شرط رکھی گئی تو چوہدری نثار کی جانب سے خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ضامن کے طور پیش کیا گیا مگر عمران خان نے خادم اعلیٰ کی ضمانت لینے سے انکار کر دیااور ضمانت کے لیے ’’شاہ صاحب‘‘ پر اتفاق کیا گیا جس پر دونوں رہنماؤں نے حامی بھرلی ہے ،دوسری جانب عمران خان کے ساتھ ہونے والے مزاکرات کا وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو لمحہ با لمحہ آگاہ کیا جارہا ہے اور وزیر اعظم تمام صورتحال کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔

مزید : صفحہ اول