مرد عورتوں کی نسبت چھوٹے موٹے جھوٹ زیادہ بولتے ہیں،سائنسی تحقیق

مرد عورتوں کی نسبت چھوٹے موٹے جھوٹ زیادہ بولتے ہیں،سائنسی تحقیق

برمنگھم (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں کی گئی ایک سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ مرد عورتوں کی نسبت چھوٹی موٹے جھوٹ زیادہ بولتے ہیں اور عورتیں بے ضرر جھوٹ کم بولنے کے علاوہ اکثر ایسا دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی کوشش میں کرتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عورتیں ہفتہ میں تین دفعہ ہلکا پھلکا جھوٹ بولتی ہیں تو مرد ایسا چار دفعہ کرتے ہیں۔ مرد عام طور پر کسی کو بچانے کیلئے، کس شے کے حصول کے لئے یا اپنی شخصیت کو زیادہ دلچسپ ثابت کرنے کیلئے جھوٹ بولتے ہیں جبکہ عورتیں عام طور پر اس لئے جھوٹ بولتی ہیں کہ سچ بولنے سے سننے والے کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔ دو ہزار برطانوی لوگوں پر کی گئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ سب سے عام بولا جانے والا جھوٹ ”میں ٹھیک ہوں“ کہنا ہے جبکہ اصل میں آپ اچھا محسوس نہیں کررہے ہوتے اور یہ عام طور پر دوسروں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے بولا جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے نمبر پر عام بولا جانے والا جھوٹ کسی کی طرف سے دی گئی شے یا تحفے کیلئے پسندیدگی کا اظہار ہے جبکہ دراصل آپ اسے پسند نہ کررہے ہوں۔ اسی طرح ناپسندیدہ کھانے کی تعریف کرنا اور دکاندار اگر غلطی سے کم قیمت لے یا زیادہ بقایا واپس کردے تو خاموش رہنا بھی عام پائے جانے والے جھوٹوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مردوں میں سگریٹ نوشی اور عورتوں میں عمر چھپانے کیلئے جھوٹ بولنا بھی عام پایا جاتا ہے۔ یہ جھوٹ کل جھوٹوں کا 25 فیصدہوتے ہیں۔ تقریباً 50 فیصد لوگوں نے تسلیم کیا کہ وہ سچ نہ بولتے ہوئے پکڑے جاچکے ہیں بلکہ 42 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اس وجہ سے مسائل کا سامنا کرچکے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے ضرر اور چھوٹے موٹے جھوٹ عام طور پر نقصان نہیں پہ نچاتے لیکن ملازمت کیلئے دئیے گئے CV اور انٹرویو کے دوران جھوٹ بولنا بہت نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر