دس اگست کو یوم شہداءمنائیں گے ، اگست کے بعد موجودہ حکمران نہیں رہیں گے: طاہرالقادری

دس اگست کو یوم شہداءمنائیں گے ، اگست کے بعد موجودہ حکمران نہیں رہیں گے: ...
دس اگست کو یوم شہداءمنائیں گے ، اگست کے بعد موجودہ حکمران نہیں رہیں گے: طاہرالقادری

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے 10 اگست کو یوم شہدا منایا جائے گا،مغربی دنیا کو یہ مغالطہ ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی عمل داری ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوام کی زندگی مغربی دنیا کے کتوں سے بھی بدتر ہے۔صوبا ئی دارلحکومت میں پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ 10اگست کو ہر آنے والاکارکن اپنے ساتھ قرآن پاک، جائے نماز اور تسبیح لائے، وہ ضمانت دیتے ہیں کہ یوم شہدا انتہائی پر امن ہوگا، حکومت پنجاب یا وفاق نے یوم شہدا میں شرکت کےلئے آنے والے افراد کو روکا گیا تو یوم شہدا ماڈل ٹاﺅن میں نہیں جاتی امرا کے محل میں منائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ پونے دو ماہ سے صبر کررہے ہیں لیکن اس امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ، ہم آزادی والے نہیں انقلاب والے لوگ ہیں، تمام شہیدوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا ، پر امن شہریوں کو کوئی تنگ نہ کرے ، کارکنوں سے کہتا ہوں جوپولیس والا ان کے گھرمیں گھسے،کارکن اس پولیس اہل کار کے گھر گھس جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اگست کے بعد موجودہ حکمران نہیں رہیں گے لہذا پولیس اہلکار سوچ سمجھ کر حکمرانوں کے احکام مانیں۔ نواز شریف اور ان کا خاندان سوچ لیں کہ وہ پہلے جانا چاہیں گے یا چھوٹے بھائی کو بھیجنا ہے۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ ہمارے 15 افراد شہید ہوئے، 15 کے بدلے 15 کا حساب ہوگا، اس وقت ملک میں دو مقدمات چل رہے ہیں ، ایک مقدمہ لاہور اور دوسرا اسلام آباد میں ہے ، لاہور کے مقدمے میں 14 شہادتوں اور 90 افراد پر اقدام قتل کا مقدمہ ہے،اسلام آباد کے مقدمے میں 18 کروڑ عوام کے معاشی ، سماجی اور سیاسی قتل کا مقدمہ ہے۔ لاہورمقدمے کا فیصلہ قصاص اور اسلام آباد مقدمے کا فیصلہ انقلاب ہے،لاہور واقعے کی ایف آئی آر تاحال نہیں کاٹی جاسکی، شہدا کے ورثا کا  حق تھا کہ وہ ایف آئی آر کٹوا ئیں،مغربی ممالک کو یہ مغالطہ ہے کہ یہاں قانون اورآئین کی حکمرانی ہے، درحقیقت اس ملک کی عوام کی زندگی مغربی ممالک کے کتوں سے بھی بدتر ہے،وہاں حاکم کتے کو گولی مار کربھی اقتدار میں نہیں رہ سکتا اور یہاں 16 انسانوں کو مارا گیا تاہم ایف آئی آر نہیں کاٹی جارہی، ایلیٹ فورس کے انچارج عبدالرﺅف نے اعتراف کیا ہے کہ ایس ایم جی کے 479 اور جی 3 کے 59 فائر کئے گئے، میڈیا نے ان میں سے کچھ افراد کی شناخت کرائی تو حکمرانوں نے انہیں حراست میں لینے کے بعد بیرون ملک فرار کرادیا، ایسی فون کالز کا ریکارڈ ملا ہے جس سے شہباز شریف کے سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں براپہ راست ملوث ہونے کا ثبوت ثابت ہوگیا ۔ڈاکٹرطاہرالقادری کا کہنا تھا کہ 17 جون کو لاہور میں شریف برادران کے حکم پر ہمارے کارکنوں پرریاستی جبر و تشدد کیا گیا اس کی مثال پوری دنیا کی جمہوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس وقت اگر ہم چاہتے تو حکومت پنجاب کے خاتمے تک جنازوں کو دفنانے سے انکار کرتے اور اتنا بڑا دھرنا دیتے ان کی حکومت کے خاتمے تک ان کا دھرنا ختم نہ ہوتا، پورا پاکستان یا کم از کم لاہور سیل کردیتے لیکن ہم نے آئین اور قانون کا راستہ اپناتے ہوئے نامزد ملزمان کے خلاف مقدمے کی درخواست کی، ڈیڑھ ماہ قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر حکمرانوں نے ایف آئی آر درج نہیں ہونے دی بلکہ وزارت داخلہ کہتی ہے کہ پولیس کی مدعیت میں ایف آئی آر درج ہوگئی اور ساری کارروائی اسی پر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی وطن واپسی پر 14 سو افراد پر مقدمہ درج کیا گیا اور ان میں وہ 53 افراد بھی شامل ہیں جو مسجد میں نماز فجر ادا کررے تھے، ہم چاہتے تو اسلام آباد ایئرپورٹ پر قبضہ کرلیتے مگر ہم نے آئین و قانون کو ترجیح دی ۔

مزید : لاہور /اہم خبریں