تحریک انصاف نے کے پی کے حکومت چھوڑی تو ضمنی الیکشن کرا دینگے : پرویز رشید

تحریک انصاف نے کے پی کے حکومت چھوڑی تو ضمنی الیکشن کرا دینگے : پرویز رشید
تحریک انصاف نے کے پی کے حکومت چھوڑی تو ضمنی الیکشن کرا دینگے : پرویز رشید

  

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی نے استعفے دئیے تو حکومت وہاں ضمنی انتخابات کرادیگی۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر 342کے ایوان میں سے پی ٹی آئی کے 15 ارکان استعفیٰ دیدیتے ہیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا، ہم پی ٹی آئی کے استعفوں کی بات کا خیرمقدم کرینگے اور خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن کرا دینگے۔ اس سوال پر کہ اگر پی ٹی آئی نے مڈٹرم الیکشن کے مطالبے کیلئے خیبر پی کے حکومت چھوڑ دی تو پھر کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ اکثریت کی بناءپر پی ٹی آئی کی جگہ نئی اکثریتی حکومت بن جائیگی۔پی ٹی آئی کےساتھ بیک چینل رابطوں کے بارے انکا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے سیاست کا حصہ ہیں اور حکومت نے بھی اسے اپنایا ہے تاکہ کسی نقصان کے بغیر ہی معاملات طے ہو جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک پارٹی قابل قبول طور پر مسائل کے حل اور کشیدگی کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ہر جمہوری قوت چاہتی ہے کہ جمہوری عمل جاری رہے، پی ٹی آئی 5 ہزار افراد کےساتھ مارچ کرکے منتخب حکومت کو گرانا چاہتی ہے تو آئندہ اگر انکی حکومت آتی ہے تو کوئی اور پارٹی انکی حکومت گرانے کیلئے 10 ہزار افراد لیکر اسلام آباد جاسکتی ہے، یہ سارا عمل وسیع تر ملکی مفاد کے منافی ہے اسلئے ہر کوئی عمران خان کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ایجی ٹیشن کی سیاست اور لانگ مارچ کو چھوڑ دیں،پی ٹی آئی سے زیادہ جمہوری طور پر لانگ مارچ کا حق دوسری جماعتوں کی 20، 25 سالہ جدوجہد کا ثمر ہے۔ پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کا اصل ایجنڈا انتخابی اصلاحات نہیں بلکہ جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا ہے، عمران تمام صوبائی اسمبلیاں توڑ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، انتخابی دھاندلی کا واویلا محض بہانا ہے انکا اصل ایجنڈا کچھ اور ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ حکومت عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ جمہوری انداز میں سیاسی مسائل حل کئے جاسکیں اور اس مقصد کیلئے حکومت نے عمران خان سے براہ راست رابطہ کیا ہے۔ آئندہ ہفتے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی تحریک انصاف کی قیادت سے رابطہ ہوگا، کوشش ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکر جمہوریت کی گاڑی کو آگے بڑھائیں۔ احتجاج کسی مسئلے کا حل نہیں مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔

مزید : لاہور