شریف خاندان کی بادشاہت کے خاتمے،حقیقی جمہوریت آنے تک آزادی مارچ جاری رکھیں گے: عمران خان

شریف خاندان کی بادشاہت کے خاتمے،حقیقی جمہوریت آنے تک آزادی مارچ جاری رکھیں ...
 شریف خاندان کی بادشاہت کے خاتمے،حقیقی جمہوریت آنے تک آزادی مارچ جاری رکھیں گے: عمران خان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خا ن نے کہا ہے کہ اس بار یوم آزادی صحیح معنوں میں آزادی کا دن ہو گا،14اگست کو  ملک سے شریف خاندان کی بادشاہت کا خاتمہ کر کے ملک میں حقیقی جمہوریت لائیں گے،اگر پولیس نے عوام کو تشددکر کے روکنےیا مجھے نظر بند کرنے کی کوشش کی تو  پورا ملک بند کر دیا جائے گا اورایسا کرنے والوں کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی،عوام کے سونامی کو اب کوئی نہیں روک سکے گا ۔تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں کہا کہ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ شریف خاندان کی بادشاہت قائم ہے ،جمہوریت میں میرٹ ہوتا ہے کیا پاکستان میں کوئی محکمہ میرٹ پر چل رہا ہے ،حقیقی جمہوریت میں عوام حکمرانوں کا احتساب کرنے کی آزادی رکھتے ہیں ،کیا یہاں کوئی شریف خاندان کا احتساب کر سکتا ہے۔نواز شریف کے ایک بیٹے کی بیرون ملک200ارب کی کمپنی اور مے فئیر کے علاقے میں 2ارب کا رہائشی فلیٹ ہے ،کیا کوئی ان سے پوچھ سکتا ہے کہ شریف خاندان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی ہے، مریم نواز میں کیا قابلیت ہے کہ انہیں 100ارب کے یوتھ پروگرام کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔عوام غربت،بے روزگاری سے مر رہے ہیں اور شریف خاندان کے شہزادے حمزہ شہباز کو پروٹو کول دینے کے لئے کروڑوں روپے خر چ کئے جا رہے ہیں۔رائے ونڈ کے محلات کی سیکیورٹی کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ،پورے ملک میں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے لیکن رائے ونڈ میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ نیب میں شریف خاندان کے خلاف 71کیس چل رہے ہیں لیکن کوئی انہیں گرفتار نہیں کر سکتا ، حقیقی جمہوریت میں احتساب ہو سکتا ہے بادشاہت میں نہیں۔جمہوریت میں حکمران پیسہ خرچ کرنے سے پہلے سوچتا ہے بادشاہت میں نہیں،یہ کیسی جمہوریت ہے کہ پنجاب میں ایک سال کے دوران جرائم میں 100فیصد اضافہ ہو گیا۔عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے اب تک پاکستان میں حقیقی جمہوریت نہیں آئی، جب تک ملک میں حقییقی جمہوریت نہیں آئے گی حکمران امیر اور عوام غریب سے غریب ہوتے جائیں گے۔14اگست کا آزادی مارچ ملک سے شریف خاندان کی بادشاہت کے خاتمے اور ملک میں حقیقی جمہوریت لانے کے لئے ہے،14کو اسلام آبادسے اس وقت تک نہیں اٹھیں گے جب تک  بادشاہت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ،ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آ جاتی  اورنیا  پاکستان نہیں بن جاتا،14اگست کو صحیح معنوں میں یوم آزادی منائیں گے ۔کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ کسی سے ڈیل ہو جائے گی اور مارچ ختم ہو جائے گا اب حکمرانوں کو خود کو احتساب کے لئے پیش کرنا ہو گا، ملک میں نئے الیکشن کمیشن کے ذریعے نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ انہوں نے کہا   کہ پنجاب پولیس اور انتظامیہ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی مارچ  کے دوران  اگر کسی قسم کا تشدد ہوا  توایسا کرنے والوں کو  کہیں   چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پولیس کو ن لیگ تنخوا دیتی ہے اور وہ شریف خاندان کی ملازم ہے یا ملک کی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور سرکاری ملازموں کو عوام کے پیسے سے تنخواہ ملتی ہے، اگر  پولیس نے عوام پر گولی چلائی تو قصاص لیا جائے گا اور گولی چلانے والوں کو پھانسی دی جائے گی،اب کوئی عوام کے اس سیلاب کو نہیں روک سکتا ،اگر مجھے نظر بند کرنے کی کوشش کی گئی تو پورا پاکستان بند کر دیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں