ہندو انتہا پسند تنظیم ریپ ملزمان کے دفاع میں آگے آگئی

ہندو انتہا پسند تنظیم ریپ ملزمان کے دفاع میں آگے آگئی
ہندو انتہا پسند تنظیم ریپ ملزمان کے دفاع میں آگے آگئی

  

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں خواتین کی عصمت دری ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہندو سیاستدان اس مسئلے پر ایک عرصے سے نہایت مضحکہ خیز بیانات دیتے آرہے ہیں۔ ایک پولیس افسر کی جانب سے ایک ماڈل کو تین ماہ تک جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ہندو انتہا پسند جماعت کا ایسا ہی غیر سنجیدہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی کی اتحادی ”شیو سینا“ کا کہنا ہے کہ ریپ کے الزامات ذاتی انتقال کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ملزم ڈی آئی جی نیل پرسکار کا دفاع کرتے ہوئے پارٹی نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کئی سالوں سے پولیس میں ایک فرض شناس افسر کی حیثیت سے فرائض نبھا رہا ہے اور اب ایک ماڈل کے الزامات نے اسے ایک رات میں ولن بنادیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام قوانین خواتین کی حمایت کرتے ہیں لہٰذا کسی کے خلاف بھی الزامات لگائے جاسکتے ہیں۔ دوسری جانب غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسی قسم کے خیالات بھارتی معاشرے میں اس برائی کی افزائش کررہے ہیں۔ یہ معاملہ عدالت میں ہے لہٰذا بہتر ہوتا ہے کہ یہ جماعت اپنا فیصلہ سنانے سے قبل عدالتی فیصلے کا انتظار کرتی۔

مزید : انسانی حقوق