آئی ایس آئی ایس کا اگلا ہدف سعودی عرب، حیران کن انکشاف

آئی ایس آئی ایس کا اگلا ہدف سعودی عرب، حیران کن انکشاف
آئی ایس آئی ایس کا اگلا ہدف سعودی عرب، حیران کن انکشاف

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شامی اور عراقی حکومتوں پر خوفناک وار کرتے ہوئے وسیع علاقوں پر قبضہ کرلینے والی عسکریت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے علیحدگی اختیار کرنے والے اہم رہنما شیخ مہر ابو عبیدہ کا کہنا ہے کہ داعش کا اگلا ٹھکانہ سعودی عرب ہے اور وہ وقت دور نہیں جب نجد میں اس جماعت کا ظہور ہوجائے گا۔ ابوعبیدہ نے یہ انکشاف لبنانی اخبار ”السفیر“ کو دئیے گئے ایک خفیہ انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ داعش سے علیحدگی اختیار کرنے سے پہلے وہ اس گروپ کے زیر قبضہ صحرائی علاقے کے ولی (حکمران) تھے۔ داعش سے علیحدگی کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ اپنے ابتدائی نصب العین سے انحراف کرچکا ہے اور اب یہ اجرتی جنگجوﺅں کا گروہ بن چکا ہے جس کا مقصد تیل پر قبضہ کرنا اور دولت اکٹھی کرنا ہے۔ ابوعبیدہ نے بتایا کہ داعش ایک سال کے دوران شامی علاقوں کا قبضہ چھوڑ دے گی اور صرف ثیل والے علاقوں تک محدود ہوجائیگی۔ سعودی عرب کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ قاسم، فیس مثبت، دمام اور حوفف کے علاقوں میں داعش کے خفیہ مراکز قائم کئے جارہے ہیں اور چونکہ اس گروپ کے جنگجوﺅں کی بڑی تعداد کا تعلق سعودی عرب سے ہے لہٰذا وہ جنگی کارروائیوں کو اس ملک میں پہنچانے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں نظر والے شخص داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی ہی ہیں اور مزید بتایا کہ بغدادی نے تین شادیاں کررکھی ہیں اور وہ احمد ابن حنبل مسجد میں امامت اور جامع مسجد بغداد میں تبلیغ کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے بغدادی کے متعلق یہ انکشاف بھی کیا کہ وہ افغانستان میں القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کے ساتھ بھی وقت گزار چکے ہیں اور وہاں کے جنگجو رہنماﺅں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کے بعد انہیں عراق اور شام میں لاچکے ہیں۔ ابو عبیدہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ 9 جولائی کو ان کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا کہ ان کی اطاعت کی جائے اور جو بھی ان کی اطاعت نہیں کرتا وہ عراقی خفیہ ایجنسیوں کا کارندہ ہے۔ انہوں نے بغدادی کو بھی عراقی ایجنسیوں کا کارندہ قرار دیا۔ داعش کے متعلق ابو عبیدہ نے بتایا کہ اس کا ڈھانچہ پیچیدہ ہے اور ابوبکر بغدادی اس کا سربراہ ضرور ہے مگر جنگجو کارروائیوں کا اصل سربراہ ایک سعودی شخص شاکر واہب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے متعدد رہنماﺅں نے خود ہی اپنی موت کی افواہیں پھیلا رکھی ہیں تاکہ ان کے خلاف خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات بند ہوجائیں۔ ابوعبیدہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ داعش کے رہنما حاجی بکر بھی زندہ ہیں۔

مزید : بین الاقوامی