خواتین ہی خواتین کے خلاف ہوگئیں

خواتین ہی خواتین کے خلاف ہوگئیں
خواتین ہی خواتین کے خلاف ہوگئیں

  

نیویارک ( نیوزڈیسک) امریکہ میں سوشل میڈیا پر خواتین کی طرف سے نظریہ حقوق نسواں کی مخالفت میں شروع ہونے والی تحریک نے نئی بحث چھیڑ دی۔ اس تحریک کو چلانے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ” ہمیں نظریہ یا تحریک حقوق نسواں کی ضرورت نہیں“۔ اس تحریک کی ابتدا ٹیمبلر پوسٹ (سوشل میڈیا ویب سائٹ) سے ہوئی، جو بعدازاں ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس تک پہنچ چکی ہے۔ نئی تحریک کے ضمن میں سوشل میڈیا پر پلے کارڈ پکڑے خواتین کی تصاویر شائع کی گئی ہیں، ان پلے کارڈز پر تحریک حقوق نسواں کے خلاف تحریریں لکھی گئی ہیں اور مخالفت کی وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔ پلے کارڈ پر لکھا ہے کہ ”میں تحریک حقوق نسواں کا حصہ نہیں رہنا چاہتی، میاﺅں یا بلی کی آواز کا مطلب جنسی زیادتی نہیں“، ”اپنے شوہر کے لئے کھانا پکانا کوئی جبر نہیں“، ” مجھے ایسی کسی چیز کی ضرورت نہیں جو مجھے اخلاق باختہ خاتون بنا دے“، ” مجھے نظریہ حقوق نسواں کی ضرورت نہیں بلکہ میں گھر پر اپنی مرضی سے ٹھہرنا چاہتی ہوں“، ” میں نہیں چاہتی کہ میری لڑائی کسی اور کے ہاتھوں میں چلی جائے“، ” نظریہ حقوق نسواں مردوں کو ہمارا دشمن بنا رہا ہے“، ” میں کوئی شکار نہیں ہوں“، ” مجھے گھر پر رہ کر کھانا بنانا اور صفائی کرنا پسند ہے“۔ ان پوسٹس کے نیچے لوگوں کی راءمنقسم ہے، ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا ہے کہ یہ خواتین نظریہ حقوق نسواں کو سمجھ ہی نہیں سکیں تو دوسرے کا کہنا ہے کہ ان خواتین نے دیدہ دلیری کا ثبوت اور سچ کا ساتھ دیا۔ تاہم جن خواتین نے تحریک حقوق نسواں کی مخالفت کی ہے ان میں سے کچھ کا فیس بک پر کہنا ہے کہ انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ اس سلسلہ میں یونیورسٹی آف ایڈلیڈا کی پروفیسر ایمریٹا چلا بل بیک کہتی ہیں کہ تحریک حقوق نسواں کے خلاف یہ نظریہ بہت پرانا ہے، لیکن کثیر تعداد میں لوگوں کے ردعمل کو دیکھ کر میں حیران ہوں۔ ایسے نظریات خواتین کے زیرجامہ پہننے یا نہ پہننے اور شادی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بھی جنم لیتے رہے ہیں۔ پروفیسر ایمریٹا کا مزید کہنا ہے کہ میرے خیال میں اگر کوئی شخص کام درست نہیں کر رہا تو یہ اس کا اپنا قصور ہے، آج اگر خاتون کو وہ مقام نہیں مل رہا، جو اس کا حق ہے تو اس میں زیادہ قصور ہمارا ہی ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ خواتین خود ہی تحریک حقوق نسواں کے خلاف کھڑی ہو رہی ہیں۔

مزید : انسانی حقوق