شادی کی تصاویر بنانے میں ڈرونز کا استعمال

شادی کی تصاویر بنانے میں ڈرونز کا استعمال
شادی کی تصاویر بنانے میں ڈرونز کا استعمال

  

نیویارک ( نیوزڈیسک) امریکہ میں شادی کی تصاویر بنانے کے لئے بھی ڈرونز استعمال ہونے لگے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اگلی بار جب آپ کسی شادی میں جائیں، تو ان باتوں کا خصوصی دھیان رکھیں کہ آپ کے بال سنورےں ہوں، لپ سٹیک ٹھیک لگی اور پینٹ سے شرٹ باہر نہ نکلی ہو، کیوں کہ آپ کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آسمان پر ایک ڈرون گھات لگائے بیٹھا ہے، جو کیمرے کے عدسے کو قریب کرکے آپ کی تصاویر بنا رہا ہے۔ لیکن گھبرانے کی بات نہیں یہ ڈرون وہ نہیں، جو امریکی فوج افغانستان اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں میزائل گرانے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ امریکہ میں آج کل شادی کے یادگار لمحات کی عکسبندی کے لئے زمین پر کھڑے ہو کر ریموٹ کے ذریعے چلنے والے اس جہاز ( unmanned aerial vehicles) کا استعمال نہایت سود مند تصور کیا جارہا ہے، کیوںکہ بعض اوقات کھلی فضا میں ہونے والے بڑے پروگرامز اور ان کے شرکاءکی مکمل عکسبندی نہیں ہو پاتی۔ ڈرون کے ذریعے شادی کے یاد گار لمحات کی عکسبندی کا ایک تجربہ گزشتہ سے پیوستہ ماہ نیویارک میں کیا گیا، جہاں رینڈی فلورک اور سین پیٹرک میلونے (ڈیموکریٹک پارٹی کا نمائندہ) شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ اس ضمن میں جب نیویارک ٹائمز میں خبر شائع ہوئی تو مختلف حلقوں کی طرف سے میلونے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سلسلہ میں ہیلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ” یہ چیز(ڈرون) کسی کی جان بھی لے سکتی ہے“۔ تاہم لوگوں کی سخت تنقید کا جواب دیتے ہوئے میلونے نے کہا کہ ” کئی دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی قواعد و ضوابط کا مکمل علم نہیں تھا اور اب جبکہ میری شادی کو کافی وقت گزر چکا ہے تو کچھ ججز کابھی کہنا ہے کہ ریموٹ کنٹرول ہیلی کاپٹر کے ذریعے تصاویر بنانے کے بارے میں کوئی قانون نہیں ہے۔“ ڈرون کے ذریعے شادی کے لمحات کو قید کرنے والے ایک اور جوڑے نے بھی اس طریقہ عکسبندی کی تعریف کی ہے۔ واضح رہے کہ ڈرونز کے ذریعے شادی کی تقریبات کی عکسبندی کے معاملہ پر آج کل امریکہ میں گرما گرم مباحثے جاری ہیں۔

مزید : تفریح