مَیں کیوں واپس آیا؟

مَیں کیوں واپس آیا؟
 مَیں کیوں واپس آیا؟

  


میں پاکستان واپس کیوں آیا؟ جب سے میں کراچی اترا ہوں اور جہاں میں اب بھی قیام پذیر ہوں، میرے بہت سے احباب، خیرخواہ اور حتی کہ مخالفین بھی اس سوال پر بحث کرتے چلے آ رہے ہیں۔بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ میں نے حقیقت کو نہیں جانچا اور میں ایک خود ساختہ ماحول میں رہتا ہوں۔ دوسروں نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعض ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے اسے حوصلے اور جرأت سے تعبیر کرتے ہوئے ایک درست فیصلے کا مثبت مفہوم دیا۔ میرے عمل سے جو الجھاؤ پیدا ہوا اسے دور کرنے کی کم از کم صورت یہ تھی کہ میں اس بارے میں اپنے خیالات دیانت داری کے ساتھ تحریر کردوں۔

پہلی حقیقت یہ ہے کہ میں کوئی عام شہری نہیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی خاص کرم نوازی کی، مجھے ایک متوسط طبقے والے پس منظر سے چنا اور اعلیٰ عہدوں پر متعین کیا جن میں چیف آف آرمی سٹاف، پھر اس کے ساتھ ہی جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین جو پاکستان کی تمام مسلح افواج کا سربراہ ہوتا ہے، اس کے بعد پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے وزیر اعظم اور آخر میں پاکستان کے صدر کے عہدے شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر ڈالنے اور محنت کش عوام کے روز گار کو بہتر بنانے میں میری راہنمائی کی۔ میں یہ سب کچھ مکمل انکساری کے ساتھ کہہ رہا ہوں جس میں یقیناً کوئی زعم یا تکبر شامل نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ عاجزی بدستور میری مضبوط خصوصیت ہے۔ میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ لوگوں کو میری فکری تشکیل کو جانچنے کے لئے ایسی تفہیم ضروری ہے۔ میرا موازنہ کسی ایسے عام سیاح سے نہیں کرنا چاہئے جو بڑی لاپرواہی کے ساتھ کسی مقام کو دیکھنے یا نہ دیکھنے کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے۔ میں نے اس حد سے کہیں آگے، اپنی ذات سے بلند ہو کر، ریاست اور عوام کے وسیع تر مسائل کی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔

ایک دوسری حقیقت جس کے ادراک کی بھی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ان اعلیٰ عہدوں کے تجربے نے جہاں میرے اندر ایک طرح کا اعتماد پیدا کر دیا وہاں یہ پاکستان کے عوام پر اعتماد کا بھی باعث بنا۔ ان تمام برسوں کی بہت کامیاب عملی گورننس کے نتیجے میں ایک طرف میرا اپنے وطن اور اپنے عوام کے لئے کچھ کر گزرنے کی اپنی صلاحیت اور دوسری طرف پاکستان کے عوام کی اس محض امکانی خصوصیت پر مضبوط اعتماد پیدا ہو گیا جنہیں اگر آشکار کر دیا جائے اور ان کی زنجیریں توڑ دی جائیں تو وہ اپنے طور پر ابھر کر سامنے آ سکتی ے ہم مل جل کر دوبارہ ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ وہ گہرا جذبہ تھا جو میرے مخصوص فیصلے کا سبب بنا۔

منفی لحاظ سے دیکھا جائے تو جس چیز نے مجھے براہ راست تکلیف پہنچائی وہ یہ تھی کہ میں 2008ء سے 2013ء تک گورننس کے پست حد تک فقدان کے پانچ سالہ عرصے میں پاکستان کو نیچے جاتا ہوا اور گہری کھائی میں گرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ شاید سادہ لوح عوام نے اس صورت حال کو قبول کر لیا تھا جن میں سے بہت سے لوگوں میں پاکستان کی حقیقتوں کے داخلی ادراک کا فقدان ہے لیکن میرے لئے یہ بہت اذیت ناک امر تھا جس نے صاحبِ اختیار کے طور پر پاکستان کو اندر باہر سے دیکھا تھا۔ میرے لئے یہ معاملہ اس وجہ سے بھی زیادہ دل شکنی کا باعث تھا کہ میں پورے وثوق سے جانتا تھا کہ اس ملک میں ایک ترقی یافتہ، متحرک اور ولولہ انگیز اسلامی فلاحی ریاست بن کر ابھرنے کے وسائل بھی ہیں اور صلاحیت بھی۔ جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی وہ درست قیادت تھی۔ پاکستان کے عوام جس طرح سے ہر ایک نام نہاد جمہوری طور پر منتخب حکومت اور لیڈر کے ہاتھوں تکلیف اٹھاتے رہے ہیں وہ اس سے کہیں بہتر سلوک کے حقدار ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ درست قیادت کو داخلی اور بین الاقوامی طور پر قابل قبول اور پائیدار بننے کے لئے ایک جمہوری سیاسی عمل کے ذریعے ابھرنا ہوتا ہے۔ لیکن میری سوچوں پر جو سوال چھایا ہوا تھا وہ یہ تھا کہ کیا پاکستان کے عوام آمادہ ہیں اور سیاسی جمود کو توڑنے تیسرے سیاسی متبادل کو اختیار کرنے کی خاطر ایک سیاسی تبدیلی کے لئے تیار ہیں۔ کیا وہ پرانی، ہر طرح سے آزمائی اور پرکھی ہوئی اور ناکام سیاسی جماعتوں (پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یا پی ایم ایل این) کو مسترد کرنے اور ان کی سیاسی قیادت کو نا اہل قرار دینے کے لئے تیار ہیں؟ میں نے سوچا، ہاں وہ تیار ہیں۔ انہوں نے گزشتہ پانچ برس کی بد انتظامی اور گورننس کے فقدان کے باعث کافی مصیبتیں اٹھائی ہیں۔ نچلی سطح پر عوام میرے عرصہ اقتدار کے ترقی یافتہ دور کو بہت شدت سے یاد کرتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ نوجوان اور خواتین تبدیلی کی خاطر متحرک ہونے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ آج بھی اسی طرح آمادہ ہیں۔ میں اپنا مکمل کردار ادا نہیں کر سکا کیونکہ حکومت نے میرے خلاف جھوٹے، بناؤٹی، بدنیتی پر مبنی سیاسی مقاصد کے تحت قائم مقدمات کے ذریعے میرے متحرک ہونے کو تقریباً نا ممکن بنا دیا ہے۔ لیکن انشاء اللہ میں اپنے ملک کو، جو ہمارا واحد ملک ہے، بچانے کے لئے جو کچھ بھی اور جس وقت بھی کچھ کرنے کا موقع ملا تو ایسا ضرور کروں گا۔

کیا لوگ ذات، برادری یا قبائلی نظام کے روایتی شکنجوں کو توڑنے کے لئے تیار تھے جہاں تبدیلی کے خلاف ایک دائمی مزاحمت موجود ہے؟ اس کا جواب ہے: ہاں وہ تیار تھے۔ انہوں نے محرومی، غربت، بیروز گاری، عدم تحفظ اور نا انصافی کے ہاتھوں کافی تکلیفیں اٹھائی تھیں۔ پوری فضا میں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین میں، بیداری اور تبدیلی کی شدید خواہش کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ وہ پرانے طور طریقوں کی زنجیریں توڑنا اور مکمل آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہمیں 1970ء کی دہائی کی مثال یاد ہے جب لوگ علاقائیت، جاگیرداری اور قبائلی نظام کے خول کو توڑ کر باہر نکلے اور قدیم فرسودہ قد آور سیاسی شخصیتوں کو مسترد کرتے ہوئے نامعلوم یا نسبتاً کم معروف افراد کو چننے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پیپلزپارٹی کے پیچھے جمع ہو گئے۔ یہ اس وقت کیسے اور کیوں ہوا؟ یہ اس لئے ممکن ہوا کہ اس وقت عوامی سطح پر حوصلہ شکنی اور نا امیدی کا احساس ایک سیاہ بادل کی طرح پورے پاکستان پر چھایا ہوا تھا جس نے تبدیلی کے عمل کو ہوا دی۔ اگرچہ اس وقت مایوسی کی وجوہات مختلف ہیں لیکن موجودہ حالات بالکل ویسے ہی ہیں جنہیں تبدیلی کے لئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی وجہ سے لوگ بھاری تعداد میں عمران خان اور طاہر القادری کی پکار پر جمع ہو گئے۔

ان دونوں نے ایک مختلف قسم کی قیادت فراہم کی اور تمام سماجی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک بہتر تبدیلی کی امید دلائی۔ انہوں نے اندھیرے میں روشنی دکھائی اور تنکوں کا سہارا لینے والے ڈوبتے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی نوید دی۔ مجھے تحریک دینے کے لئے یہ سبب کافی تھا کہ میں پاکستان واپس آؤں اور تبدیلی چاہنے والے لوگوں کا ساتھ دوں چاہے اس کے لئے میری زندگی کو ہی خطرہ کیوں نہ ہو۔ میں نے دیکھا کہ ایک موقع موجود ہے، اس حلف پر عمل کرنے کا موقع جو میں نے پاکستان ملٹری اکیڈیمی سے پاسنگ آؤٹ پیریڈ میں اٹھایا تھا: ’’میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر بھی جہاں بھی مجھے حکم دیا گیا میں زمین پر فضاء میں یا سمندر میں اتر جاؤں گا۔‘‘ یقینی بات ہے پاکستان کو بچانے کے لئے۔ یہ حلف ایک سپاہی کی پوری زندگی میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔ یہ میری خون کی نالیوں اور نفسیات میں شامل ہو چکا ہے۔ اپنے اوپر واجب حلف پر عمل درآمد کا احساس کرنے اور یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ پاکستان میں سیاسی اور جمہوری اصلاحات لانے میں اپنا حصہ بٹانے کے لئے آئندہ انتخابات کی سیاسی دوڑ میں شریک ہونے کے لئے مجھے کسی سوچ بچار یا تجزیئے کی ضرورت نہیں تھی۔ تمام مشکلات کے باوجود اپنے وطن لوٹنے کی میری اولین وجہ تھی: پاکستان اور اس کے عوام۔

لیکن اس کے بعد کچھ ذاتی وجوہات بھی تھیں۔ میری پہلی ذاتی تحریک یہ تھی کہ میں سیاسی بنیادوں پر قائم کئے گئے ان زیر التواء عدالتی مقدمات کا سامنا کروں جو مخصوص مفادات کے حامل عناصر کے ہاتھوں میرے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ مجھے بدنیتی اور بے بنیاد طریقے سے مفرور اور اشتہاری مجرم قرار دیا گیا تھا اور میری گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔ پاکستان میں میری جائیداد اور بنک اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے تھے۔ اس سیاسی اور عدالتی فعالیت کی بدنیتی اس حقیقت سے ظاہر ہو جاتی ہے کہ صدر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد میں ایک عام شہری کی حیثیت سے آٹھ ماہ پاکستان میں رہا اور اس دوران مجھ پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہوا۔ میں تمام غیر ملکی حکومتوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے خلاف سیاسی اور عدالتی سازش کو محسوس کیا اور میں جہاں بھی گیا مجھے وہاں پورا احترام اور پروٹوکول دیا لیکن اس حقیقت کے باوجود ایک پریشان کن خیال ہمیشہ میرے ذہن پر سوار رہا۔ کیا مجھے ساری زندگی ایک ایسے ’’مفرور‘‘ کی حیثیت سے بیرون ملک رہنا ہے جو اپنے وطن، اپنے لوگوں، اپنے خاندان اور اپنے دوستوں اور اپنے گھر میں واپس نہیں آ سکتا؟ میرے خلاف قائم مقدمات موجود تھے جو اگرچہ حقیقت پر مبنی نہیں تھے اور اس لئے مجھ پر لازم تھا کہ میں ان کو چیلنج کروں۔ ہمارے عدالتی ماحول میں موجود بگاڑ کے سبب مختلف صوبوں میں پاکستان کی مختلف عدالتوں میں اپنے خلاف قائم مقدمات کا مجھے سامنا کرنا تھا۔ میں انہیں خود ہی ختم ہونے کی خواہش نہیں کر سکتا تھا۔ مجھے اپنے ذہنی سکون کے لئے اس بھنور میں کودنا تھا اور تیر کر صاف نکلنا تھا۔

اس کے علاوہ مجھے تمام مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے میری زندگی کے لئے سخت خطرات کے معاملے کو بھی نمٹنا تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کا ساتھ دینے کے سبب القاعدہ، طالبان اور دوسرے جنونی مذہبی گروہ میرے حلفیہ دشمن بن چکے ہیں۔ وہ یہ حقیقت نہیں سمجھتے کہ یہ در اصل افغانستان میں طالبان حکومت اور القاعدہ کے خلاف پوری دنیا کے متحدہ عمل کی حمایت کا فیصلہ تھا۔ جب میں صدر تھا اس وقت میری زندگی پر تقریباً دس مرتبہ وار کر کے انہوں نے اپنے ارادے پہلے ہی ظاہر کر دیئے تھے۔ بعد میں ابھرنے والی تحریک طالبان پاکستان اور علاقائی شناخت کی بناء پر سامنے آنے والے پنجابی طالبان جنہوں نے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا تھا میرے خون کے پیاسے ہیں اور اس کا سبب یہ غلط تصور ہے کہ میں نے ڈرون حملوں کی اجازت دی اور فوج کو ان کے خلاف استعمال کیا۔ کشمیری شناخت والے مجاہدین بھی اسی طرح کا مشکوک گروہ ہے جس نے طالبان کے ساتھ تعلق بنا رکھا ہے۔ لال مسجد کے مذہبی جنونیوں کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا جب انہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے، اس مسجد میں بھاری تعداد میں اسلحہ، بارود، راکٹ لانچر، خود کش جیکٹیں، خوراک اور پانی جمع کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں اپنی عدالتیں قائم کر لی تھیں اور سکول کی ہزاروں طالبات کو انسانی شیلڈ بنانے کے لئے یرغمال بنا لیا تھا۔

انہوں نے بھی اس آپریشن کا بدلہ لینے کے لئے الزامات لگا کر اپنا غبار نکالنا تھا۔ اکبر بگٹی کے عاق کردہ بیٹے جمیل بگٹی نے بھی میرے خلاف بندوق تان رکھی ہے جو اپنی سیاست کھیل رہا ہے جس نے مجھے قتل کرنے والے شخص کو ایک کروڑ روپے کا انعام دینے کا اعلان کر رکھا ہے کیونکہ اس نے فرض کر رکھا ہے کہ میں نے اس کے باپ کو قتل کیا تھا اور سب سے بڑھ کر ان متعدد سخت نظریات والے دہشت گردوں نے کھل کر مجھ پر حملے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جنہیں عدالتوں نے بری کر دیا یا وہ جیلیں توڑ کر فرار ہو گئے۔ یہ کوئی خالی خولی دھمکیاں نہیں ہیں۔ ان عناصر نے بڑی بے باکی کے ساتھ مجھے ختم کرنے کے عزم پر مبنی ٹیلی ویژن بیانات جاری کر رکھے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں چھپایا جا سکتا ہے۔ نائن الیون کے بعد یہ دھمکیاں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔ کیا یہ خطرات جلد ختم ہو جائیں گے؟ قابل قیاس مستقبل میں اس کا بہت کم امکان ہے۔ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد ان میں الٹا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے اگر میں ان سے غیر ضروری حد تک ڈرتا تو کبھی پاکستان واپس نہ آتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے مقدر کا ایک مضبوط احساس پیدا کر لیا ہے۔ میرے ساتھ کیا ہونا ہے، یہ سب کچھ میں نے مقدر پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر مجھے بلند اصولوں کو برقرار رکھنا ہے اور اعلیٰ و ارفع مقاصد کا حصول کرنا ہے تو مجھے یہ خطرات قبول کرنے ہوں گے۔

پاکستان واپس آنے سے قبل میں نے اپنے سیکیورٹی انتظامات کو ممکن حد تک بڑھا لیا تھا۔ میں نے ’’ایس ایس جی‘‘ کے ارکان پر مشتمل اپنی ذاتی سیکیورٹی میں اضافہ کیا۔ ان میں چار خصوصی تربیت یافتہ گارڈ ہیں جنہوں نے میری سروس کرنے کے لئے اس وقت سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جب میں نے پریذیڈنسی کو چھوڑا۔ ان مخلص، وفادار کمانڈوز نے اعلیٰ شخصیات کی حفاظت کی خصوصی تربیت امریکہ سے حاصل کی تھی۔ میرے چک شہزاد فارم اور گھر کی بیرونی دیوار کے گرد ’’ہیکو‘‘ کی ایک اور رکاوٹ لگائی گئی تھی تاکہ باہر سے بم دھماکہ ہونے کی صورت میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ دیوار سے باہر کیمروں اور لیزر شعاعوں کا ایک نظام لگایا گیا ہے تاکہ کسی چیز کے گھس آنے کا پتہ چل سکے اور پہلے ہی وارننگ جاری کی جا سکے۔ بیرون ملک چند مخلص اور فراخ دل دوستوں کی مہربانی سے سفر کی سیکیورٹی کے لئے میں نے بم پروف گاڑیاں اور بموں کو جام کر دینے والے آلات حاصل کئے۔ اور اس سب سے بڑھ کر میری حکومت سے توقع تھی کہ وہ طے شدہ قوانین کے مطابق مجھے اضافی سیکیورٹی حصار مہیا کرے۔ میرے چیف سیکیورٹی آفیسر کرنل الیاس ایک تربیت یافتہ انٹیلی جنس ماہر ہیں جو کم از کم دس سال سے میری سیکیورٹی کا خیال رکھ رہے ہیں۔

ذاتی سطح پر میں اپنے دہشت گرد دشمنوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے خود بھی ایک کمانڈو ہونے پر فخر ہے۔ میں نے آٹھ سال تک ایک اعلیٰ درجے کے سپیشل سروس گروپ میں خدمات سر انجام دی ہیں جس کا ماٹو تھا ’’غازی یا شہید‘‘ دشمن کی صفوں کے پیچھے کام کرنے کے دوران ہمیں جو پہلا سبق پڑھایا جاتا تھا وہ ’’مرو یا مار دو‘‘ تھا یقیناً ہم مرنا نہیں چاہتے تھے اس لئے ہم نے یہ تربیت حاصل کی کہ پہلے دوسرے کو کیسے مارنا ہے۔ ممکن ہے جارحانہ کمانڈو تربیت کی وہ سطح گزر گئی ہو لیکن اس کے اثرات اب بھی میرے خون کی گہرائی میں موجزن ہیں۔ میرے پاس جو ہتھیار ہیں وہ کسی بھی ہتھیاروں کو جمع کرنے والے پر جوش شخص کے لئے رشک کا باعث ہو سکتے ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ انہیں کیسے استعمال کرنا ہے اور کیسے تیزی سے استعمال کرنا ہے۔ میرے خیال میں اپنے تحفظ کے لئے زیادہ سے زیادہ یہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر پھر بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اکھڑ واقع ہوا ہوں تو میرا خیال یہی ہے کہ میں حساب کتاب کر کے رسک لے رہا ہوں۔

بہر حال یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سوفیصد سیکیورٹی کبھی ممکن نہیں ہوتی۔ جس نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو اس کے لئے دل اور دماغ کی اندرونی کیفیات کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ جو لوگ حقیقتوں کا دلیری سے سامنا نہیں کر سکتے اور جن میں اپنے داخلی نظریات اور خیالات کے لئے خطرہ مول لینے کا حوصلہ نہیں ہے ان کے لئے بھی اس معاملے کی تفہیم مشکل ہے۔ میری پرورش، میرے کیریئر اور بلا شبہ میری زندگی نے مجھے حق بات کے لئے ڈٹ جانا اور لڑ جانا، خطرات کا سامنا کرنا، کسی دھمکی کے سامنے آنکھ نہ جھپکنا اور اپنے ملک اور اپنے عوام سے محبت سکھا دی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ میں نے کچھ بلند تر مقاصد متعین کر لئے ہیں جہاں زندگی بھی ایک ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ میرا دل اور دماغ پہلے بھی اور آج بھی ان نظریات سے متفق ہیں۔ مجھے کسی اور کی بیساکھیوں، کسی اور کی قبل از وقت ضمانتوں اور کسی اور کی سیکیورٹی کی ضرورت کبھی نہیں رہی۔ میں نے کسی سے طلب بھی نہیں کی مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں کبھی کروں گا بھی نہیں۔ وہ جو کہتے ہیں کہ کھیر کی مٹھاس اس کے کھانے میں ملتی ہے۔ اب جب میں آ گیا ہوں تو مجھے پس اندیشی کا فائدہ حاصل ہے جس سے میں مزید تجزیہ کر سکتا ہوں کہ میرا یہ جرأت مند فیصلہ درست تھا یا غلط۔ میں نے کیا پایا اور کیا کھویا؟

قانونی لحاظ سے میں ایک بڑے فتح یاب کی حیثیت سے ابھرا ہوں۔ میں اب نہ ہی مفرور ہوں، نہ ہی اشتہاری مجرم ہوں اور نہ ہی پاکستان کی کسی عدالت میں میری گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں ہر ایک مقدمے کی کارروائی نے اس کا کھوکھلا پن اور بعض مقدمات میں عوام کی نظر میں اور حتی کہ میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا کے مطابق بھی سربراہ ججوں کا بد خواہانہ تعصب کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ مجھے تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے اور اگر ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے میرا نام خارج ہو جاتا ہے جسے بدنیتی سے وہاں ڈال دیا گیا تھا تو پھر میں پاکستان سے دنیا بھر میں اپنے لیکچر دینے کا سلسلہ شروع کرنے کے لئے آزادی کے ساتھ آ جا سکوں گا ہر مقدمے کی کارروائی اپنی موجودہ رفتار سے معمول کے مطابق جاری رہے گی جہاں کسی ایک مقدمے کے گواہ موجود نہیں ہیں تو دوسرے میں استغاثہ حاضر نہیں ہو رہا۔ حتی کہ کسی مقدمے میں درخواست دہندہ ہی مفرور ہے۔ وہ انہیں جلد یا بدیر خارج کر دیں گے یا کولڈ سٹوریج میں ڈال دیں گے۔ میری ضبط شدہ جائیداد واپس مل گئی ہے اور منجمد اکاؤنٹس بحال ہو گئے ہیں۔

سیاسی اعتبار سے میرا یہ اعتبار ختم ہو گیا ہے کہ عوام کی پشت پناہی سے ہم نیا سیاسی نظام اور ایک تازہ ترقی یافتہ جمہوری کلچر لانے والی تبدیلی پاکستان میں اتنی جلدی لا سکتے ہیں۔ یہ عظیم نقصان ایک تو عدلیہ کی وجہ سے ہوا جس نے میری سیاست کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں اور دوسرا عمران خان کی اپنی ذات پر مرکوز سیاست کی سیاسی قسم سے ہوا۔ لیکن اس سارے عمل میں میں نے یہ حاصل کیا کہ مجھے پتہ چل گیا کہ پاکستان میں اگر مزید کوئی موقع حاصل ہوتا ہے کون بھروسے کے قابل ہیں اور کون منافق اور بے وفا ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہوں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میں بھاگ گیا ہوں اور دھمکیاں دینے والے اپنے مخالفین کا سامنا کرنے کے لئے کبھی واپس نہیں آؤں گا۔ میں ان لوگوں کی پریشانی اور حیرانی کا باعث بن کر واپس آ گیا ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے ان کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ میرے حوصلے اور دلیری میں ایک قوت آئی ہے۔ میرے نعرے ’’پہلے پاکستان‘‘ نے میری لاج رکھ لی ہے اور میں نے اپنی مادر وطن کو ثابت کر دیا ہے کہ میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر بھی پاکستان سے روگردانی نہیں کروں گا۔

عیب تلاش کرنے والے کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ عدالتوں، ججوں اور استغاثہ داخل کرنے والوں نے میری توہین کی ہے۔ اس کی بجائے میں نے یہ دکھایا ہے کہ اصولوں کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ میں نے جہاں قانون اور عدلیہ کی برتری کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے وہاں ان لوگوں کو بے نقاب کیا ہے جو اس کا امیج خراب کر رہے ہیں۔ آخری بات لیکن جو کسی طرح معمولی بات نہیں ہے میں نے بہت واضح طریقے سے مسلح افواج، رینجرز اور حتی کہ پولیس میں اپنی سٹینڈنگ کا جائزہ لیا ہے وہ مجھے جو عزت مقام اور احترام دیتے ہیں اس پر مجھے بہت فخر ہے۔ میں نے ہر ایک کو دکھا دیا ہے کہ ایک سچا فوجی جرنیل خطروں اور مشکلات سے کبھی نہیں چھپتا۔ وہ ان کا دلیری سے سامنا کرتا ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

مزید : کالم