خوشحال پاکستان

خوشحال پاکستان
 خوشحال پاکستان

  


بالآخر پاکستان بتدریج اس بدترین بحران سے نکل رہا ہے جو شاید ہی دوبارہ پلٹے۔ نظر تو یہ آرہا ہے وہ وقت دور نہیں جب ریاست کچھ حد تک بدامنی پر قابو پانے میں بھی کامیاب ہو جائے گی ۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے ،جس نے ابھی تک زیر زمین چھپے خزانوں اور اصل پوٹینشل کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ یہ دولت کے وہ انبار ہیں جن کے سامنے گندم، کپاس، کھجور، گوشت،دودھ کی سالانہ پیداوار کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جس دن پارلمینٹ کی ترجیحات کا تعین بدلا اسی دن پاکستان کے گلی کوچوں میں اطمینان کی لہر دوڑ جائے گی۔ اب سوال یہ ہے پارلیمنٹس اصل ترجیحات میں کیوں خطاؤں کا شکار ہوتی رہی ہیں؟کیا بظاہر معدوم ہوتی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں تھر کے کوئلے پر کام کی رفتار تیز نہیں کروائی جا سکتی تھی۔ کیا نندی پور اور چیچو کی ملیاں پاور پروجیکٹس کی راہ میں حائل وزارت قانون کے کلرکوں کو ٹھوکروں سے نہیں اڑا یا جا سکتا تھا؟ اگر ایسا ہوسکتا تھا تو پراجیکٹ لیٹ ہونے کی صورت میں اربوں روپے کا نقصان کیوں برداشت کیا گیا؟ کیا چالیس ارب روپے سے سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور گجرات کی تمام انڈسٹری کو مکمل طور پر شمسی توانائی پر شفٹ نہیں کیا جا سکتا تھا؟۔ بلوچستان کے ذخائر کو ’’آئندہ ‘‘ آنے والی نسلوں کی میراث قرار دے کر موجودہ نسل کو کیونکر غریب رکھا گیا؟ ان تمام باتوں کو سمجھنے کے لئے پس پردہ جھانکنا پڑے گا۔ وہاں وہ غیر ملکی قوتیں نظر آئیں گی جو ایک ایٹمی طاقت کو معاشی خودمختاری دینے سے انکاری تھیں۔ اور اس انکار کی وجہ سمجھنے کے لئے امریکن مائنڈ سیٹ کو سٹڈی کرنا ہوگا۔

امریکن پالیسی میکروں نے بارک اوبامہ کی صورت تبدیلی کے جس نعرے کو بلند کیا وہ درحقیقت اقوام عالم اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی تشکیل نو کا نام تھا۔ ان تعلقات میں امریکن مفادات کو سرفہرست رکھا گیااور اوبامہ انتظامیہ نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ پہلے حصے میں افریقہ، چین، روس، وینزویلا اور سعودی عرب سمیت ان ریاستوں کو جگہ دی گئی جہاں سست سفارت کاری کے ذریعے مفادات کا کچھ عرصے کے لئے تحفظ کیا جا سکتا تھا۔ دوسرے حصے میں ان ممالک نے جگہ پائی جہاں کسی قسم کی کوتاہی سنگین عالمگیر بحران کو جنم دے سکتی تھی۔ یہ ممالک اسرائیل، فلسطین،عراق،افغانستان، پاکستان، بھارت ، ایران اور سوڈان جیسی ریاستوں پر مشتمل تھے۔بالخصوص افغانستان، پاکستان اور بھارت کے لئے خصوصی نمائندوں کا تقرربھی اسی سلسلے کی کڑی تھی، تاہم آنے والے دنوں میں معاملات سست روی کا شکار ہو گئے۔ بنیادی وجوہات تنازعات میں الجھی اقوام کی ہٹ دھرمی، عوامی ناپسندیدیگی کاخوف، نفرت کی فضا سے معاشی مفادات اٹھانے والی قوتوں کی سازشیں اور امریکن انتظامیہ کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنچانے کے ذمہ دار اداروں سی آئی اے، پینٹاگان، اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ، کانگریس کے باہمی اختلافات تھے۔ابتدا میں اوبامہ کا وژن بڑا شفاف تھا۔ وہ حقیقتاً تبدیلی کے خواہشمند بھی تھے۔ اپنے عزم کو مزید بااثر بنانے کے لئے انہوں نے امریکہ کے ماضی پر تنقید بھی کی۔ حتی کہ سابقہ حکومتوں کی عالمی مسائل حل نہ کرنے میں عدم دلچسپی، اسرائیل کی شتر بے مہار آزادی اور سلامتی کونسل کو تنازعات بڑھانے کی وجہ قرار دینے تک سے بھی پرہیز نہیں کی گئی۔

دوسرے حصے میں شامل ممالک میں واحد پاکستان ایسا ملک ثابت ہوا جس نے نئے ورلڈ آرڈر کے خدوخال کو پہچانتے ہوئے پالیسیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں کیں۔ سوات آپریشن سے لے کر ضرب عضب تک ، لاکھوں مہاجرین کے بوجھ سے نمٹنے کی صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں کی سلامتی کی ضمانت جیسے اقدامات نے دنیا کو چونکنے پر مجبور کر دیا۔ محض چند سال کے عرصے میں پاکستان نے اس عالمی رائے عامہ کو یکسر تبدیل کر دیا جو اسلام آباد پر قبضے کی صورت ایٹمی ہتھیاروں بارے فکر مند تھی۔ ان کامیابیوں نے جہاں نہ صرف ایک عام پاکستانی کو اعتماد بخشا وہیں مغربی طاقتوں کے بیک اپ پلانز کو بھی مفلوج کرکے رکھ دیا۔دہشت گردی کے عروج کے دنوں میں امریکہ اور اتحادی شدت سے منتظر تھے کب معاملات پاکستانی ریاست کے ہاتھوں سے نکلیں اور وہ ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کی آڑ میں اس صلاحیت کو ہی سرے سے منجمد کر دیں، لیکن قابل تعریف ہیں پاکستانی ریاست کے وہ تمام کردار جنہوں نے نہ صرف دہشت گردوں کو کمال مہارت سے لگام ڈالی، بلکہ فوج کے گرتے مورال کو بھی بلند کیا۔

گزرے دو سال جنرل راحیل شریف کے لئے امتحان کی مانند تھے۔ وہ اس امتحان میں پورا بھی اترے۔ کئی مواقع ایسے آئے جب جمہوری نظام کو رخصت کیا جا سکتا تھا۔ خود امریکنوں کو بھی یہ توقع نہیں تھی پاکستانی فوج ان بگڑتے حالات میں خود کو فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے روک پائے گی، لیکن پاک فوج نے تمام اندازوں اور توقعات کو غلط ثابت کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں فوج کے اندر یہ اتفاق رائے پیدا ہوچکا تھا ہر اس ترغیب، مجبوری کو اڑا کر رکھ دیا جائے گا جس کی آڑ میں امریکہ بلیک میل کرتے ہوئے مطالبات کی نئی فہرست پاکستان کے سامنے رکھ دے۔ مرحلہ وار پالیسی کے تحت اسٹیبلشمنٹ آہستہ آہستہ ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جو امریکن مفادات کو پرے پھینک رہے ہیں۔ کہاں وہ وقت جب امریکی عہدیداران دندناتے ہوئے اسلام آباد اترتے۔ چند گھنٹے قیام ہوتا۔ مطالبات منوائے جاتے ۔کافی کا دور چلتا اور بات ختم، جبکہ اب وہ وقت آچکا ہے امریکنوں کو کبھی پارلیمنٹ کے سامنے لڑھکا دیا جاتا ہے ۔ کبھی چائنہ، روس کی صورت بیک اپ شو کروایا جاتا ہے اور کبھی بڑے مضبوط انداز میں بار بار باور کروایا جاتا ہے آنے والے وقتوں میں ان کی طرف سے تجویز کردہ ’’وزراء‘‘ کی لسٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے گا۔ اگر ایسا حقیقتاہوگیا تو بہت بڑی مثبت تبدیلی ہوگی۔ خاص طور پر ان حالات میں، جبکہ امریکن پالیسی ساز دس سال قبل یہ واویلا مچا رہے تھے 2012 ء میں پاکستان ٹوٹ جائے گا۔ پاکستان اللہ تعالی کے فضل سے بدستور قائم و دائم ہے۔ البتہ وہ امریکن ایجنٹ ضرور بے نقاب ہوگئے جو پاکستان ٹوٹنے کے خوف سے اپنا سرمایہ دبئی ، سنگاپور اور بنگلہ دیش لے گئے۔ دبئی جانے والے تو لٹ پٹ کر دوبارہ پاکستان لوٹ رہے ہیں۔ باقی رہے بنگلہ دیش والے تو ان سرمایہ کاروں کو بھی واپس ہی لوٹنا پڑے گا۔ ہڑتالی مظاہرین سب سے پہلے غیر ملکیوں کے سرمائے پر ہی ہاتھ پھیرتے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو لاہور ، کراچی کے کاروباریوں سے بنگلہ دیش کی ’’بہترین ‘‘ کاروباری فضا کا پوچھ لیجئے؟۔

اسٹیبلشمنٹ کے تمام قابل ذکر ٹولز پوری یکسوئی اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں میں کوتاہیاں نظر آ رہی ہیں۔ جماعتوں کو انتہائی سرعت سے بھانپنا ہوگا بہت سارے روایتی خدشات دور ہو چکے ہیں۔ انہیں ساری توجہ اندرونی چیلنجز پر مرکوز کرنا ہوگی۔ پولیس، پٹوار، صحت اور تعلیم جیسے ایشوز روز بروز بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔عوام کو کمال مہارت سے نان ایشوز میں الجھا دیا گیا ہے۔ وقت گذرتا چلا جا رہا ہے اور معاملات خراب سے خراب تر۔ کیا یہ ممکن نہیں تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوکر ترقی کے مشترکہ ایجنڈے کو فائنل کریں؟۔ ایسا ہو سکتا ہے اور اسی میں بہتری ہے۔ اکیلا کوئی بھی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ یہ سمارٹ فون خریدنے کا معاملہ نہیں سماجیات سے نمٹنے کا چیلنج ہے۔ وہ سماجیات جہاں بیشتر اوقات منفی قوتوں کی جیت ہوتی ہے۔ جو بڑی عظیم الشان لیڈر شپس کو آنا فانا ہڑپ کر گیا۔ پاکستان کے پاس سب کچھ موجود ہے، کمی صرف ترجیحات کے تعین کی ہے۔ *

مزید : کالم