زیادہ بارش کپاس کے پودوں پر منفی اثر ات مرتب کرتی ہے

زیادہ بارش کپاس کے پودوں پر منفی اثر ات مرتب کرتی ہے

(کامرس رپورٹر)

(ڈیک)

فصل کو زیادہ پانی کے نقصان سے بچانے کیلئے کپاس کے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی نچلے کھیت میں نکال دیں

بارش کے بعد کھیت وتر آنے پر قطاروں کے درمیان ہل چلا کر اور پودوں کے درمیان ہاتھ سے گوڈی کرکے جڑی بوٹیوں کو تلف کرتے رہیں

بارشوں سے پیدا ہونے والی نمی کی وجہ سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً جیسڈ (چست تیلہ) کا حملہ بڑھ جاتا ہے

زیادہ بارش کپاس کے پودوں پر منفی اثر ات مرتب کرتی ہے ۔ کپاس کے پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی بھر مار ہوجاتی ہے نتیجتاً نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے لہٰذا کپاس کی فصل سے بھرپور پیداوار لینے کیلئے ضروری ہے کہ مون سون کی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی غیر ثمردار نشوونما روکنے، جڑی بوٹیوں کے تدارک اور کیڑوں کے موثر کنٹرول کو یقینی بنایا جائے۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگربارش کا پانی کھیت میں 24 گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے حتیٰ کہ 48 گھنٹے پانی کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں۔فصل کو زیادہ پانی کے نقصان سے بچانے کیلئے کپاس کے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی نچلے کھیت میں نکال دیں۔ اگر قریب کماد یا چارے کی فصل ہو تو اس کھیت میں پانی ڈال دیں۔ اگر پانی کپاس کے کھیت سے باہر نہ نکالا جا سکتا ہو تو کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیں۔زیادہ پانی کی وجہ سے پودوں کی جڑیں کام کرنا بند کردیتی ہیں اس لیے اگر فصل پیلی ہوجائے تو پانی نکالنے کے بعد جب زمین وتر آجائے توفصل کے قد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر یوریا کا 1سے 2 فیصد محلول بنا کر سپرے کریں تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوجائے۔ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں میں جڑی بوٹیاں زیادہ اُگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ بارش کے بعد کھیت وتر آنے پر قطاروں کے درمیان ہل چلا کر اور پودوں کے درمیان ہاتھ سے گوڈی کرکے جڑی بوٹیوں کو تلف کرتے رہیں یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کپاس کے پودے اتنے بڑے نہ ہوجائیں کہ ان میں ہل چلانے سے پودوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ خاص طور پر اِٹ سٹ کی موثر تلفی کو یقینی بنائیں۔ اگر فصل بڑی ہوجائے تو سپرے مشین کے ساتھ شیلڈ لگا کر بوٹی مار زہر کا سپرے کریں۔ بارشوں سے پیدا ہونے والی نمی کی وجہ سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً جیسڈ (چست تیلہ) کا حملہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے لئے ہفتہ میں دو بار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں۔ رس چوسنے والے کیڑوں کی پیسٹ سکاؤٹنگ کے لیے کھیت میں چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کا معائنہ اس طرح کریں کہ پہلے پودے کے اوپر والے، دوسرے پودے کے درمیان والے اور تیسرے کے نیچے والے اور پھر چوتھے پودے کے اوپر والے پتے کی نچلی طرف دیکھ کر رس چوسنے والے کیڑوں کی تعداد نوٹ کرلیں۔ یہی عمل جاری رکھ کر 20 پودے پورے کرلیں۔ آخر میں تمام پتوں پر دیکھی جانے والی تعداد کو جمع کر کے فی پتہ اوسط نکال لیں۔اگر چست تیلہ ایک بالغ یا بچہ فی پتا،سفید مکھی پانچ بالغ یا بچے فی پتا یا دونوں ملا کر پانچ فی پتا، تھرپس 8تا10بالغ یا بچے فی پتا ، سست تیلا کے لیے اوپر والی کونپلوں پر واضح نقصان اور مائیٹس کے نقصان کی علامات ظاہر ہوں تو محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہر کا سپرے کریں۔ٹینڈوں کی سنڈیوں کے نقصان کی معاشی حد معلوم کرنے کے لیے پیسٹ سکاؤٹنگ کے لیے کھیت میں پانچ مختلف جگہوں پر پانچ اکٹھے پودے یعنی کل 25 پودوں پر موجود ڈوڈیوں، پھولوں، ٹینڈوں اور پودوں کی چوٹیوں کا معائنہ کریں اور ان پر موجودانڈوں اور سنڈیوں کی تعداد نوٹ کرلیں۔ اگر حملہ نقصان کی معاشی حد یعنی امریکن سنڈی کے 3بھورے انڈے یا 3 چھوٹی سنڈیاں یا دونوں ملا کر 5 فی 25 پودے ہوں اور چتکبری سنڈی 3سنڈیاں فی 25 پودے یا 10% ڈوڈیوں، پھولوں اور ٹینڈوں کا نقصان ہو تو محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے زہر استعمال کریں۔ اگر کسی پودے پر لشکری سنڈی کے انڈے یا چھوٹی سنڈیاں نظر آئیں تو اُن کو ہاتھوں کی مدد سے چن کر تلف کریں ۔ اگر حملہ قدرے بڑی ٹکڑیوں میں ہو تو کھیت کے ان حصوں کی نشاندہی کرکے مناسب کیڑے مار زہر کے سپرے سے اُس کو تلف کریں۔ کھیتوں کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں کیونکہ جڑی بوٹیاں لشکری سنڈی کی افزائش میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔ اگر لشکری سنڈی کپاس کے کھیتوں میں پھیل جائے تو فوری طور پر محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہر پورے کھیت پر سپرے کریں۔زیادہ بارشوں کی وجہ سے پودے کا قد بہت بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے بجائے پھل لینے کے پودا بڑھوتری کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اگر غیر ضروری

بڑھوتری کو نہ روکا جائے تو پیداوار کم ہونے کے ساتھ فصل بھی دیر سے تیار ہوتی ہے۔ اگر 60 دن کی کپاس کے اوپر والے حصے یا چوٹی سے سفید پھول کے فاصلہ کی لمبائی 6انچ سے زیادہ ہوتو ایسی صورت میں فصل کی بڑھوتری کو مناسب رکھنے والا مرکب محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے استعمال کریں۔ یہی عمل ہفتہ کے وقفوں سے مزید دو مرتبہ دہرائیں۔ کاشتکار درج بالا ہدایات پر عمل کرکے اپنی کپاس کی فصل کی نہ صرف ضرر رساں کیڑوں اور جڑی بوٹیوں سے حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ اس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2