بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،12افراد جاں بحق ،سکھر بیراج میں دراڑ یں ،رینجرز الرٹ

بارش اور سیلاب کی تباہ کاریاں ،12افراد جاں بحق ،سکھر بیراج میں دراڑ یں ...

لاہور / نواب شاہ /نوشہرہ/ میاں چنوں/گلگت بلتستان/ڈیرہ اسماعیل خان ( اے این این، بیورورپورٹ ) پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں طوفانی بارشوں کے باعث 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ ریسکیو1122 نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچایا ، نوشہرہ میں بارشوں سے دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب سے دریا کنارے آباد کئی بستیاں زیر آب آنے سے پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ انتظامیہ نے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی شروع کر دی ،نواب شاہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ٗ برساتی ندی نالوں میں طغیانی ہے ٗ تونسہ کے مقام پر سیلابی ریلے سے انڈس ہائی وے بہہ جانے کے بعد پنجاب اور سندھ کا خیبرپختونخوا سے زمینی رابطہ منقطع ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں جاری بارشوں سے پیش آنے والے حادثات اورواقعات میں12افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔میاں چنوں میں بارش کے باعث کمرے کی چھت گر گئی ، ملبے تلے دب کر باپ بیٹی جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے ۔ میاں چنوں کوٹھی نند سنگھ میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر محمد امجد کے مکان کی چھت گزشتہ چار روز سے ہونے والی مسلسل بارشوں کے باعث گر گئی ، امجد اسکی تین سالہ بیٹی خنساں موقعہ پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک بیٹی طہ اور ایک سالہ بیٹا زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو 1122 نے موقعہ پر پہنچ کر زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میاں چنوں پہنچایا ۔ باپ بیٹی کی نعشیں نکال کر ورثا کے حوالے کر دی ۔ بلدیہ میاں چنوں کا عملہ دو گھنٹے بعد بھی موقعہ پر نہ پہنچا ۔پاک پتن کی پرانی سبزی منڈی کے قریب بوسیدہ چھت گرنے سے ماں اپنے دو بیٹوں زندگی کی بازی ہارگئی جبکہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے رکن آباد میں گھر کی چھت گرنے سے بچہ جاں بحق ہوگیا۔ اس کے علاوہ ٹانک کے علاقے خدراں والا میں بھی کرنٹ لگنے سے خاتون جاں بحق ہوگئی کرک کے علاقے عمرآباد میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 2 خواتین جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب نوشہرہ کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی سطح بڑھنے سے قریبی آبادی محفوط مقامات پر منتقل ہو رہی ہے ۔صادق آباد کے قریب حفاظتی بند پر کٹاؤ شروع ہوگیا ہے ۔ کوہ سلیمان پر بارشوں سے ندی نالوں میں طغیانی ہے ، سیلاب کے باعث ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں کا زمینی رابطہ کئی روز سے منقطع ہے ۔ سندھ اور پنجاب میں سیلاب سے کئی بستیاں متاثر ہوئی ہیں ۔نوشہرہ میں نظام پورکے مقام پردریائے سندھ اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے دریا کے کنارے آباد کئی بستیاں زیر آب آگئی ہیں ۔ لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کردی ہے ۔صادق آباد میں بنگلا دلکشا کے مقام پر پانی کے تیز بہاو کی وجہ سے حفاظتی بند پر کٹاو شروع ہوگیا ہے۔کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں بارش کے بعد برساتی ندی نالوں میں طغیانی ہے۔ تونسہ کے مقام پرتین روز قبل سیلابی ریلے سے انڈس ہائی وے بہہ جانے کے بعد اب تک پنجاب اور سندھ کا خیبرپختونخوا سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ برساتی ندیوں میں طغیانی کے باعث قبائلی علاقوں کا آج چھٹے روز بھی زمینی رابطہ بحال نہیں ہوسکا ہے۔جس سے علاقے میں خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ دریا ئے سندھ میں چشمہ بیراج کے مقا م پر پا نی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔کشمور کے مقام پر دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔ دریائے سندھ میں گڈوبیراج میں پانی کی سطح بڑھنے سے کے کے حفاظتی بند ، توڑی بند اورملاپ حفاظتی بند پر پانی کا دباو بڑھ گیا ہے اور پشتوں کو مضبوط کیا جارہا ہے ۔نواب شاہ میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔اسکردو .بلتستان ڈویژن میں بارش اور گلیشیرپگھلنے کے باعث دریائے سندھ سمیت اسکردو کے تمام دریاوں میں پانی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے ۔ ندی نالوں میں طغیانی سے اسکردو سے کے ٹو جانے والا روڈ اور اسکردو کھرمنگ روڈ بند ہو گیا ہے۔ چترال میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے چترال پشاور روڈ آمدورفت کے لیے آ ج بھی بند ہے۔ گلگت بلتستان میں گزشتہ دو روز سے جاری گرمی کی شدت کے باعث گلیشیر پگھلنے کا عمل تیز ہوگیا ہے جس سے دریا اور ندی نالوں میں ایک بار پھر طغیانی آگئی ہے۔ سب ڈویژن کھرمنگ میں بارش سے طورغونڈ گاوں میں سیلاب نے تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے اپنے ساتھ گھروں، مویشیوں کو بہا لے گئے ہیں ۔ سڑک پر پھسلن کے باعث ایک موٹر سائیکل سوار کئی فٹ نیچے دریائے سندھ میں گر کر جاں بحق ہوگیا جبکہ لینڈ سلائیڈنگ سے سب ڈویژن کھرمنگ کو اسکردو سے ملانے والی واحد سڑک پاری گاوں کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کیلیے بند ہوگئی ہے ۔ دوسری جانب اسکردو سے دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو جانے والی واحد سڑک پر بیافو کے مقام پر دریا برالدو کے اوپر سے پانی گزرنے لگا ہے جس کے باعث کے ٹو سے واپس اسکردو آنے والے غیر ملکی سیاح پل کے دوسری جانب پانی اترنے کا انتظار کر رہے ہیں ،تاہم پل ٹوٹنے کی صورت میں کے ٹو اور دیگر پہاڑوں کی مہم جوئی میں مصروف دو سو سے زائد کوہ پیما بیافو کے مقام پرپھنس سکتے ہیں۔چترال میں کھوٹ کے مقام پر ،12 مکانات سیلابی ریلے میں بہہ گئے جبکہ چترال پشاور روڈ آمدورفت کے لیے دوسرے روز بھی بندرہی۔سب ڈویژن مستوج روڈ بھی کئی مقامات پر دوبارہ بند ہوگیا ہے۔دریں اثناء ڈیرہ اسماعیل خان پاک فوج کاسیلاب زدہ علاقوں میں تیسرے روزبھی ریسکیوریلیف آپریشن جاری رہا‘ایف آرڈیرہ میں سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے دس لوڈٹرکوں کونکال لیاگیا۔انورکلاں میں چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی‘تحصیل کلاچی کے علاقہ کوٹ ولیدادمیں سیلابی پانی میںآنیوالے سانپوں کے کاٹے سے دوافرادجاں بحق ہوگئے‘بارشوں سے ڈیرہ اسماعیل خان شہرکے قبرستانوں کوٹلی امام حسین‘کچہری قبرستان‘حافظ خیراحمدقبرستان‘اہل اسلام قبرستان‘حقنوازپارک قبرستان سمیت دیگرقبرستانوں میں بارشی پانی داخل ہونے سے قبروں کوشدیدنقصان‘ضلعی انتظامیہ کی طرف سے شہرمیں پانی کونکالنے کیلئے آٹھ پیٹرتقسیم کردےئے گئے۔تفصیلات کے مطابق پاک فوج کاسیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تیسرے روزبھی ریسکیوریلیف کاآپریشن جاری رہا۔کلاچی اورپروآکے علاقوں میں متاثرین سیلاب میں فوڈاورراشن کی تقسیم بھی جاری ہے۔لونی‘موسیٰ زئی اورکوٹ ولیدادمیں کشتیوں کے ذریعے پاک فوج نے متاثرین کوریسکیوکیا۔اسی طرح ایف آرڈیرہ میں سیلابی ریلے میں پھنسے ہوئے سروبی کھرسے دس لوڈڈٹرک نکالے۔دوماندہ پل اورسروبی کھرمیں ریلیف کاکام شروع کیاگیامگرنئے سیلابی ریلے نے تعمیراتی کام کومتاثرکیاجسکی وجہ سے کام کوفوری طورپرروک دیاگیا۔انورکلاں میں بارشوں سے ایک مکان کی چھت گرگئی جس سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔گزشتہ روزمغل کوٹ میں زخمی ہونیوالانوجوان درازندہ ہسپتال میں جاں بحق ہوگیا۔مغل کوٹ میں بارشوں سے آٹھ جانورمرگئے۔انورکلاں روڈاورلنک ژوب روڈدوجگہوں سے ٹوٹ گیاجس سے آمدورفت منقطع ہوگئی۔سی اینڈڈبلیونے سیلاب سے متاثرہ کھوئی بہارہ روڈکوآمدورفت کیلئے بحال کردیا۔پولیٹیکل انتظامیہ نے بارشوں سے متاثرہ افرادکیلئے سروے کاآغازکردیاہے۔سی اینڈڈبلیواورپولیٹیکل انتظامیہ کونئے سیلابی ریلے کی متوقع آمدکی وجہ سے ریڈالرٹ جاری کردیاگیاہے۔اسی طرح کوٹ ولیداداورگاؤں رشیدمیں سیلابی ریلے کی وجہ سے کافی گھرمتاثرہوئے ہیں۔کوٹ ولیدادمیں سیلابی ریلے میںآنیوالے سانپوں نے دومقامی افرادکوڈس لیاجوبعدازاں جاں بحق ہوگئے۔مسلسل بارشوں کے باعث ڈیرہ اسماعیل خان شہرکے قبرستانوں کوٹلی امام حسین‘حافظ خیراحمدقبرستان‘چاہ سیدمنورقبرستان‘کچہری قبرستان‘حقنوازقبرستان‘اہل اسلام قبرستان اورپیرزکوڑی قبرستان سمیت دیگرقبرستانوں میں بارشی پانی داخل ہوگیاجس کیوجہ سے قبروں کوشدیدنقصان پہنچا۔بستی ڈیوالہ کانالہ بندہونے کے باعث بارشی پانی دوروزسے بستی ڈیوالہ اورچاہ سیدمنورکے علاقوں میں کھڑاہے جسکی وجہ سے آمدورفت معطل ہوکررہ گئی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ شہرمیں بارشی پانی کونکالنے کیلئے فوری طورپرآٹھ پیٹرزتقسیم کردےئے گئے جنکے ذریعے شہرکے مختلف حصوں سے پانی نکالنے کاکام جاری ہے۔اسی طرح ٹی ایم اے ڈیرہ کاعملہ بھی سڑکوں پرجمع پانی کونکالنے میں مصروف عمل ہے۔

سکھر/کشمور(آئی این پی) سکھر بیراج پر سیلابی پانی کے شدید دباؤ کی وجہ سے دروازوں پر دراڑیں پڑ گئیں جس کے بعد بیراج کو ہر قسم کی آمدو رفت کے لئے بند کردیا گیا ہے جب کہ رینجرز نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پوزیشن سنبھال لی ہیں۔تفصیلات کے مطابق انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے بتایا ہے کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 7 لاکھ 26 ہزار 469 جبکہ اخراج 7 لاکھ 19 ہزار 172 کیوسک ،سکھر بیراج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 40 ہزار 295 جبکہ اخراج 6 لاکھ 15 ہزار 995 کیوسک اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 748 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 28 ہزار 423 کیوسک ہے۔کشمور کے مقام پر دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو بیراج میں پانی کی سطح بڑھنے سے کے کے حفاظتی بند ، توڑی بند اور ملاپ حفاظتی بند پر پانی کا دباؤ بڑھ گیا ہے جس کے بعد حفاظتی پشتوں کو مضبوط کیا جارہا ہے، سیلابی پانی کے شدید دباؤ کے باعث سکھر بیراج ڈگمگانے لگا ہے، مرمتی کام نہ ہونے کی وجہ سے بیراج کے کئی دروازوں پر دراڑوں کے نشان واضح ہوگئے ہیں، بیراج پر ٹریفک کو دریائے سندھ کے پانی سے بچانے کے لیے بنائی گئی دیوار بھی مخدوش ہوگئی ہے، دراڑیں پڑنے سے دیوار کا بیشتر حصہ کسی بھی وقت دریا میں گرنے کا خدشہ ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے بیراج کو ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کردیا گیا ہے جب کہ رینجرز نے مورچے قائم کرلئے ہیں۔ اس کے علاوہ نواب شاہ میں بھی دریا میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔پی ایم ڈی اے پنجاب کے مطابق محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق دریائے ستلج، راوی اور چناب معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں تاہم دریائے سندھ میں چشمہ بیراج پر پانی کی آمد 5 لاکھ 45 ہزار 165ٍ اور اخراج 5 لاکھ 41 ہزار 665 کیوسک، جناح بیراج میں پانی کی آمد 4 لاکھ 93 ہزار اور اخراج 4 لاکھ 88 ہزار کیوسک ہے، دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر کل صبح تک 5 لاکھ 50ہزار کیوسک سیلابی ریلے کے گزرنے کا امکان ہے، اس لئے کالاباغ سمیت دریائے سندھ کے اطراف تمام اضلاع کی انتظامیہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات کرے۔جنوبی پنجاب کے اضلاع میں دریائے سندھ اور برساتی ندی نالوں کی تباہ کاریاں جاری ہے، تونسہ کے مقام پرتین روز قبل سیلابی ریلے سے انڈس ہائی وے بہہ جانے کے بعد پنجاب اور سندھ کا خیبرپختونخوا سے اب تک زمینی رابطہ منقطع ہے۔ لیہ کے قریب دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 41 ہزارکیوسک ہے، اس کے علاوہ نالہ کریک میں طغیانی کی وجہ سے سیلابی پانی کوٹ سلطان اورجمن شاہ میں داخل ہوگیا ہے۔ دریا خان اور کوٹ مٹھن کیمقام پر دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں بارش کے بعد فورٹ منرو کے قریب پہاڑی تودہ گرنے سے شاہراہ ٹریفک کے لیے بند ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان کا بلوچستان سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، صادق آباد کے قریب حفاظتی بند پر کٹاو شروع ہوگیا ہے۔

مزید : صفحہ اول