تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حامد خان کی بیان بازی کی شدید مذمت

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی حامد خان کی بیان بازی کی شدید مذمت

 لاہور( جنرل رپورٹر) تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر گزشتہ روز حامد خان کی سربراہی میں پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی ،پریس کانفرنس اور ہونے والی بیان بازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پارٹی قیادت سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین کے اشاروں پر تحریک انصاف کی گذشتہ تین برسوں کی اُس جدوجہد کو نقصا ن پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے جس کیلئے پارٹی ورکرز نے جانوں کے نذرانے پیش کئے ،چیئر مین تحریک انصاف کے ایڈوائزر شعیب صدیقی کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں ایم پی اے میاں اسلم اقبال،ڈپٹی آرگنائزر مہر واجد عظیم ،جمشید اقبال چیمہ،میاں منشاء سندھو ،میاں حامد معراج ،میاں محمد افتخار ،خواجہ جمشید امام ،فرخ جاوید مون ،میاں یامین ٹیپو او ر دیگر شُرکا نے کہا کہ لانگ مارچ ،126روزہ دھرنے اور شٹ ڈاؤن تحریک کے قائدین کے خلاف اُن عناصر کا پراپیگنڈہ قابل مذمت ہے جو خود ہر پارٹی ایونٹ سے غائب رہے حتیٰ کہ این اے 125میں انتخابی دھاندلی کے خلاف ہونے والی جدوجہد کا سہرا بھی پارٹی کارکنوں کے سر تھا جہاں حامد خان کبھی نظر نہیں آئے ۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پارٹی ڈسپلن کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کو فوری طور پر پارٹی سے نکال باہر کیا جائے سب جانتے ہیں کہ حامد خان اور اُن کے چند ساتھیوں نے جسٹس افتخار چوہدری کی نئی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کیلئے پی ٹی آئی کے خلاف یہ مہم شروع کر رکھی ہے ماضی گواہ ہے کہ اُن کی اپنی سیاسی حیثیت ہمیشہ سوالیہ نشان رہی ہے ،حتیٰ کہ وکلا برادری نے بھی انھیں جس طرح بار بار مسترد کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ،پارٹی قیادت کے خلاف الزامات لگانے سے پہلے حامد خان کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئیے جنھوں نے ہر مشکل وقت میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے لندن یاترا کو ترجیح دی پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ عمرا ن خان پارٹی کا مفاد بہتر طور پر جانتے ہیں اور گذشتہ تین برسوں میں تحریک انصاف کی کامیاب طور پر قیادت کرنے والوں کے خلاف بیانات دے کر حقائق کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔حامد خان ایک وقت میں مختلف گیندیں اُچھال کر شعبدہ بازی کرنا بند کریں ورنہ پارٹی کارکن خود اُن کی سر کوبی کریں گے ۔اس اجلاس میں حامد خان کے خلاف مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی ۔

تحریک انصاف

مزید : صفحہ آخر