نومنتخب وزیراعلیٰ سندھ کی ترجیحات اور چند گزارشات

نومنتخب وزیراعلیٰ سندھ کی ترجیحات اور چند گزارشات
نومنتخب وزیراعلیٰ سندھ کی ترجیحات اور چند گزارشات

  



پیپلزپارٹی کے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری کا ویژن اب کھل کر عوام کے سامنے آ رہا ہے وہ نہ صرف کارکنوں کی عزت کرتے ہیں، بلکہ ان کو سن کر پارٹی کی پالیسیوں کو ترتیب دے رہے ہیں،اس وقت انہوں نے سندھ میں جو نئے چیف منسٹر کی صورت میں تبدیلی کا آغاز کیا ہے اب ذرا ہم ان کی طرف چلتے ہیں۔وہ پہلی بار 2002ء کے عام انتخابات میں جامشورو کے حلقہ پی ایس73سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔ان کے والد سید عبداللہ شاہ 1993ء سے 1996ء تک سندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، سید مراد علی شاہ نے سندھ کی حکومت کے اچھے اور برے دن بھی دیکھے ہیں اور اس پر اللہ نے انہیں وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز کر کے اس بات کا اب اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ سندھ کی تقدیر کوسنوارنے کے لیے اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان کی 17رکنی نئی کابینہ میں نو وزراء اور چار مشیر اور چار ہی خصوصی معاون ہیں ان میں بہت سے مولا بخش چانڈیو کی طرح سینئر لوگ ہیں، جو خاصے محنتی اور سندھ کی ترقی میں دلچسپی رکھنے والے لوگ ہیں۔جو اپنی صلاحیتوں سے سندھ کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں۔ امید ہے کہ اپنی مضبوط کابینہ کے ساتھ نئے چیف منسٹر صاحب نے اسمبلی کے اپنے پہلے خطاب میں جن باتوں کاتذکرہ کیا ہے ان پر وہ ترجیحی بنیادوں پر کام بھی کریں گے۔اس کے لئے ان کے سامنے قانون کی عملداری انتہا پسندی اور تشدد کا خاتمہ اہم مقاصد ہیں میں سمجھتا ہوں کہ جب تک ان امور پر قابو نہیں پایا جائے گاباقی مقاصد کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔

اس ضمن میں ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومت سندھ پولیس کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کرے، یعنی اس میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں بہتر ٹریننگ اور بہتر سہولتیں مہیا کرے، کیونکہ رینجرز اور آرمی کے اہم کردار کے علاوہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سویلین حکومت کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے ۔ہمیں یہ بھی امید ہے کہ چیف منسٹر سندھ پولیس کو نہ صرف ایک مثالی ادارہ بنائیں گے، بلکہ وہ اس ادارے کو جدید سہولتوں سے آراستہ بھی کریں گے۔دوسری جانب اس وقت حکومت کی کارکردگی کو بہتر کرنا بھی بہت ضروری ہے، جس میں عام آدمی کے وہ مسائل ہیں جس کی بناپر وہ صوبائی حکومت سے نالاں دکھائی دیتے ہیں ان میں کراچی اور سندھ میں موجود پینے کے صاف پانی کا مسئلہ اورخاص طور پر تھر میں پانی اور خوراک کی کمی ہے، جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔سید مراد علی شاہ نے اپنی اسمبلی کی تقریر میں سندھ میں صحت اور تعلیم کو بہتر کرنے کا بھی تذکرہ کیا ہے یہ دونوں ہی شعبے کسی حد تک ماضی میں نظر انداز ہوئے ہیں ،یعنی نئے چیف منسٹر امن وامان کے ساتھ اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ اگر سندھ کے عام آدمی کی زندگی کو بہتر کرنا ہے تو یہی وہ شعبے ہیں جن کی طرف توجہ لازم ہے اگر لوگوں کو تعلیم وہنرسے آراستہ کردیا جائے تو سندھ کے نوجوان نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی ترقی کے لئے اہم کردار ادا کر سکیں گے ، مَیں نے حال ہی میں اندرون سندھ کے چند ایک مقامات کا دورہ کیا ہے، پرائمری اور ہائی اسکولوں کی حالت زار شائد اس قدر اچھی نہیں یہاں بنیادی سہولتوں کے ساتھ تجربہ کار اساتذہ کی کمی کا سامنا ہے لہٰذا حکومت کی ترجیحات میں پورے صوبے کے پرائمری سکولوں اور ہائی سکولوں کو بہتر کرنا ضروری ہے ۔

تعلیم کے بعد اسی طرح ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کو صحت کی ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں فی الحال عام آدمی کے لئے سندھ بھرکے ہسپتالوں میں سہولتوں کی اس قدر کمی ہے کہ غریب آدمی کی زندگی کا بچنا یا ان ہسپتالوں سے صحت یاب ہوکر نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا اِسی طرح نہ صرف ہسپتالوں کو بہتر کرنا، بلکہ آبادی کے بڑھتے ہوئے تقاضوں کی وجہ سے نئے اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں کو بنانا بھی ضروری ہے یہ بنیادی چیزیں اگر بہتر انداز میں وزیراعلیٰ سندھ کے ماتحت کام کریں گی تو سندھ میں ایک ایسی شاندار تبدیلی کا آغاز ہو گا کہ ناقدین کے بت پاش پاش ہو جائیں گے۔ اس کا حل اور کام کا انداز بھی شاید اسقدر مشکل کام نہیں ہے،کیونکہ سالانہ صحت اور تعلیم کے نام پر جو بجٹ متعلقہ محکموں کو ملتا ہے اس کاصحیح اور جائز استعمال ان تمام کمیوں کو پورا کرنے میں کافی ہے یہ ترقیاں خود بہ خود ہی ہونا شروع ہو جائیں گی نئے وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ میں کرپشن کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کروں گا۔اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سندھ کی ترقی صرف عمل کی محتاج بن کر رہ گئی ہے نئی کابینہ نیا عزم اور سب سے بڑھ کر نئی جنریشن کا چیف منسٹر یہ سب سندھ کی فلاح وبہبود اور بڑھتی ہوئی غربت کے خاتمے کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ نومنتخب وزیراعلیٰ سندھ کا پالیسی بیان نہ صرف دھماکے دار ہے،بلکہ یہ عوام کے لئے نہایت ہی امید افزا ہے،بلکہ یہ ڈیڑھ سال کے بعد جو2018ء کے انتخابات ہونے جارہے ہیں اس میں بھی پیپلزپارٹی کی نیک نامی میں اضافہ کر سکتاہے وگرنہ جو مایوسی اس وقت سندھ کے عوام میں پھیل چکی ہے وہ جوں کی توں رہے گی اور اس سے آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کا سیاسی مستقبل بھی غیر محفوظ ہو سکتاہے۔

مزید : کالم