دنیا کی مظلوم ترین دربدر مسلمان اقلیت روہنگیا پر ایک آفت اور ٹوٹ پڑی

دنیا کی مظلوم ترین دربدر مسلمان اقلیت روہنگیا پر ایک آفت اور ٹوٹ پڑی
دنیا کی مظلوم ترین دربدر مسلمان اقلیت روہنگیا پر ایک آفت اور ٹوٹ پڑی

  

ڈھاکہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)میانمر کی مسلمان اقلیت روہنگیا، جنہیں اپنے خلاف فوجی مہم سے بچنے کے لیے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں فرار ہونا پڑا تھا، اب انہیں ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ ہے شدید بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ۔ حالیہ بارشوں ں سے ان کے پناہ گزین کیمپوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ساحلی شہر کاکسس بازار کے عہدے داروں نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 40 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں ان کیمپوں سے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔عہدے داروں نے بتایا کہ مون سون میں سیلابوں کی خطرے کے پیش نظر مزید پناہ گزینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔

کاکسس بازار کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ پچھلے ہفتے شہر میں 500 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ بدھ کے روز کتوپالونگ میں 350 ملی میٹر بارش ہوئی۔لینڈ سلائیڈنگ سے پناہ گزینوں کے عارضی ٹھکانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔پچھلے ہفتے بارشوں سے کے نتیجے میں ایک بچے سمیت پانچ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

پہاڑی علاقے میں پناہ گزین کیمپوں سے محفوظ مقامات پر جانے والے روہنگیا خاندانوں نے بتایا کہ نئے کیمپ محفوظ ہیں لیکن یہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہے۔ایک پناہ گزین شمس العالم کا کہنا تھا کہ ہمیں چاول تو دے دیے گئے ہیں، لیکن انہیں پکانے کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ بارش کے پانی میں اضافے نے وبائی امراض کے خطرات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر بچوں میں ہیضے کے خطرے کو۔روہنگیا میانمر کی ایک ایسی اقلیت ہے جس میں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سن 2017 کے ایک تخمینے کے مطابق ان کی آبادی دس لاکھ کے قریب ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دس لاکھ روہنگیا پناہ گزین تو صرف بنگلہ دیش میں ہی موجود ہیں جنہیں میانمر کی فوج کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش داخل ہونا پڑاہے ۔

مزید : انسانی حقوق /بین الاقوامی