الیکشن کمیشن کی ساکھ 

الیکشن کمیشن کی ساکھ 
الیکشن کمیشن کی ساکھ 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قومی انتخابات مکمل ہوئے۔ فریق تو کئی ہیں لیکن ملا جلا کر دو بڑے فریقوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو حکومت سازی کے لئے جتن کر رہے ہیں، دوسرے وہ ہیں جو حکومت کو مزاحمت پیش کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔

انتخابات کے نتائج کچھ اس طرح سامنے آئے ہیں کہ انتخابی عمل میں ایک دوسرے کے مخالف اب حلیف بن رہے ہیں۔ تحریک انصاف نے کراچی میں ایم کیو ایم کو تاریخی شکست سے دوچار کیا لیکن حکومت سازی کے مرحلے میں دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے۔

انتخابات سے قبل ایک دوسرے کے شدید مخالف پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ بڑی طاقت ور حزب اختلاف بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ قائد حزب اختلاف کا عہدہ ان کے حصے میں آئے۔

ن لیگ عدوی لحاظ سے پیپلز پارٹی پر بھاری ہے وہ یہ عہدہ اپنے پاس رکھنے کی خواہش مند ہے۔ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیاں سینٹ کے انتخابات میں مفاہمت سامنے آئی تھی جس کے نتیجے میں ن لیگ کے حصے میں محرومیت آئی تھی۔ یہ وفاق کا منظر نامہ ہے۔ 

صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں کے اتحاد گرینڈ ڈیموکریٹک آلائنس (جی ڈی اے) نے اکثر حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے جن کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ تھا۔

جی ڈی آے کے سربراہ پیر پگارو بنائے گئے تھے ۔ پیر پگارو اپنے مریدوں کی حر جما عت کی بنیاد پر اکثر سیاسی رہنماؤں میں قد آور تصور کئے جاتے ہیں۔ ضلع سانگھڑ، خیرپور اورعمرکوٹ میں ان کے مریدوں کی بھاری تعداد رہائش رکھتی ہے۔

ان ہی علاقوں سے فنکشنل لیگ کے امیدواروں کی انتخابات میں کامیابی یقینی سمجھی جاتی ہے لیکن حالیہ انتخابات میں اس کے امیدواروں کی شکست نہ صرف جی ڈی اے کے لئے سوالیہ نشان ہے بلکہ خود پیر پگارو کے لئے بھی فکر کرنے کا موقع ہے کہ ان کے نامزد امیدواروں کو ناکامی کیوں ہوئی۔

حد تو یہ ہے کہ پیر پگارو کے چھوٹے بھائی اور سندھ فنکشنل لیگ کے صدر صدر الدین راشدی عرف یونس سائیں کو حروں کی محفوظ نشست پر شکست ہوگئی۔ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی، انتخابی کام میں سست روی یا پھر کچھ اور، یہ تو پیر پگارو ہی بتا سکتے ہیں۔

انہیں اپنی انتخابی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے ۔ جی ڈی اے کے ایک اور اہم رہنماء غلام مرتضے جتوئی کی شکست ہے۔ ذوالفقار مرزا کی شکست ہے۔ فہمیدہ مرزا بہت ہی کم ووٹوں سے کامیابی حاصل کر سکیں ۔ ارباب غلام رحیم کی شکست ہے۔ یہ تمام یا دیگر امیدواران انتخابات میں نئے تو نہیں تھے ۔ پھر ان لوگوں کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ 

جی ڈی اے کے قیام کی بنیاد پیپلز پارٹی کی کرپشن کے خلاف تھی۔ کوئی جلسہ اور جلوس ایسا نہیں تھا جس میں جی ڈی اے کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کے خلاف اپنے اس الزام کو نہ دہرایا ہو۔

انہوں نے اپنے سامعین کو یہ نہ بتایا ہو کہ ان کی بنیادی سہولتوں کے سلسلے میں مختص سرکاری رقوم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے خرد برد کر لی ہیں۔آصف زرداری، فریال تالپور اور دیگر اس زمرے میں آتے تھے جن پر الزامات لگائے جاتے تھے ۔

جی ڈی اے کے رہنما بتائیں کہ کیا عوام نے ان کے الزامات کو رد کردیا ۔ کیا عوام نے ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر کان نہیں دھرے دوسرے الفاظ میں عوام نے ان الزامات کی سچائی پر سوالیہ نشان لگا دئے۔

وہ اس لئے کہ عوام نے تو 2013کے انتخابات سے زیادہ نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو حالیہ انتخابات میں کامیاب کیا ہے۔ 2013کے انتخابات کو ڈبے بھرو انتخابات قرار دیا گیا تھا لیکن حالیہ انتخابات میں کیا ہوا۔ پیپلز پارٹی کے تیرہ امیدواروں کو قومی اسمبلی میں ایک ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔ 

سندھ میں قومی اسمبلی کے اکسٹھ حلقے ہیں۔

۔ تمام حلقے اندرون سندھ واقع ہیں جہاں سے امیدواروں کو ایک ایک لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ ان میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے شوہر میر منور تالپور بھی شامل ہیں۔

ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرنے والوں میں عمرکوٹ این اے 220پر پیپلز پارٹی کے یوسف تالپور سر فہرست ہیں ۔ ان کے ووٹوں کی تعداد سب سے زیادہ 162979 ووٹ ہے ۔ ان کے مخالف امیدوار تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی نے بھی لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کئے جو 104267 ہیں۔ اس حلقے میں ووٹ ڈالنے کی شرح 61.96 فیصد رہی۔ شاہ محمود کو یوسف تالپور کے ہاتھوں دوسری مرتبہ شکست ہو ئی ہے۔

شاہ محمود اس مرتبہ دو حلقوں سے امیدوار تھے ۔ دوسرے حلقے سے بھی شکست سے دوچار ہوئے ۔ ٹھٹھہ این اے 232میں شمس النسا نے 152691 ووٹ حاصل کئے ۔ انہوں نے اپنے قریب ترین حریف کو سب سے زیادہ ووٹ 133791 سے شکست دی۔ جامشورو این اے 233 میں سکندر علی راہو پوٹو نے 133492، سجاول این اے 231 میں سید ایاز شیرازی نے 129980، نوشہروفیروز این اے 211 میں سید ابرار علی شاہ نے 110914 ، شہید بے نظیر آباد این اے 214 پر سید غلام مصطفے شاہ سے 110902، مٹیاری (ہالہ) این اے 223 پر مخدوم جمیل الزمان نے 109960 ، خیرپور این اے 208 پر نفیسہ شاہ نے 107847، تھرپارکر این اے 222 پر مہیش ملانی 106630 ( ووٹ ڈالنے کی سب سے زیادہ شرح ریگستانی ضلع تھر پارکر کے حلقہ این اے 222 میں رہی ۔ جو 70.91 رہی۔ اس حلقہ میں ہندو آبادی کی اکثریت ہے)۔ ، میرپور خاص این اے 219 پر میر منور تالپور نے 105823، سانگھڑ این اے پر 217روشن جونیجو نے 102361، شہید بے نظیر آباد این اے 213پر آصف علی زرداری نے 101326 ووٹ حاصل کئے ۔ 

کسی کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو اس بھاری انداز میں کامیاب کراتا یا جی ڈی اے کے امیدواروں کو اس طرح ناکامی سے دوچار کراتا جیسا پاک سر زمین پارٹی کے امیدواروں کے ساتھ ہوا۔ جی ڈی اے تو مضبوط سیاسست دانوں کا طاقتور اتحاد ہے۔

اس کے امیدواروں کے ایجنٹوں کو پولنگ عملہ فارم 45 مکمل کرکے فراہم نہ کرے ، مشکل سے یقین آنے والی بات ہے۔ الیکشن کمیشن کی وضاحتیں انتخابات میں ناکام ہونے والے امیدواروں کے لئے طفل تسلی سے زیادہ نہیں کمیشن کو اپنی ساکھ اور انتخابات کے بھرم کی خاطر معاملات کو مزید واضح کرنا چاہئے ۔ 

مزید : رائے /کالم