پرویز خٹک کو وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بناتے؟

پرویز خٹک کو وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بناتے؟
پرویز خٹک کو وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بناتے؟

  

عمران خان کہا کرتے تھے کہ خیبر پختونخوا میں تعلیم کا نظام اس قدر اعلیٰ ہوچکا ہے کہ لوگوں نے پرائیویٹ سکولوں سے بچے نکال کر سرکاری سکولوں میں ڈالنا شروع کردیئے ہیں۔

عمران خان یہ بھی بتاتے تھے کہ صحت کا نظام جیسا خیبر پختونخوا میں ہے، ویسا پورے ملک میں نہیں ہے ، وہ خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔ آج ہی ایک صاحب ہمیں بتارہے تھے کہ خیبر پختونخوا میں پٹوار خانے سے زمین کی فرد بیس روپے میں مل جاتی ہے ۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں پولیس آن لائن ایف آئی آر درج کرلیتی ہے اور عوام کو اس طرح دھکے نہیں کھانا پڑتے جس طرح پنجاب میں ہوتا ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ اگر خیبر پختونخوا نے پرویز خٹک کی قیادت میں اتنا اعلیٰ پرفارم کیا ہے کہ دوبارہ سے تحریک انصاف بھاری مینڈیٹ لے کر کامیاب ہوئی ہے تو پھر پرویز خٹک کو دوبارہ سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کیوں نہیں بنایا جا رہا ہے ، خاص طور پر جب کہ ان کی اپنی خواہش بھی ہے !اگر پنجاب میں شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ کام کرکے پارٹی کی صدارت کے عہدے پر پہنچ سکتے ہیں تو پرویز خٹک کی بھی ویسی ہی پذیرائی کیوں نہیں ہو رہی ہے ۔

خالی ایک پرویز خٹک ہی نہیں ، ہم نے تو دیکھا ہے کہ جناب میاں محمودالرشید بھی یوسف بے کارواں بنے پھر رہے ہیں کہ وزارت اعلیٰ کے لئے انہیں تو شائد ان کے اپنے گھر والے بھی اہل نہ سمجھتے ہوں گے ۔ پاکستان تحریک انصاف سے ایسی بے انصافی کی توقع کم از کم پرویز خٹک اور میاں محمود الرشید کو نہیں ہوگی۔ آخر عمران خان لوگوں سے اپنی وفاداری کے بیان حلفی لے کر کب تک حکومت چلا سکیں گے ؟

پھر یہ لطیفہ بھی عجب ہے کہ ہمارے پی ٹی آئی کے دوست کہتے ہیں چونکہ عمران خان کرپٹ نہیں ہے اس لئے وہ ملک میں کرپشن نہیں ہونے دے گا۔ چونکہ عمران خان غلط نہیں ہے اس لئے وہ ملک میں کچھ غلط نہیں ہونے دے گا۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ ایک گھر میں دس افراد ہوں اور ایک سے بڑھ کر ایک لفنگا ہو، شرابی کبابی ہو، جواری ہو، قاتل ہو اور ڈاکو جب کہ ان میں سے صرف ایک صوم و صلوٰۃ کا پابند ہو تو وہ ایک کس طرح دیگر نو افراد کو سیدھا رکھ سکتا ہے جبکہ معاشرے میں بھی ویسی ہی علتیں عام ہوں۔ لیکن اگر پھر بھی ہمارے پی ٹی آئی کے دوستوں کا اصرار ہے کہ عمران خان اکیلے نیا پار لگادیں گے تو دیکھتے ہیں کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے بعد وہ جہانگیر ترین کی گرفتاری کا حکم دیتے ہیں یا نہیں جنھوں نے دن دیہاڑے لوگوں کی ہمدردیاں خریدی ہیں اور ہارس ٹریڈنگ کرکے عمران خان کا نام بدنام کیا ہے ۔

یہ بات تواتر سے کہی جا رہی ہے کہ پاکستان کی فوج نے فیئر انتخابات کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں فیئر انتخابات نہ بھی ہوتے تو فوج کی صحت پر کیا اثر پڑنا تھا ؟ پولیس کی طرح اس کی ذمہ داری تو محض ووٹروں کو سیکورٹی فراہم کرنا تھی ، لہٰذا جس طرح انتخابات کے نتائج کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں ، اسی طرح فوج کے جوانوں کا بھی نہیں ہونا چاہئے ۔

اس لئے فوج کے جوانوں کو گلدستے پیش کرنے والوں نے کیا سوچ کر یہ کام کیا ؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ عوامی مقامات پر جبب بھی دہشت گردی ہوتی ہے تو پولیس کے جوان سب سے پہلے اس کا نشانہ بنتے ہیں !حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اور نگران حکومتیں اپنا آئینی کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہیں ۔ ان دونوں کے کمزور کردار کی وجہ سے پاکستانی عوام کمزور ہوئے ہیں ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 70حلقوں پر دوبارہ سے گنتی کا حکم ازخود کمیشن کے چیف اور دیگر اہلکاروں کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے ۔ انہیں استعففیٰ ہی نہیں دینا چاہئے بلکہ ان سے قوم کا 21ارب روپیہ بھی نکلوانا چاہئے۔ لیکن ہم ہیں کہ پہلوان کی طرح وہاں زور نہیں لگا رہے ہیں جہاں لگانے کی ضرورت ہے!

دوسری جانب میڈیا کے بڑے بڑے اینکر پرسن بھی اس طرح الیکشن کمیشن کو کوس رہے ہیں جس طرح وہ خود کسی کے دباؤ میں تھے ہی نہیں ! سابق وزیر اعظم نواز شریف نے یونہی تو نہیں کہا تھا کہ اگر 30فیصد میڈیا بھی اٹھ کھڑا ہو اور انتخابات سے قبل ہونے والی دھاندلی پر آواز بلند کرے تو حالات کو صحیح ڈگر پر لایا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے تو یہ سوال بھی کیا تھا کہ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کی نشریات اور ڈسٹری بیوشن کو بند کردیا جائے لیکن وہ بھی کتنے دن بند رکھی جا سکتی ہے !....تاہم نواز شریف کی جانب سے اس اہم گفتگو کے باوجود میڈیا ہاؤسز کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج کامران خان الیکشن کمیشن آف پاکستان کو یوں کوس رہے ہیں جیسے خود وہ بڑے تیس مار خان ہوں۔

تبھی تو امتیاز عالم نے بھی الیکشن ٹرانسمیشن میں حامد میر کے اس گلے پر کہ آپ عمران خان کو برا کہتے ییں تو شہباز شریف کو کیوں نہیں کہتے ،کہہ دیا تھا کہ ہم تو ہمیشہ سے آواز بلند کرتے آئے ہیں ، تم نئے نئے ٹارزن بنے ہو!ملک بھر کی سیاسی جماعتیں الیکشن میں دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں لیکن کوئی ایک بھی عدلیہ سے رجوع کرنے کی بات نہیں کر رہی ہے ۔

اس کے برعکس ان کے نزدیک یہ عمل زیادہ مستحسن ہے کہ وہ عوام کو لے کر سڑکوں پر نکل آئیں، خیر سے اے این پی تو نکل بھی آئی ہے اور مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی میں بھی اس حوالے سے ایک ملاقات ہوئی ہے ۔

عدلیہ میں اگر دیکھیں تو سوائے اوپر کے ججوں کو چھوڑ کر نیچے کی عدلیہ میں جس طرح انصاف کی نیلامی ہوتی ہے اور جس طرح انصاف کے نام وکیل اور جج مل کر انصاف کا مذاق اڑاتے ہیں اس سے بھی اندازہ ہو جاتا ہے کہ عدلیہ کتنی مضبوط ہے ۔

یہی نہیں ہماری بیوروکریسی کو دیکھ لیجئے ، اوپر کی سطح پر اعلیٰ پڑھے لکھے افسر دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن جوں جوں بات نیچے آتی ہے تو سیکشن افسر اور کلرک کی سطح پر جس قدر سڑاند آتی ہے اس سے تو انسان کا دماغ پھٹ جاتا ہے ۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر جگہ پر ہم اوپر اوپر سے لیپا پوتی کے عادی ہو چکے ہیں اور ان کے نیچے سسٹم کو ٹھیک کرنے کی نہ ضرورت محسوس کرتے ہیں اور جرات کرتے ہیں۔

پاکستان ٹھیک کرنا ہے تو مطالعہ پاکستان ٹھیک پڑھائیے وگرنہ یہ قوم اسی طرح ذلیل و خوار ہوتی رہے گی!...بتائیے ملک کی سترسالہ تاریخ میں کون کون کہاں کہاں غلط رہا ہے ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمارے بچے بھی کل کو ایسے ہی کنفیوز گھومتے نظر آئیں گے!

مزید : رائے /کالم