A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

ڈیم بنانے کیلئے پیسے جمع کرنے کا سب سے آسان طریقہ سامنے آ گیا، جان کر چیف جسٹس بھی بے حد خوش ہو جائیں گے

ڈیم بنانے کیلئے پیسے جمع کرنے کا سب سے آسان طریقہ سامنے آ گیا، جان کر چیف جسٹس بھی بے حد خوش ہو جائیں گے

Aug 03, 2018 | 13:04:PM

سرگودھا (ویب ڈیسک) سرگودھا کی سب سے قیمتی شاہراہ یونیورسٹی روڈ پر 104 کنال پر مشتمل کمشنر ہاﺅ س سرگودھا پنجاب بھر کے دیگر سرکاری رہائشگاہوں کی قیمتوں سے بازی لے گیا۔ اہل نظر کے مطابق کمشنر ہاﺅس سرگودھا کی مالیت 10 ارب سے زائد کی ہے جہاں پر کمشنر سرگودھا کے عہدے پر تعینات موجود آفیسر ظفر اقبال اپنے 8ملازمین کے ساتھ شاہانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔شہریوں کاکہنا ہے کہ   ڈیم 100 ، سو روپے کے فنڈ سے نہیں بنے گا بلکہ ڈیم سرکاری رہائشگاہوں اور سرکاری رقبے کو فروخت کرکے بن سکتے ہیں اور مطلوبہ رقم کا ہدف جلد از جلد پورے ہونے کا امکان ہے ۔ 

روزنامہ خبریں کے مطابق کمشنر ہاﺅس کی وسیع جگہ پر دھوبی نے سرکاری امور نمٹانے کے ساتھ ساتھ پبلک لانڈری بھی قائم کررکھی ہے جہاں پر خیال کیا جاتا ہے کہ 200 سے زائد دیگر شہری حلقے ہفتہ وار مستفید ہورہے ہیں۔ کمشنر ہاﺅس سرگودھا کی عمارت باہر سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔ سرگودھا انتظامیہ کی دلچسپی کے باعث دیوار پر خوبصورت کڑھائی کے نقش و نگار بنائے گئے ہیں جس پر تقریباً 20 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات آئیں ہیں جبکہ کمشنر ہاﺅس کی اندرونی پوزیشن ایک ریاستی مشینری چلانے کے مطابق ڈھالی گئی ہے۔ سرگودھا ڈویژن کے چاروں اصلاح سرگودھا، میانوالی، بھکر، خوشاب کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی اہلکاروں کے ساتھ کمشنر ہاﺅس کا 24 گھنٹے رابطہ بتایاجاتا ہے تاکہ ڈویژن میں قیام امن اور خصوصاً انتظامی امور احسن طریقہ سے سرانجام دئیے جاسکے۔ کمشنر ہاﺅس سرگودھا میں پالتو بھینسوں کی موجودگی کا بھی انکشاف ہو اہے جبکہ بھیڑ بکریاں اور دیسی مرغیوں کی موجودگی بھی پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے جنرل الیکشن میں کامیاب جماعت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے بڑی سرکاری عمارتوں کے حوالے سے قدم اٹھانے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ کمشنر ہاﺅس جیسی بڑی بڑی عمارتیں قوم کے خزانے پر بوجھ ہیں، ان کو محدود کرنے کیلئے اقدامات کا ساتھ دیا جائے گا۔

ساہیوال جب ضلع تھا تو ڈپٹی کمشنر ساہیوال کی رہائش گاہ کا رقبہ 98کنال پر مشتمل تھا اور ڈی پی او ساہیوال کی رہائش کا رقبہ98 کنال پر محیط تھا لیکن جب ساہیوال کو ڈویژن کا درجہ دے دیا گیا تو اس وقت کے کمشنر طارق محمو دنے محکمہ انہار کا قدیم ریسٹ ہاﺅس کینال ریسٹ ہاﺅس کو اپنی رہائش گاہ میں تبدیل کرواکر کروڑوں روپے سے رینوویشن کروالیا اور اب موجودہ کمشنر ہاﺅس 65 کنال پر واقع ہے جب کینال ریسٹ ہاﺅس پر انتظامیہ نے کمشنر ہاﺅس بنایا تو اس وقت محکمہ انہار اور انتظامیہ کے ساتھ کئی روز جنگ جاری رہی، بالآخر یہ کینال ریسٹ ہاﺅس کمشنر ہاﺅس میں تبدیل ہوگیا۔ ڈپٹی کمشنر ساہیوال کا رقبہ کم نہ ہوسکا اور اس کی رہائش گاہ کا رقبہ 98کنال پر ہی مشتمل ہے۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر ساہیولا کی رہائش کا رقبہ 98 کنال تھا جب ساہیوال ڈویژن بنا تو آر پی او ساہیوال کی رہائش کے لئے اس رقبے سے 40 کنال پر ہی مشتمل ہے۔

اسی طرح ڈپٹی کمشنر ساہیوال کی رہائش کا رقبہ 98 کنال تھا جب ساہیوال ڈویژن بنا تو آر پی او ساہیوال کی رہائش کے لئے اس رقبے سے 40 کنال پر ان کی رہائش گاہ کو تبدیل کردیا گیا اور ڈی پی او ساہیوال کی رہائش گاہ 58 کنال پر مشتمل ہے۔ اسی طرح ساہیوال ڈویژن کے ایس ای انہار کی رہائش گاہ 56 کنال کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ ایس ڈی اوز انہار کی رہائشیں بھی 20 سے 25 کنال پر مشتمل ہیں جبکہ بلدیہ ساہیوال چیئرمین بلدیہ کے لئے فائیویز چوک میں راچڈیل ہاﺅس کے نام سے جانا جاتا تھا یہ بھی 10 سے 15کنال پر پھیلا ہوا ہے اب اس جگہ پر اے ڈی سی جی نے اپنی رہائش بنالی ہے۔ اس کے علاوہ اے ڈی سی جی کی سابقہ رہائش گاہ جو 10 سے 20کنال پر مشتمل ہے اس میں کوئی اعلیٰ سرکاری عہدیدار رہائش پذیر ہے۔

اسی طرح محکمہ بلڈنگ، محکمہ ہائی وے، پراونشل بلڈنگ اور پراونشل ہائی وے کے ایس ای اور ایکسین اور ایس ڈی او کی رہائش گاہیں بھی 10 سے 12 کنالوں پر مشتمل ہیں۔

مزیدخبریں