عمران خان بے بس ہوگئے کیا ؟

عمران خان بے بس ہوگئے کیا ؟
عمران خان بے بس ہوگئے کیا ؟

  

تحریک انصاف کی حکومت سازی میں مشکلات کی طرف آنے سے قبل اس نظام کے کچھ چھپے گوشوں پہ نظر ڈال لی جائے تو زیادہ بہترہوگا۔ الیکشن سے قبل ٹکٹ کی تقسیم کے دوران تحریک انصاف نے اپنے جملہ امیدواروں سے ایک بیان حلفی لیا تھا کہ اگر ہمیں پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو ہم پارٹی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن نہیں لڑیں گے۔ مگر 62/63 کی موجودگی میں اس کے باوجود اپنے ہی حلفیہ بیان کے خلاف الیکشن لڑ کر اپنی ہی پارٹی کو نقصان پہنچانے والے امیدواروں کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ 

اسی طرح تحریک انصاف کے کچھ جیتنے والے امیدواروں نے اپنے اپنے ضلع میں اپنی ہی پارٹی کے امیدواروں کے خلاف مخالف جماعت کے امیدواروں کے ساتھ صرف اس لئے ساز باز کی اور اپنی ہی پارٹی کے امیدوار کے نتائج تبدیل کروانے میں مخالف امیدوار کی معاونت کی کہ کہیں متوقعہ وزارت مجھ سے نہ چھن جائے۔ اپنی جماعت سے غداری کے باوجود وہ اراکین پارٹی کے ممبرز بھی ہیں اور آئندہ کے لئے کسی وزارت کے امیدوار بھی۔

پہلے مرحلے میں اگر دیکھا جائے تو اس نظام نے ایک ابھرتی ہوئی پارٹی کو اندر سے توڑا، کہیں پہ ٹکٹ کی تقسیم پر تو کہیں پہ پس پردہ مخالف امیدواروں کی حمایت کر کے، اس سے نقصان یہ ہوا کہ پاپولر پارٹی کی ساکھ عوام میں خراب ہوئی اور ٹرن آوٹ محدود رہا اور تحریک انصاف کو صرف وہی سیٹیں ملیں جن کی اس سسٹم کے تحت توقع کی جارہی تھی۔ 

دوسرا مرحلہ حکومت سازی کا ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں نے اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود جمہوری اقدار کے خلاف تحریک انصاف کے خلاف محاذ کھولنے کی منصوبہ بندی شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ خود تحریک انصاف کو غیر اخلاقی اور غیر قانونی اقدام اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

جس میں آزاد امیدواروں کی ناز برداریاں اور بارگیننگ شامل ہے۔ اب ان کمزور ترین خطوط پر معرض وجود میں آنے والی حکومت ملک میں کیا تبدیلی لے کر آئے گی؟

ایک ایسا انتخابی نظام جس میں جھول ہی جھول ہو جس میں کرپشن لوٹ مار بددیانت بدکردار ،بکنے والے ممبران کو ہارس ٹریڈنگ کی کھلی چھوٹ ہو۔ جن امیدواروں پر قتل جیسے سنگین مقدمات قائم ہوں اور الیکشن لڑنے کی کھلی آزادی ہو ،قبضہ مافیا اور لینڈ مافیا جس نظام میں الیکشن لڑنے کا اہل ہو وہاں پھر خرید و فروخت کے دھندے تو ہو سکتے ہیں۔ کوئی مثبت تبدیلی نہیں آ سکتی۔ 

اگر قانون کے مطابق 62/63 کی چھلنی سے گزار کر امیدواروں کی مکمل چھان بین کر کے الیکشن ہوتے تو آج عمران خان صاحب کو چھانگا مانگا کی یاد تازہ نہ کرنی پڑتی۔عمران خان جیسا آزاد منش اور اپنے قول کا پکا سمجھا جانے والا شخص بھی اگر اس نظام کے سامنے بے بس ہو گیا ھے تو حیران ہونا چاہئے کہ جس کا اپنا موقف یہ تھا کہ آزاد امیدوار بلیک میلر ہیں وہ صرف بلیک میل کرنے کے لئے الیکشن لڑتے ہیں جیت کر کروڑوں روپووں میں ضمیر بیچتے ہیں۔ اور پھر یہ کہ اگر مجھے واضع اکثریت نہ ملی تو میں حکومت کی بجائے اپوزیشن کو ترجیع دونگا۔ آج خان صاحب مجبور ہیں، مخلوط حکومت سازی کے لئے وہ ق لیگ سے بھی اتحاد کر رہے ہیں ۔وہ ایم۔کیو۔ایم کو بھی قریب لانا چاہتے ہیں۔ ممکن ہے وہ کسی سٹیج پہ جا کر پی۔پی۔پی کے سامنے بھی ہتھیار پھینک دیں۔یوں عمران خان صاحب اپنے ہی وضع کردہ اصولوں سے انحراف پر مجبور ہو چکے ہیں۔کس نے خان صاحب کو اس حد تک بیک فٹ پر جانے پہ مجبور کیا ؟؟اس نظام نے۔خان صاحب کو اسی انتخابی نظام نے آج اپنے سامنے تمام تر دعووں کے باوجود بیبس اور مجبور بنا کے کھڑا کر دیا ھے۔ کہ تبدیلی تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے پہلے حکومت تو بنا باقی باتیں بعد کی ہیں۔

جہاں تک انتخابات کے بعد لوٹوں سے نجات کا کام ہے تو اس نظام انتخاب کو بدلے اور ایک بے رحمانہ احتساب کیے بغیر نہ تو لوٹوں کو روکا جا سکتا ھے اور نہ ہی جیتنے والے گھوڑوں کو نکیل ڈالی جا سکتی ھے۔نہ تو ضمیر کے سوداگروں کا کوئی حل ہے اور نہ ہی ضمیرفروشوں کا نہ قبضہ ،مافیا اور لینڈ مافیا سے نجات ممکن ہے اور نہ قتل کے مجرموں کو اسمبلی تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہی کہ ڈاکٹر طاھرالقادری کے نعرے احتساب ،اصلاحات اور پھر انتخابات میں جان نظر آتی ہے۔ بصورت دیگر تبدیلی کا کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا۔(بلاگر پیشہ کے اعتبار سے بینکر ہیں اور سیاسی و معاشی امور پر بلاگز بھی لکھتے ہیں )

۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید :

بلاگ -