امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(1)

امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(1)
امریکہ، مودی اور ہندوستان کے انتخابات(1)

  

امریکہ نے مذہبی آزادی کے بارے میں جو سالانہ رپورٹ جاری کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں دائیں بازو کی حکومت کے تحت مذہبی عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہندو جتھوں نے مسلمانوں اور دلتوں کو ہراساں کیا، تشدد کیا، انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا اور مذہب کی بنیاد پر قومی شناخت اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ اس رپورٹ پر ہندوستان کا ردعمل وہی تھا جو عام طور پر ایسے معاملات کے بارے میں ہوتا ہے۔ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے ہندوستان کی حکومت نے موقف اختیارکیا کہ کسی دوسرے ملک کو اس کے اندرونی معاملات پر رائے زنی کا حق نہیں اور یہ کہ ہندوستان کا سیکولر آئین ہر فرد کے بنیادی حقوق کا ضامن ہے وغیرہ وغیرہ۔ امریکی کمیشن نے ایسی ہی ایک رپورٹ پاکستان کے بارے میں بھی جاری کی ہے جس میں اگرچہ موجودہ حکومت کی جانب سے بعض اقدامات کی تعریف کی گئی ہے لیکن مجموعی طور پر صورت حال کو منفی قرار دیتے ہوئے وہ پابندیاں بحال کرنے کی خواہش کی گئی ہے۔

جنہیں امریکی حکومت کی وزارت داخلہ نے گزشتہ سال نافذ نہیں ہونے دیا تھا۔پاکستان نے بھی ہندوستان کی طرح رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کڑاسا جواب دیا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان میں آج کل جو گاڑھی چھن رہی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ بھارت سے چند روز قبل خود ان کے اپنے دستخطوں سے جاری کردہ ہندوستان کے بارے میں منفی رپورٹ ذہن میں کئی سوالات اٹھاتی ہے جن کا جواب امریکی آئین کی پہلی ترمیمی شق کی صورت میں امریکی حکومت کی مجبوریاں ہیں۔ اس شق کے تحت مذہبی آزادی بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اس سلسلے میں قائم امریکہ کا بین الاقوامی مذہبی آزادی کا کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے، جو دنیا کے تمام ممالک میں مذہبی آزادی کی صورت حال کے متعلق رپورٹ تیار کرتا ہے، جو امریکی وزیر خارجہ اپنے دستخطوں سے جاری کرنے کا پابند ہے۔ بات یہیں تک محدود نہیں بلکہ ویزے وغیرہ سے متعلق مذہبی آزادی سے متعلق امریکی قانون کے تحت کسی بھی ملک میں سرکاری منصب پر فائز کوئی بھی شخص جو مذہبی آزادی کو کچلنے کا مرتکب پایا گیا ہو امریکی ویزے کا حق دار نہیں رہتا۔

یہ وہی قانون ہے جس کے تحت ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے 2005ء میں جب وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے امریکہ کے لئے سفارتی ویزے کی درخواست نہ صرف مسترد کر دی گئی تھی بلکہ اس سے قبل انہیں عام شہری کے طور پر امریکہ آنے جانے کا جو ویزا جاری کیا گیا تھا وہ بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مودی پر ان دنوں گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں شریک ہونے کا الزام تھا۔ 2012ء میں البتہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے مودی پر الزامات کی تحقیقات کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق ایسی کوئی شہادت میسر نہیں آسکی جس کی بنا پر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکے۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے انہیں ان الزامات سے بری کردیا تھا۔ شاید اسی بنا پر 2014ء میں مودی کے وزیراعظم منتخب ہونے پر امریکہ کی جانب سے سفارتی ویزا بھی جاری کر دیا گیا۔

امریکہ آنے پر ان کا پرتپاک استقبال ہوا تھا اور تب سے دونوں ملکوں کے درمیان محبت کی پینگیں بڑی تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان کئی متنازع معاملات بھی ہیں جن میں ہندوستانیوں کے لئے امریکی ویزے، کمپیوٹر ڈیٹا کا تحفظ، روس سے میزائل خریدنے کا معاملہ اور ایران سے تیل خریدنے پر پابندی کے علاوہ تجارتی لین دین پر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن بین الاقوامی سیاست کے اسرار و رموز سے آگاہ حلقے انہیں نئی نئی شادی کے بعد گھریلو امور خانہ داری پر چخ چخ سے تشبیہ دیتے ہیں جس پر بالآخر میٹھے بول غالب آ جاتے ہیں اور امریکہ کو ویسے بھی طویل المقاصد حکمت عملی کے تحت بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کے لئے ایک اچھے شوہر کی طرح کشادہ دلی کا ثبوت دینا ہوگا۔ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان یہ شادی بہت دیر سے ہوئی ورنہ تو امریکہ جس نے برطانیہ کے خلاف زبردست جنگ کے بعد آزادی حاصل کی تھی اس وقت سے ہندوستان پر فریفتہ تھا جب وہاں برطانیہ کے خلاف آزادی کی تحریک چل رہی تھی۔

امریکہ کو اپنی دانست میں پورا یقین تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی ابھرتی ہوئی جمہوریت آزادی کے بعد اسی کا ہاتھ تھامے گی۔ اسی خیال سے ہندوستان کی آزادی کے فوراً بعد اس کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو امریکہ بلا کر ان کا زبردست استقبال کیا گیا تھا، لیکن امریکہ کو اس وقت زبردست دھچکا لگا تھا جب پنڈت نہرو نے جن کا جھکاؤ روس کی جانب تھا۔ جواب میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا اور یوں حالات کا پلڑا خود بخود پاکستان کے حق میں جھک گیا تھا جس کا وزیراعظم لیاقت علی خان نے، جن کے وفد کو لندن سے امریکہ لانے کے لئے امریکی صدر ٹرومین نے اپنا خصوصی طیارہ بھیجا اور پوری کابینہ سمیت ائرپورٹ پر ان کا استقبال کیا، بھرپور فائدہ اٹھایا تھا۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلقات کی بنیاد لیاقت علی خاں کے اسی دورے میں رکھی گئی۔ یہ اقدام قائداعظمؒ کی پالیسی کے مطابق تھا کیونکہ وہ خودبھی امریکہ سے اچھے تعلقات کے خواہاں تھے لیکن اب 70برس بعد جبکہ بائیں بازو کی تحریک میں دم خم نہیں رہا اور روس سمیت پوری دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام کا غلبہ ہے اور ہندوستان کی مارکیٹ بڑی حد تک امریکی سرمایہ کاروں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ امریکہ اور ہندوستان تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں۔

سرمایہ دارانہ نظام بھارت میں ہنددتوا کے لبادے میں اسی طرح اپنے پنجے گاڑ رہا ہے جیسے اس نے چین میں کمیونزم، مسلمان ملکوں میں اسلام اور مغرب میں سفید فام قوم پرستی کی شکل میں گاڑے ہیں۔ ہندوستان میں کارپوریٹ سیکٹر کے پھیلاؤ اور ہندتوا کے فروغ کے درمیان تعلق واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ جس کا ایک مظہر اگر بی جے پی کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کی بھر پور پشت پناہی تو دوسری طرف اس کا اندازہ ہندتوا کی مخالف نکسل باڑی تحریک کی سرگرمیوں سے بھی کیا جاسکتا ہے جس کے گوریلوں نے حالیہ انتخابات کے دوران متعدد حملوں میں جن میں سے بعض پلوامہ حملے سے کچھ کم نہیں تھے، بی جے پی کے رکن قومی اسمبلی سمیت بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

ماؤ نواز نکسل باڑی تحریک نے جس کا دائرہ کار ہندوستان کے جنوب مشرق میں واقع 8ریاستوں کے 60اضلاع تک پھیلا ہوا ہے۔ ”ساؤتھ ایشیاٹیرر ازم پورٹل“ کی رپورٹ کے مطابق سال رواں کے چند مہینوں میں 53 حملے کئے جن میں بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سمیت 107 افراد ہلاک ہوئے۔ نکسل باڑی تحریک کا دعوی ہے کہ وہ گزشتہ بیس سال کے دوران ان گنت حملوں میں قانون نافذ کرنے والے 2700اہلکاروں سمیت 12ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔ ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش میں جہاں بی جے پی کو ایک فیصد سے بھی کم ووٹ ملے، نکسل باڑی تحریک عوام میں بے حد مقبول ہے۔ دوسری ریاست چھتیس گڑھ میں اگرچہ بی جے پی کی اکثریت ہے لیکن اس کے ضلع لستر میں جہاں رکن قومی اسمبلی کی ہلاکت کے باعث انتخابات کے دوران خوف و ہراس کا ماحول رہا۔ مقامی آبادی نے زبردست مزاحمت کے بعد ہندوستان کے بہت بڑے کارپوریٹ ادارے ٹاٹا اسٹیل کے فولاد ساز کارخانہ لگانے کی کوشش ناکام بنا دی۔

اس کارخانے کے لئے حکومت کی جانب سے دوہزار ایکڑ جگہ مختص کی گئی تھی جس میں دس گاؤں آباد تھے۔ جن کے مکینوں نے گھر چھوڑنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ ٹاٹا اسٹیل کے لئے یہاں فولاد ساز کارخانے لگانے کے لئے بہت بڑی کشش لوہے کے ذخائر کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ آندھرا پردیش کے علاوہ جنوب کی تین ریاستوں میں بی جے پی کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں کیرالا، تلنگانہ اور تامل ناڈوشامل ہیں۔ مغربی بنگال میں اگرچہ بی جے پی نے پہلے سے زیادہ سیٹیں حاصل کیں لیکن وہ ترنمول کانگریس کے مقابلے میں اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ ادھر پنجاب میں بی جے پی مقامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر بھی زیادہ سیٹیں حاصل نہیں کرسکی جبکہ کانگرس کو پہلے کے مقابلے میں دگنی سیٹیں ملیں۔ اسی نوعیت کی کامیابی کانگریس نے کیرالا میں حاصل کی۔ کانگریس مجموعی طور پر 542 میں سے 52 سیٹیں حاصل کر سکی۔ جو اس کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا، جس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کے سربراہ راہول گاندھی نے بالآخر استعفیٰ دے دیا۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -