گھری ہے جمہوریت تماش بینوں میں

گھری ہے جمہوریت تماش بینوں میں
گھری ہے جمہوریت تماش بینوں میں

  


پاکستان میں حکومت کے سیاسی ادوار کو اخباری یا جلوسی بیانات کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو نتائج بہت دلچسپ رہیں گے۔ میں چونکہ سیاسی یا حکومتی عمل سے 1974/75 میں متعارف ہونا شروع ہوا، اس لیے بات بھی وہیں سے شروع کرتا ہوں۔آپ 1975 سے آج تک کی اخبارات میں سیاستدانوں کے بیانات کا اگر بہت موٹا یعنی سیدھا سا تجزیہ بھی کریں تو چند باتیں آپکو یقیناً مشترک نظر آئینگی۔ ایک دوسرے کو کرپٹ کہنا ، جعلی منڈیٹ یعنی دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے جیتنا ، کسی کے کاندھے پر بیٹھ کر اقتدار میں آنا، حکومت بنانے کے لیے ارکان کو خریدنا، مہنگائی سے غریب کا جینا دو بھر کر دینا، بےروزگاری کا بڑھ جانا ، نوجوانوں کو روزگار کا نہ ملنا ، حزبِ اختلاف پر کسے کے اشارے پر انارکی پھیلانے ، ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، قانون شکنی کرنے، جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنے اور عوام کو گمراہ کرنے جیسے الزامات آج بھی لگتے نظر آئیں گے۔ ان تمام سیاسی ادوار میں حکومت اور حزب اختلاف کے بیانات مشترک رہے ہیں اور آج تک ویسے ہی ہیں۔ بالکل ایسے جیسے ایک ہی چھاپے کے بیان ہوں۔

اقتدار سے باہر رہنے والی ہر پارٹی اسٹیبلیشمنٹ پر الزام لگاتی ہے اوراپنی اداؤں پرکبھی غور نہیں کرتی۔دوسری برف ایک بڑا عوامی طبقہ بھی عموماً یہی کہتا سنا جاتا ہے کہ کچھ ادارے مداخلت کرتے ہیں اور اپنی مرضی کی حکومت بناتے ہیں۔ حکومت انکی مرضی کے بنا نہ بنتی ہے اور نہ ہی چلتی ہے۔ لیکن یہ لوگ سیاستدانوں سے بھی نالاں ہوتے ہیں۔

ایسے ہی ایک اور مطالعے سے ایک اور دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کوئی غیر مرئی طاقت سیاستدانوں کی آپس کی لڑائی اور انکی مالی بدعنوانی جو کہ مبینہ نہیں بلکہ واقعاتی ہوتی ہے کو خوب بڑھا چڑھا کر عوام میں پھیلاتی ہے۔ اور پھر سیاستدان کے خلاف ماحول بنا کر کچھ سنگین نوعیت کی افواہیں بھی پھیلائی جاتی ہیں جو اور کردارکشی کےلئے بہترین نسخہ ثابت ہوتی ہیں۔ اس بات سے بھی کبھی گریز نہیں کیا جاتا کہ سیاستدان کو دشمن وطن قرار دیا جائے۔ اور ایسی ذہن سازی کی جاتی ہے کہ مخالف تو مخالف، حامی بھی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور شک کا شکار ہوتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ کسی شخص یا ادارے کو الزام دینے سے پہلے سیاستدانوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اپنا مطالعہ و محاسبہ کرنا چاہیے۔اس میں کیا شک ہے کہ سیاستدان اپنی بدنامی کیلئے کس بھی قوت کو خود یہ موقع فراہم کرتے ہیں۔

ابھی سال پہلے انتخابات ہوئے جن میں دھاندلی اور سلیکٹڈ کے الزامات کا غبار ابھی بیٹھا نہیں تھا کہ کل سے سینٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیسے اور دباؤ کا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔میں سیاستدانوں سے کہوں گا کہ آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں۔

ہم بہت مختصر مشورراتی تجزیہ کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی پہلی بہت بڑی غلطی پارٹی کا خاندانی وراثت ہونا ہے۔ شاید اس لیے کہ پارٹی بنانے چلانے اور فعال رکھنے کیلیے پیسہ چاہیے ہوتا ہے،پیسہ سرمایہ دار کے پاس ہے اور جب وہ رقم خرچ کرتا ہے توغیر اعلانیہ طور پر پارٹی کی ملکیت کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ پارٹی قدم جما لیتی ہے تو مکمل طور پراسکے قابو میں ہوتی ہے۔عوامی پزیرائی کی صورت میں وہ مالک پارٹی ٹکٹ بیچتا ہے اور عمومی حالات میں بھی ہارٹی کے لوگوں اور آس پاس منڈلانے والوں سے پیسہ وصول کرتا ہے۔ ہارٹی فنڈ کی مد میں۔ اور لوگ پیسہ دیتے ہیں کہ کل کو اگر حکومت بنے گی تو فائدہ اٹھائیں گے۔ یوں یہ ایک کاروبار بن گیا ہے اور تینوں بڑی پارٹیوں میں لوگ انویسٹمنٹ سمجھ کر پیسا لگاتے ہیں اور نتیجہ یہ ایک اور پارٹی آئے روز ان سیاستدانوں کو عوام میں ذلیل کرتی ہے۔

سیاستدانوں کو تیس سال پہلے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ ان کا پالا ایک ہوشیار اور باوسیلہ پارٹی سے ہے اس لیے انہیں صاف ستھرا اور دیاندار رہنا چاہیے۔ جب تک سیاستدان خود کو بے داغ نہیں رکھتے اور حکومت یا سیاست کو اپنے کاروبار بڑھانے اور اپنے بچوں کو کھرب پتی بنانے کیلئے استعمال کرنے سے نہیں رکتے اور دوسرے سیاستدانوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کرنا نہیں چھوڑتے ، کوءسیاسی حکومت بااختیار نہیں ہوسکتی اور نہ ہی حقیقی انتخابات ہو سکتے ہیں۔

غیر حقیقی انتخابات ہوتے رہیں گے اور غیر حقیقی جمہوری حکومتیں آتی رہیں گی۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ