عیدقرباں اورانکل جی کی فریج

 عیدقرباں اورانکل جی کی فریج
 عیدقرباں اورانکل جی کی فریج

  


عیدقرباں قریب ہےاورہرطرف اسی کے چرچے،اسی کی تیاری چل رہی ہے،کوئی جانورخریدچکاہے اورکوئی اس کے لیے ابھی منڈیوں کاانتخاب کررہاہے،کہاں اچھااورسستاجانورملے گا کہ کم خرچ بالانشین کے مترادف ٹھہرے،مہنگائی کے جن سے بچتے بچاتے کہاں سے خریداری کی جائے،اس عید پرزیادہ توجہ جانوروں کی خریداری،ان کی قربانی اورسب سے اہم مرحلہ گوشت کی تقسیم اوربعض گھروں میں اس کی ذخیرہ اندوزی کی منصوبہ بندی ہے۔

یہ غالبادوہزارتیرہ کی بات ہے جب مجھے لاہورکےایک معروف علاقے میں مکان کا بالائی حصہ کرائے پرلینے کااتفاق ہوا،شام کے وقت پراپرٹی ڈیلرنےایک شریف النفس آدمی سے ملوایا، ان سے مل کربہت اچھالگاکیوںکہ انہوں نے گھرکی گھنٹی بجانے کے تقریبادس منٹ بعددروازہ کھولااورسلام لیتے ہی کہنے لگے"معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں نمازپڑھ رہاتھا"۔ابتدائی گفتگو کے بعدمکان کے بالائی حصے میں گئے اوراِدھراُدھرکاجائزہ لیا،کچن کے سامنے دیوارکیساتھ ایک فریج دیکھی،مالک مکان کہنے لگے کہ یہ فریج کچھ عرصہ نہیں اٹھائیں گے،پھرہٹادیں گے۔استفسارپرمعلوم ہواکہ اس میں قربانی کاگوشت ذخیرہ کیاگیاہے،نیچے والے گھرمیں جگہ نہیں تھی اس لیے اوپررکھاہے،جس روزہم نے یہ مکان دیکھا تب غالباعیدقرباں کودس روزگزرچکے تھے،عین ممکن ہے کہ ایک فریج نیچے والے گھرمیں بھی ہو جس میں کچھ گوشت سٹورکیاگیاہواوریہ اوپروالا خوراک کے اگلے مرحلے کیلئے ہو سکتا ہے،بہت سے سوالات جنم لیے جن کاقریب قریب جواب مجھے خودبخودہی مل گیا،یہ ان کاذاتی معاملہ تھااس لیے میں نے اس پران سے سوالات بھی نہیں کیے لیکن یہ فریج مجھے اتنے سالوں بعد بھی نہیں بھولی،جب بھی عیدقربان آتی ہے مجھے وہ شام یادآجاتی ہے جب میں نے وہ مکان دیکھا۔

ایک دوسرے واقعہ میں عیدقرباں پرمجھے دوست کی کال آئی سورج ڈھل رہاتھا،کہنے لگے کہ گھرمیں کچھ گوشت ہوتومجھے دے جائیں،یہ سن کرمجھے بھی شرمندگی سی ہوئی کہ جب سب کوگوشت دیاتویہ بندہ مجھے کس طرح بھول گیا؟ خیرکچھ گوشت لے کران کے گھرگیاتوہم لوگ چائے پینے کیلئے انکے کرائے کے مکان کی چھت پرکھڑے ہوگئے جہاں سے گلی کا نظارہ دور دور تک کرناآسان تھا،آسمان کی طرف دیکھتے،چائے کی چسکی لگاتے میرادوست قدرے افسردہ سا ہوااورکہنے لگاکہ تمہیں پتہ ہے میں عیدکی نمازپڑھنے کے بعدیہیں کھڑا ہو کر اپنے بچوں کے ہمراہ گلی میں ذبح ہونے والے جانوردیکھتارہا،کہیں کوئی بکراذبح کیاگیاتوکہیں بیل،کہیں اونٹ کی گردن پرچھری پھیری گئی توکہیں اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے دنبے کاخون بہایاگیا،میرے بچے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ ہم کب قربانی کریں گے؟بچے ہیں نا،انہیں کیاسمجھ،کچھ جواب نہیں دے سکا،پھربیگم نے پوچھاکہ چائے سے ناشتہ توکرچکے ہیں ، دوپہر کوکیاپکائیں گے؟؟؟میں نے اہلیہ کوامیددلائی کہ اتنی زیادہ قربانیاں ہورہی ہیں گلی میں، کہیں ناکہیں سے کچھ گوشت آتاہے توپکالینا"۔جب دوست کے دل کابوجھ ہلکاہواتواس کے رخسارآنسوؤں سے بھرچکے تھے۔۔

ہم نے توعلماء سے یہی سن رکھاتھاکہ "اللہ تعالیٰ کے پاس قربانیوں کاگوشت نہیں پہنچتا اورنہ خون پہنچتاہے بلکہ تقویٰ پہنچتاہے"یعنی قربانی کاگوشت کھاناکوئی مقصدنہیں بلکہ سنت ابراہیمی پرعمل کرتے ہوئے خالص اللہ کے لیے جان قربان کرنااصل مقصد ہے۔

پھریہ کیاہے جوہم میں سے اکثرکررہے ہیں؟محلے دارروٹی کپڑے سے تنگ ہے اورہمیں پورے ایک لاکھ کابیل ذبح کرنے کی فکرہے،پڑوسی کی بیٹی جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بیٹھی بیٹھی بال سفیدکربیٹھی ہے مگریہاں پورے بیس بکروں کی قربانی کرکے نہ صرف تصویریں فیس بک پردنیاکودیکھائی جاتی ہیں اورکہیں میڈیاکوریج شروع ہونے تک قصائی کوچھری پکڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

مجھے اچھی طرح یادہے لاہورکے ایک بڑے کاروباری شخص کے میڈیاکوآرڈینیٹرنے مجھے اسائنمںٹ بھیجی کہ جناب آپ نے توعیدپرلاہورمیں ہونانہیں،یہ کوریج ضرورکرانی ہے۔کوریج کیاتھی اُس بڑے کاروباری شخص نے بڑی تعدادمیں بکروں کی اجتماعی قربانی کرنا تھی اوروہ چاہتے تھے کہ میڈیاپراس کی خبرچلے اورخوب چلے،ہیڈلائنزمیں بھی نظرآئیں اور ٹکرز بھی چلیں۔پھرمیں عیدپرآبائی علاقے چلاگیااورمجھے یادہے کہ میں عیدکی نمازپڑھ کرجب گھرپہنچاتومیرے موبائل فون پر ان کے میسجز کی بھرمارتھی اورفون کالزبے شمارکی گئی تھیں جن مٰیں کہاگیاتھا کہ ساری تیاریاں مکمل ہیں بس آپ کی ٹیم کاانتظارہے۔۔۔۔دل ہی دل میں خیال آیاکہ ایسے لوگوں کوموت کاانتظارنہیں ہوتا؟

عجیب سوچ کےلوگ دنیامیں تشریف لاچکے ہیں کہ دنیاکوتودھوکہ دےہی رہے ہیں،نیکی کےمعاملات میں بھی دھوکےکی کوشش سمجھ سےبالاترہے۔خدابے نیازہے،کس کےساتھ کیامعاملہ فرماتاہے یہ ہمارے علم میں تونہیں مگربظاہرایسی حرکتیں ہمیں سوچنے پرمجبورکردیتی ہیں کہ ہم ایسے اعمال کوبھی ریاکاری کرکے نجانے کیوں ضائع کردیتے ہیں۔عیدقرباں پھرقریب ہے،اللہ تعالیٰ کی رضاکیلئے ہمیں جانورذبح بھی کرنے چاہئیں،خود بھی گوشت کھائیں مگرعزیزواقارب،پڑوسیوں اورمحلے داروں پرنظررکھیں کہ کوئی گھرگوشت سے محروم نہ رہ جائے،کسی کے ہاں نوبت فاقوں کی تونہیں؟کسی کے بچے پرانے کپڑے پہن کرتونہیں گلی میں گھوم رہے؟یادرکھیں کہ مخلوق کورزق دینا،اس کی ضروریات کابندوبست کرنا اور آسانیاں فراہم کرنادرحقیقت رب کائنات ہی کی ذمہ داری ہے مگریہی کام اگرانسان کرناشروع کردیں توپھرخدا کی ذات ایسے اعمال کرنے والے پرکتنی مہربان ہوگی؟خدا کی رضا چاہیے توبندوں کوراضی کریں اوراس کے لیے اپنے گردونواح پر نظررکھیں،ہربندہ ایک بندے کاہی خیال رکھ لے توپورامعاشرہ قربانی کے اصل فلسفے پرعمل پیراہوسکتاہے کیوںکہ قربانی صرف جانورذبح کرنے کاہی نام نہیں،آپ ہرمعاملے میں اس سوچ کواپناسکتے ہیں،اپنے حصے کاگوشت اپنی فریج میں رکھناحرام بالکل بھی نہیں مگرانکل جی کی طرح اتناسٹورکرکے نہ صرف پراناگوشت کھاکرآپ بیمارہوسکتے ہیں بلکہ اس نیکی سے بھی محروم ہوسکتے ہیں جوآپ اپنے حصے کابھی اضافی گوشت بروقت غریبوں کوتقسیم کرکے حاصل کرسکتے ہیں۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، https://www.facebook.com/munazer.ali )

مزید : بلاگ