باراک حسین اوباما دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں

باراک حسین اوباما دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں
باراک حسین اوباما دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں

  

 یہ دور صدارت 2013ءسے شروع ہوگا، لیکن کچھ اچھی خبریں ابھی سے آ رہی ہیں۔ ایک اطلاع ہے کہ امریکہ میں رہنے والے53 ہزار غیر قانونی نوجوانوں کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے اور اب وہ امریکہ میں رہ سکتے ہیں۔ ایک کروڑ بیس لاکھ غیر ملکی نوجوانوں کو، جن میں اکثریت میکسیکو سے تعلق رکھتی ہے، ڈی پورٹ ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ تین لاکھ نوجوانوں نے درخواستیں جمع کرائیں اور اُن میں سے روزانہ چار ہزار آٹھ سو ستائیس افراد کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اِس میں ایک خاص بات یہ ہے کہ ان میں میکسیکو والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ میکسیکو امریکہ کا ہمسایہ ہے، بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ میکسیکو کا ایک بڑا حصہ امریکہ میں ہے جو ایک جنگ کے نتیجے میں امریکہ نے کوڑیوں کے مول خریدا تھا۔ کیلی فورنیا اور اس کے نواح میں سارا علاقہ میکسیکو کا تھا، اس لئے وہاں کے لوگ ہر طرح اس سمت آتے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ ہر روز تقریباً پانچ سو لوگ میکسیکو سے غیر قانونی طریقوں سے امریکہ میں داخل ہو جاتے ہیں۔

میکسیکو جانے کے لئے بارڈر کھلا رہتا ہے، کوئی جانچ پڑتال نہیں ہوتی، بس سیدھے امریکہ سے میکسیکو میں داخل ہو جاو¿، واپسی میں امریکہ سخت تلاشی لیتا ہے۔ گاڑیاں کئی کئی گھنٹے قطار میں کھڑی رہتی ہیں، کیونکہ وہاں کے لوگ کسی نہ کسی طرح امریکہ آنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ میکسیکو ڈرگس اور اسلحہ کی سرزمین ہے۔ امریکہ کو اس پر بھی قابو پانا ہے۔ نوجوان میکسیکو شراب اور شباب کے لئے جاتے ہیں۔ اس پر امریکہ کا کوئی کنٹرول نہیں، لیکن واپسی میں منہ تک سونگھتے ہیں، کہیں شراب پی کر تو نہیں آ رہے۔بعض اوقات سرحد پر چیکنگ کے انتظار میں نشہ یوں بھی کافور ہو جاتا ہے۔صدر بش نے میکسیکو سے آنے والے غیر قانونی تارکین کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، سرحد پر کانٹے دار باڑ لگانے کی کوشش بھی کی، لیکن:

مگر وہ کوہکن رُکتے نہیں دیوار ڈھانے سے

میکسیکو کے لوگ امریکہ کو سستی اور مضبوط مزدوری فراہم کرتے ہیں، ہر سخت اور محنت کا کام یہی انجام دیتے ہیں۔ ایک فلم بنی تھی.... ”اے ڈے وِد آو¿ٹ میکسیکن“ کیلی فورنیا کے لئے وہ دن قیامت کا تھا، کتنی ہی بیویاں جب صبح اُٹھیں تو اُن کے شوہر غائب تھے، کیونکہ وہ میکسیکو کے تھے۔ کھیت کھلیان، سٹور، پٹرول پمپ، سپر مارکیٹ، ٹرانسپورٹ سب اپنی جگہ رک گئیں، میکسیکن چلے گئے تھے۔ دن نہیں گزرا کہ شام کو حکام مجبور ہو کر سرحد پر پہنچے اور میکسیکن کو واپس لے آئے.... یہ تو ایک فلم تھی، لیکن صدر اوباما نے میکسیکو والوں کو قانونی حیثیت دے کر اچھا کیا ہے۔ امریکہ پر دو قوموں کا حق ہے.... سپین والے اور میکسیکو والے.... سپین کے کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور میکسیکو کا ایک بڑا حصہ امریکہ کے پاس ہے۔ بس اب دیکھنا یہ ہے کہ دوسری قوموں کو بھی اس کا کیا فائدہ ملتا ہے؟

امریکہ ”موقعوں کی سرزمین“ ہے۔ یہاں ہر شخص کو زندگی گزارنے کے لئے بہتر مواقع مل جاتے ہیں۔ امریکہ کی ایک پالیسی شروع سے نظر آتی ہے کہ اسے غیر قانونی لوگ پسند ہیں اور ان کی طرف سے یہ درگزر کرتے رہتے ہیں۔ اس کی معاشی وجہ ہے۔ غیر قانونی آدمی کم اُجرت پر کام کرے گا اور کسی قسم کی ڈیمانڈ نہیں کرے گا۔ ڈرا سہما رہے گا، جہاں ملازمت کرے گا، اُس ادارے کو مالی فائدہ ہوگا.... یہ شخص کسی ایسے کام یا سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، جو ملک کے خلاف ہو۔ حکومت کو نہ اُس کی صحت کے حوالے سے کوئی ذمہ داری اُٹھانی ہوگی، نہ کسی قسم کی سیکیورٹی فراہم کریں گے،اس لئے امریکہ میں جو لوگ غیر قانونی رہتے ہیں، وہ زیادہ پریشان نہیں ہوتے تھے، لیکن گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد حالات بدلے.... بدقسمتی سے یہ مسلمانوں کے خلاف گئے اور وہی ہر قسم کی تنقید اور گرفت کا باعث بنے۔

امریکہ اکثر مختلف ملکوں کے غیر قانونی لوگوں کو رعایت دیتا ہے۔ اُنہیں موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنے کاغذات مکمل کر کے امریکہ کی حیثیت میں ہاتھ بٹائے اور اب یہ بات سنجیدگی سے سوچی جا رہی ہے کہ امریکہ کی سرزمین پر رہنے والے لوگوں کو قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہئے تاکہ انتظامیہ کو ہر شخص کے بارے میں مکمل معلومات حاصل رہیں، اسی لئے صدر باراک اوباما نے اس بات کی کوشش کی اور کامیابی حاصل کی کہ امریکہ میں رہنے والے غیر قانونی لوگوں کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے تاکہ اُن کا ڈر خوف ختم ہو اور وہ ایک پُرسکون زندگی گزار سکیں۔     ٭

مزید :

کالم -