ہولوکاسٹ کی کہانی (1)

ہولوکاسٹ کی کہانی (1)

  

نومبر دوہزار پانچ میں ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے دوسری جنگِ عظیم انیس سو انتالیس تا انیس سو پنتالیس کے دوران ہونے والے یہودیوں کے قتلِ عام (ہولو کاسٹ وائیلنس) کو محض ایک افسانہ کہہ کر رد کر دیا۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ قتل ہونے والوں کی اصل تعداد چھ ملین سے کہیں کم تھی اور تشدد کے حوالے سے بھی بعض حقائق کی پردہ پوشی کی گئی تھی۔ ایرانی صدر کے اس بیان پر دنیا بھر کا میڈیا واویلا کرنے لگا اور سربراہان مملکت کی جانب سے بھی اس بیان کی مذمت کی گئی، لیکن جب کچھ عرصے بعد یہ دھند چھٹی تو اس موضوع پر مختلف مضامین تحریر کئے جانے لگے۔ بعد از جنگِ عظیم تخلیق ہونے والے لٹریچر میں یوں تو ہولو کاسٹ کے موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا تھا، مگر اب اس بحث کو ایک اور جہت بھی میسر آگئی۔ وہ سوال جو کئی ذہنوں میں برسوں سے مقید تھا، اب اسے منظر عام پر آنا نصیب ہوا۔ سوال یہ تھا کہ کیا واقعی ہولو کاسٹ میں چھ ملین یہودیوں کا قتل عام ہوا تھا اور کیا یہ تمام تر سفاکی جرمنوں ہی کے کھاتے میں لکھی جانی چاہئے؟

ہولو کاسٹ کے موضوع پر پچھلے چھیاسٹھ برس میں بہت سا ادب تخلیق ہوا۔ سینکڑوں نظمیں، ڈرامے، ناول اور مضامین اس ضمن میں لکھے گئے۔ مشہور امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ کی شاعری میں بھی جابجا ہو لو کاسٹ کا تذکرہ ملتا ہے.... (پلاتھ کے والدین، جرمن یہودی تھے) ....انگریزی شاعر ڈبلیو ایچ آڈن کی ایک نظم تو انگریزی ادب سے لگاو¿ رکھنے والے ہر طالب علم کے ذہن میں ہے۔ آڈن نے دوسری جنگ عظیم کے دوران یہودیوں پر ڈھائے گئے مظالم کی داستان کو اس عنوان سے نظم کے قالب میں ڈھالا تھا اور نظم میں” لیکن وہ جرمن یہودی نہیں تھے، میرے عزیز، وہ جرمن یہودی نہیں تھے“ کی بار بار تکرار جہاں نغمگی کا تاثر دیتی ہے، وہاں یہ مصرع بار بار پڑھنے سے قاری اس صورت حال سے کرتا نظر آتا ہے۔ حالیہ برسوں میں این فرینک کی تصنیف ”ایک نوجوان لڑکی کا روزنامچہ“نے بہت شہرت پائی۔

ہولو کاسٹ، ظلم و تشدد کے کیمپ، گیس چیمبر تو ظلم و جبر کے حوالے سے ایک خاص مثال بن گئے۔ ہولو کاسٹ کے موضوع پر فلمیں بھی بنائی گئیں، جن کو خاصی شہرت ملی۔ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ”ردِ سامی“نامی قانون پر پوری دنیا میں اس نوعیت کے قتل و غارت کی روک تھام کے لئے دستخط بھی کئے۔ گیارہ ستمبردو ہزار ایک کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو بھی ایک خاص زاویے سے پیش کیا گیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس حوالے سے ستائیس جنوری کے دن کو ”ہولو کاسٹ“ کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ہولو کاسٹ کے واقعے کا تاریخی حقائق کی رو سے انکار کیا۔ ان کے اس بیان کی مذمت کی گئی اور سلامتی کونسل کے جملہ اراکین سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے عوام کو ہو لو کاسٹ کے بارے میں تعلیم دیں۔

یہ مناقشہ بظاہر ختم ہوگیا، مگر درحقیقت یہ بہت سے نئے مباحثوں کو جنم دے گیا۔ بعض دانشور حلقوں میں یہ بات سنجیدگی سے محسوس کی جانے لگی کہ ہولو کاسٹ کا موضوع کسی مقدس گائے کا درجہ نہیں رکھتا کہ اس پر کوئی تنقید.... تحقیق نہ ہو سکے۔ آنے والے چند برسوں میں اس حوالے سے بعض بے حد اہم تحقیقی کام ہوئے، جن میں یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر، تاریخ کے سابق سربراہ پروفیسر رابرٹ فوریسن نے بہت اہم کتب یا مضامین تحریر کئے اور ساتھ ہی ساتھ دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے۔ بے محل نہ ہوگا، اگر یہاں ہارون یحییٰ کی کتاب کا تفصیلی جائزہ نذر قارئین کیا جائے۔

دوہزا ر چھ میں جناب ہارون یحییٰ کی کتاب ترکی سے شائع ہوئی۔ جناب یح انیس سو اسی سے تخلیقی و تصنیفی شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان کی کتب کے زیادہ تر موضوعات سائنسی، سیاسی اور مذہبی ہیں۔ ان کی کتاب کو اپنے تخلیقی و مدلل مواد کی بدولت ہر طبقے میں قبول عام حاصل ہے۔ یہی سبب ہے کہ دنیا کی بیس سے زائد زبانوں میں ان کی بیشتر کتب کے تراجم ہو چکے ہیں، جن میں عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، ولندیزی، ڈینش، روسی، جرمن، سرب، انڈونیشی، بنگالی، اطالوی، پرتگالی، آذری، بوسنوی، بلغاروی، مالے، البانوی اور اردو شامل ہیں۔

 ”دی ہولو کاسٹ وائیلنس“ چار ابواب پر مشتمل ایک اہم اور مستند کتاب ہے۔ قریباً دو سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف دوسری جنگ عظیم کا احوال بیان کرتی ہے، بلکہ نازی افواج اور صہیونی یہودیوں کے درمیان خفیہ معاہدے کے باب میں بہت سے اہم انکشافات بھی کرتی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مختلف اہم دستاویزات کی نقول اور عکس بھی شائع کئے ہیں، جس سے کتاب کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ ہارون یحییٰ کے مطابق نازی ازم اور صہیونیت کا بے حد گہرا تعلق تھا، جسے وہ ”ردِسامیت کی گہری جڑیں“ ....The Dark Roots of Anti Semitism ....قرار دیتے ہیں۔ ردِ سامیت سے عموماً ”یہود کے لئے نفرت“ مراد لیا جاتا ہے، مگر اس سے درحقیقت تمام سامی مذاہب کے پیروکاروں سے نفرت کا جذبہ اور فکر و عمل ہے، یعنی اہل عرب، یہود اور مشرق وسطیٰ میں بسنے والے دیگر نسلی گروہ۔ اپنے پیش لفظ میں جناب یحییٰ لکھتے ہیں:

ہارون یحییٰ نے اپنی کتاب کے پہلے باب کو ”انتہا پسند صہیونیت اور نازیوں کا اتحاد.... ایک اَن کہی کہانی“ کا عنوان دیا ہے۔ مصنف نے اس باب کا آغاز ایک مختصر واقعے کے بیان سے کیا ہے:”1935ءکے آغاز میں ایک بحری جہاز مسافروں کو لے کر بریمر ہیون، جرمنی سے حیفہ، فلسطین کو عازم سفر ہوا۔ جہاز کی پیشانی پر اس کا نام عبرانی حروف میں لکھا تھا: ”تل ابیب“ کا مالک ایک یہودی اور جرمنی میں صہیونی تحریک کا ایک اہم نام تھا، جبکہ اس جہاز کا کپتان نازی پارٹی کا ایک رُکن تھا“۔ (ترجمہ از مضمون نگار)....یہ واقعہ جس کو جہاز کے مسافروں نے برسوں بعد کا نام دیا.... بہت سی ایسی مثالوں میں سے محض ایک تھا۔ ایک ایسی حقیقت جسے سرکاری مو¿رخین ہمیشہ صیغہ راز میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

یہود جو اپنی سرکشی کے سبب اپنی مادرِ وطن سے دُھتکارے گئے، ہمیشہ وطن واپسی کا خواب دیکھتے تھے، مگر یہود کے عقائد کے مطابق ان کو دوبارہ وطن واپس لے جانے والا مسیحا ابھی ظہور میں نہیں آیا تھا۔ تاہم انیسویں صدی کے وسط میں یہودی ربیوں نے اس عقیدے کی ایک اچھوتی تعبیر وضع کی اور وہ یہ کہ مسیحا کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی معاشی طاقت اور سیاسی بصیرت کے بل بوتے پر اور یورپ سے مدد لے کر اپنے وطن کی طرف مراجعت کریں۔ یہ تعبیر خاص طور پر ان نوجوان یہودی قومیت پسندوں کے من کو بھائی، جنہیں مذہب سے کچھ خاص لگاو¿ نہیں تھا۔ ان نوجوانوں میں سب سے مشہور ایک آسٹرین صحافی تھیوڈ ور ہرزل تھا، جس نے یہودی ربیوں کی اس تجویز کو ایک طاقت ور سیاسی تحریک میں ڈھال دیا۔ ہرزل ہی وہ شخص تھا، جس نے سیاسی صہیونیت کی بنیاد رکھی اور اس کا نام یروشلم کے مقدس پہاڑ سے مستعار لیا۔ یہ تحریک جس نے آگے چل کر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی، دو بڑے مقاصد کی علم بردار تھی۔ پہلا تو یہ کہ دنیا بھر کے یہودیوں کو ارضِ مقدس فلسطین میں آباد کرنا اور دوسرا اس مقصد کے لئے ارض فلسطین کا قابل یہود بنانا تھا، مگر یہاں مشکل یہ آن پڑی کہ وہ یہودی جو خانہ بدری کے بعد دوسری سرزمینوں میں آباد ہو چکے تھے، اب کئی سو برس بعد واپس آنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ صدیوں کے اس سفر میں وہ اب نئی سرزمینوں ہی سے وابستہ ہو چکے تھے اور دوبارہ ایک نئی زندگی شروع کرنا ان کے لئے محال تھا۔

 مگر مشہور زمانہ ”اعلانِ بالفورنے، جسے انیس سو ستارہ میں آرتھر جیمز بالفور نے شائع کیا، مشرق وسطیٰ میں یہودی ریاست کی بنیاد رکھ دی اور ایک جانب یہودیوں کی ستائش اور حمایت سمیٹی تو دوسری طرف عثمانی ترکوں کو قابض قرار دے کر خلافت کے خاتمے کی اساس بھی رکھ دی۔ اسی باب میں آگے چل کر ہارون یحییٰ نے تاریخی حوالوں سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ وہ یہودی جو اب کئی سو سال سے اپنے آباءکی جاگیروں اور جائیدادوں کے وارث تھے، یورپ چھوڑ کر فلسطین جانے پر رضا مند نہیں تھے، انہیں کیونکر مجبور کیا گیا کہ وہ اس نئی ریاست کے تصور سے وابستگی کا اظہار کریں۔ بقول مصنف:

"Herzl was not content to entice the jews to emigrate with diplomatically- phrased entreaties. As the well- known French intellectual Roger Garaudy wrote in The Case of Israel: A Study of Political Zionism, Herzl advocated the separation of the jews not to establish a separate religion or culture, but a state. To achieve that end, he had no qualms about telling everyone he spoke to, about the danger represented by the Jews and to describe the need for them to leave at once.

یہ تھیوڈور ہرزل ہی تھا جس نے یہ نکتہ پیش کیا کہ کوئی بھی امر، یہودیوں کو ارض مقدس کی طرف مراجعت کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا، سوائے اس امر کے کہ ان میں ردِ سامیت کا جذبہ بھر دیا جائے اور وہ اپنی موجودہ وابستگیوں کو خیر باد کہہ کر فلسطین کا رُخ کر لیں۔ اگر یہ جذبہ محض الفاظ سے مو¿ثر ثابت نہیں ہوتا تو پھر ان پر کشت و خون کے ذریعے یہ ثابت کر دیا جائے کہ ان پر موجودہ ملک کی زمین تنگ ہوگئی ہے اور ان کو ارض مقدس کی طرف مہاجرت اختیار کر لینی چاہئے۔(جاری ہے)   ٭

مزید :

کالم -