بھارت جان لے کشمےری حق خودرادیت سے منہ موڑنے والے نہیں

بھارت جان لے کشمےری حق خودرادیت سے منہ موڑنے والے نہیں

  

سری نگر (کے پی آئی) کل جماعتی حرےت کانفرنس گ کے چےرمےن سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت جان لے کشمےری اپنے بنیادی اصول یعنی حق خودرادیت سے منہ موڑنے والے نہیں ہیںبھارت کے ریاستی جبر کے آگے جھکنے والے نہیں ہیں اور ان کا جذبہ آزادی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ کولگام میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوے گےلانی نے کہا کہ سید صلاح الدین اور دیگر حزب مجاہدےن کو اشتہاری ملزم قرار دینے کے بارے میں کہا ”2008 سے ہماری جدوجہد پرامن ہے، اس میں اگر کوئی سرفروشی کا راستہ اپنائے تو اسے دہشت گر نہیں کہا جاسکتا بلکہ دہشت گر د وہ ہوتے ہیں جو لوگوں کو بلاجواز مارتے ہیں، ا±ن میں خوف پیدا کرتے ہیں، جو اپنے حقوق کیلئے لڑتے ہیںیا اپنی مبنی برحق تحریک کیلئے لڑتے ہیں ا±نہیں اشتہاری ملزم قرار نہیں دیا جاسکتا“۔ حریت چیئر مین نے واضح کیا کہ یہ لوگ مقدس کاز کے لئے میدان عمل میں سرفروشانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ہندوستان کی ضد اور ہٹ دھرمی نے انہیں یہ راستہ اختیار کرنے کیلئے مجبور کیا ہے ۔ گیلانی نے کہا کہ یہ لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ مجاہدین اّزادی ہیں جو تحریک کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سر بکفن ہیں۔گیلانی نے لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”اّپ الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کریں، کیونکہ ایسا نہ کرنے سے بھارت ہمیں غلامی کی زنجیروں میں مضبوطی سے جھکڑتا ہے، ووٹ ڈال کر بھارت کشمیریوں میں نام نہاد جمہوریت کا راگ الاپتا ہے، لہٰذا اس عمل سے دور رہ کر بھارت پر واضح کردینا چاہئے کہ ہم اپنے بنیادی اصول یعنی حق خودرادیت سے منہ موڑنے والے نہیں ہیں“۔

 ان کا کہنا تھا کہ ووٹ چاہے کسی بھی غرض کے لیے ڈالا جائے، وہ تحریکِ اّزادی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوجاتا ہے، کیونکہ بھارت اس کو اپنے فوجی قبضے کے حق میں کیش کرتا ہے، اور وہ عالمی برادری کو یہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ کشمیری الیکشن عمل میں حصہ لیکر بھارت کے ساتھ الحاق کی توثیق کرتے ہیں۔ ووٹ ڈالنے والوں کو شہیدوں کے ساتھ بے وفائی کرنے والے قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ ساڑھے سات لاکھ بھارتی مسلح افواج کی موجودگی میں منعقد کئے جارہے انتخابات کوئی جمہوری عمل نہیں، بلکہ محض ایک فوجی اّپریشن ہوتا ہے، جس میں دہلی والے اور انکی افواج اپنے من پسند لوگوں کو کامیاب قرار دیتے ہیں۔بلکہ ہم اقوامِ عالم کو پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر کی غالب اکثریت بھارت کے فوجی قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ہے اور وہ اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بھارت نے چھ لاکھ کشمیریوں کو قتل کیا، 10ہزار افراد کو لاپتہ کیا، 50ہزار کو ٹارچر کرکے ناکارہ بنادیا، بے قصور شہریوں کو بے نام قبروں میں دفن کردیا، ہزاروں لوگ اّج بھی جیلوں میں نظربند ہیں، البتہ لوگ ہمارے جلسوں میں بھاری تعداد میں شرکت کرکے خاموش پیغام دیتے ہیں کہ وہ بھارت کے ریاستی جبر کے اّے جھکنے والے نہیں ہیں اور ان کا جذبہ اّزادی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔گیلانی نے ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں گمنام قبروں کا انکشاف ہوا وہی 10ہزار افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جبکہ 7ہزار سے زائد خواتین کی عصمت ریزی بھی کی گئی۔انہوںنے کہا کہ بعض بھارت نواز پارٹیوں کو کم مضر (Lesser Evil)قرار دیکر ووٹ ڈالنے کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن قبضہ حامی (Pro-Occupation)تمام پارٹیاں برابر مجرم ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہدِ اّزادی میں یہ بڑی ر±کاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی دوسری سیاسی پارٹیاں جو ہے، میں انہیں فرشتے قرار نہیں دے رہا ہوں بلکہ ا±ن کا ماضی و حال دونوں داغدار ہے۔ کانگریس کے دور اقتدار میں بابری مسجد جیسے واقعات اور حال ہی میں مظفر نگر جیسے واقعات رونما ہوئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے دوراقتدار میں 40 ہزار مسلم کش واقعات رونما ہوئے لہٰذا چاہئے مرکز ہو یا ریاستی ہندنواز سیاسی پارٹیاں ہوں، ان کا ایجنڈا ایک ہے اگرچہ نام الگ الگ ہیں۔ بھارت کی طرف سے جموں کشمیر کے وسائل کا لوٹ کرنے کی تفصیلات دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ پانی ہمارا ہے، بجلی ہماری ہے، البتہ ہمیں اس میں سے صرف 12فیصد بجلی مل جاتی ہے، باقی بھارت کی مختلف ریاستوں کو پہنچائی جاتی ہے اور ہمیں اندھیرے میں رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ گیلانی نے کہا کہ بھارت ایک منصوبے کے تحت ہمیں دانے دانے کا محتاج بنانا چاہتا ہے۔ فوج ہماری زمینیں چھین رہی ہے۔ جنگلات کا صفایا کیا جارہا ہے اور گلمرگ، توسہ میدان اور پہلگام جیسے سیاحتی مقامات بھی عملاً فوج کی تحویل میں ہیں۔مین اسٹریم جماعتوں پر ریاست کے اّبی وسائل لوٹنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ا?بی وسائل ہمارے ہیں اور بجلی بھی ہماری ہے تاہم ریاست سے براّمد ہونے والی بجلی کو شمالی ہند ریاستوں کو منتقل کیا جارہا ہے اور پوری ریاست گھپ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب اقتدار کو اپنی کرسی سے مطلب ہے اور یہ ریاست کے وسائل کو لوٹنے پر انہوں نے کبھی بھی لب کشائی نہیں کی۔جموں کشمیر کی تقسیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ جموں، کشمیر، لداخ، اّزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ایک اکائی ہے اور اس ریاست کی 47ئ میں جو جغرافیائی پوزیشن تھی، ہم اس کو بحال دیکھنا چاہتے ہیں۔ جموں کشمیر کی حدود میں بودوباش رکھنے والے غیرمسلموں کو اپنے بھائی قرار دیتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ انہیں اسلام کے نام سے خوف نہیں کھانا چاہیے، اسلام امن اور انصاف کا دین ہے اور انہیں ہمارے ساتھ رہتے ہوئے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ اّزادی کے بعد ہم ان کے جان ومال اور عزت کی حفاظت کے ضامن ہیں اور وہ ہر صورت میں اپنے کو محفوظ اور مامون پائیں گے۔ گیلانی نے اپنی تقریر میں نوجوانوں کو مخاطب کیا کہ میں شخص پرستی کا قائل نہیں ہوں اور نہ میں قوم کو اپنی ذات کی طرف دعوت دیتا ہوں، البتہ میں اسلام، اتحاد ملّت اور تحریکِ اّزادی کو انہیں امانت کے طور سونپتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ نوجوان نسل اس جدوجہد کو ہر صورت میں اور ہر قیمت پر جاری رکھے گی۔ چار نکاتی فارمولہ، سیلف رول، اسٹیٹس کو اور اٹانومی جیسے نعروں کو مسترد کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ ہم اّزادی سے کم کسی بھی حل کو قبول نہیں کریں گے اور حقِ خودارادیت کے حصول تک یہ قوم بھارت کے جبر کے اّگے سرینڈر نہیں کرے گی۔ شخص پرستی کو مسترد کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ ماضی میں بھی شخص پرستی نے ہی کشمیریوں کو غلام بنا دیا۔ شیخ محمد عبداللہ کا نام لئے بغیر انہوںنے کہا کہ عوام ایک شخص کے پیچھے پیچھے چلے اور اس نے کشمیریوں کو غلام بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں (گیلانی ) اپنی ذات کی طرف نہیں بلاتا ہوں بلکہ اصولوں کی طرف دعوت دیتا ہوں۔

مزید :

عالمی منظر -