سمندرمیں ضائع ہونے والا پانی بچاکر آبپاشی میں خودکفیل ہوسکتے ہیں: نو ید اسلم و ڑ ائچ

سمندرمیں ضائع ہونے والا پانی بچاکر آبپاشی میں خودکفیل ہوسکتے ہیں: نو ید اسلم ...

  

سرگودھا(اے پی پی) ڈائر یکٹر کینو گرور ز ا یسو سی ا یشن و معرو ف کاشت کا ر چو ہد ر ی نو ید اسلم و ڑ ائچ نے کہا ہے کہ نظا م آبپاشی میں پا ئے جا نے وا لے نقا ئص دور کر نے کیلئے اصلاحاتی اقدا ما ت اٹھا ئے جا ئیں۔ کسا نو ں کو ٹیل تک پا نی کی فرا ہمی کو یقینی بنا یا جا ئے اور پا نی واراہ بندی کے نظا م کو بھی درست کیا جا ئے۔ ا ن خیا لا ت کا اظہا ر ا نہوں نے کینو گر ورز کے اجلا س سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہما ر انظا م آ بپاشی ز یا د ہ تر نہر ی نظا م پر مشتمل ہے ا س نظا م کے تحت 33ملین ا یکڑ رقبہ سیرا ب کیا جا ر ہا ہے۔ نہروں کی کل لمبا ئی 56073میل ہے ،پا کستان کے نہر ی نظا م کو انڈس بیس سسٹم کے تحت تین بڑ ے ڈیم اور 12بیرا ج اور 44کینا ل سسٹم اور 1لا کھ 7ہزا ر کے قر یب کھا ل مو جو د ہیں جو ز ر عی رقبہ کو پا نی فر اہم کر ر ہے ہیں ۔15سا لو ں میں ملک میں مز ید 6فیصد رقبہ کا شت ہوا ہے جس کی سب سے بڑ ی و جہ بڑھتے ہو ئے ٹیو ب ویل ہیں۔

 تقر یبا 39.4ملین ایکڑ پا نی ہر سا ل سمند ر میں ضا ئع ہو ر ہا ہے جبکہ 34.4فیصد پا نی کھیتوں تک پہنچ رہا ہے۔ اگر سمند ر میں ضا ئع ہو نے وا لے پا نی کو نہر ی سسٹم کے تحت نہروں میں پہنچا یا جا ئے تو ہما را ملک آبپاشی میں خو د کفیل ہو سکتا ہے۔ ضرورت ا س ا مر کی ہے کہ آبپاشی کے نظا م کو جد ید خطوط استوار کیا جا ئے اور نئے آبی ذخا ئر کی تعمیر کے ساتھ نظا م آ بپاشی چلانے وا لے اداروں میں کر پشن کا خاتمہ کیا جا ئے۔

مزید :

کامرس -