ماضی کی یادوں کو بھلا کرنئے ہیروز متعارف کرانا ہونگے، رمیز

ماضی کی یادوں کو بھلا کرنئے ہیروز متعارف کرانا ہونگے، رمیز

  

 اسلام آباد (آن لائن )سابق کپتان اور مشہور مبصر رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ہمیں1992کے ورلڈ کپ کی یادوں کو بھلانا ہوگا اور نئے ہیروز متعارف کرانا ہوں گے۔یہ یادیں پاکستان کرکٹ کی یادگار یادیں ہیں لیکن اسے یاد کرکے ابھی تک ہم ماضی میں کھوئے ہوئے ہیں اور ہمارے نئے ہیروز اور رول ماڈل سامنے نہیں آرہے ہیں۔ ایک انٹرویو میں سابقٹیسٹ اوپنر نے کہا کہ پاکستان کو بیٹنگ کے شعبے میں بہت کام کرنےکی ضرورت ہے۔وقار یونس ہر طرف بولنگ کرتے تھے لیکن دو کاونٹی سیزن کھیل کر وہ ورلڈ کلاس بولر بن گئے۔ہمیں اپنے بیٹسمینوں کی تکنیک کو بہتر بنانے اور صلاحیتوں کو پالش کرنے کے لئے اپنے بیٹسمینوں کو کاونٹی کرکٹ کھلانا ہوگی ۔ عمر اکمل میں صلاحیتیں ضرور ہیں لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کر پارہے ہیں۔ ہمارے دور میں اونچے اسٹروک کھیلنا جرم تھا۔آج ہر کوئی اونچے اسٹروک کھیلتا ہے۔پاکستانی بولنگ سے بھارتی ٹیم بھی گھبراتی ہے لیکن بیٹنگ لائن کی کارکردگی مایوس کن حد تک خراب ہے۔اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

 

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -