پانچ بنچوں کامطالبہ

پانچ بنچوں کامطالبہ
 پانچ بنچوں کامطالبہ

  



جب کو ئی بھی جمہو ر ی منتخب حکو مت یا شخصیت اپنی مدت کے آخر ی دنو ں میں داخل ہو تی ہے تو اس مدت کو انگر یز ی میں Lame Duck period کہا جا تا ہے ۔ امر یکہ ،جیسے اور کئی دوسر ے بڑ ے ترقی یافتہ ملکو ں میں جب حکو متیں یا حکومتوں کے سربراہ اس مدت میں داخل ہو تے ہیں تو ان کی مد ت کے آخر ی دنو ں میں ہو نے والے فیصلو ںکو شدید تنقیدی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے ۔ اکثر آئینی مد ت کے آخر ی دنو ں میں ہو نے والے فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج بھی ہو ئے اور عدالتوں نے آخری مدت میں ہو نے والے کئی متنازعہ فیصلوں کو منسوخ بھی کیا ۔ 1801ءمیں جب امر یکی صدر جان ایڈمز کی صدارتی مدت کے آخری دن چل رہے تھے تو صدر جان ایڈمز نے اپنے سیا سی مفا دات کے تحفظ کے لئے اعلیٰ عدالتو ںکے ججوں کی تقرری اور تعداد کے متعلق قانون کو جو 1789ءکا بنا ہوا تھا ختم کر دیا اور ججوں کی تقرری و تعداد کے متعلق ایک نیا قانون بنا کر اسے امریکی کانگرس سے عجلت میں پاس کروا لیا۔ اس کے بعد اسی قانون کی بد ولت صد ر ایڈمز نے 16سرکٹ جج اور مختلف اضلا ع میں 42 جسٹس آف پیس کی تقرری کر دی، لیکن بعد میں آنے والی جیفرسن حکومت نے ان تقرریوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا اور سپریم کورٹ نے اپنے تاریخ ساز فیصلے میں کانگرس کے اس قانون اور اس کی وجہ سے ہونے والی تقرریوں کو غیر آئینی قرار دیا۔

 جیفرسن حکومت نے ایک سال بعد پر انے 1789ءکے قانون کو اپنی اصلی حالت میں بحال کر دیا۔ اسی تاریخ ساز مقدمے، جس کو ماربر ی بنا م میڈیسن بھی کہا جا تا ،کی وجہ سے آج دنیا بھر کی اعلیٰ عدالتوںکوپارلیمنٹ کے بنائے ہوئے کسی بھی قانون پر نظرثانی کا حق حاصل ہے اور عدالت پارلیمنٹ کے بنے ہوئے کسی قانون کو غیر قانونی بھی قرار دے سکتی ہیں۔ہما رے ملک میں سپریم کورٹ نے اسی نظر ثانی کی طاقت سے این آر او ختم کر دیا تھا۔ امر یکی سپر یم کو رٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے کی وجہ سے آج ہر امر یکی حکو مت اپنی مد ت کے آخر ی دنو ں میں متنازعہ فیصلو ں سے گر یز کر تی ہے۔ بہت افسو س سے کہنا پڑ تا ہے اس بار ہماری جمہوری وفاقی اور صو بائی حکو متو ں نے اپنی مدت کے آخر ی دنو ں میں ایسے فیصلے کئے تھے جن کو نہ تو آئینی اعتبار سے صحیح کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی پہلے سے انتظامی و معاشی طور پر بد حال ملک کے مستقبل کے لئے سو د مند ہیں ۔وفاقی اور صو بائی حکو متو ں کی مد ت کے آخری دنو ں میں ہو نے والے فیصلو ں کے خلا ف اخبارات میں رپو رٹس آتی رہی ہیں کہ وہ فیصلے انتہا ئی غلط اور ذاتی مفا دکے فیصلے تھے۔ سب سے بڑ ا المیہ یہ ہے کہ آئینی مد ت کے آخر ی دنو ں میں فیصلو ں میںملکی مفاد کے بجائے انتخا بی سیا ست کو مد نظر رکھا جاتا ہے ۔

 ہمار ے ہا ں چو نکہ منتخب حکومتو ں کواقتد ار نگر ان حکو مت کے حو الے کر نا ہو تا ہے، اس لئے اقتدار چھوڑنے والی سیا سی حکو متو ں کی کو شش ہو تی ہے کہ وہ نگر ان حکو مت کے قیا م سے پہلے کچھ ایسے جھو ٹے سچے اعلا نا ت کر کے جائیں جن سے انتخا با ت میں ان کی سیا سی جما عت کے ووٹ بنک میں اضا فہ ہو سکے اور اگلی مدت کے لئے وہ دوبار ہ بر سر اقتدار آسکیں ، لیکن افسو س اس بات کا ہے کہ ایسے فیصلے چونکہ سیا سی ہو تے ہیں تو ملکی معیشت اور ملک کے قومی مفا د کے لئے بہت نقصا ن دہ ثابت ہو تے ہیں۔اسی طر ح اسلا م آباد ہا ئی کو رٹ نے سابق وزیر اعظم راجا پر ویز اشر ف کے اپنے حلقے کے تر قیا تی کا م کے لئے دیئے جا نے والے 5ارب روپے کے ٹھیکو ں کو معطل کر دیا اور ٹھیکداروں سے پیسے واپس لینے کا حکم تک کر دیا تھا۔ اس کے علا وہ گزشتہ وفاقی کابینہ نے اور خاص طور پر وزارت خزانہ کے اجلاس میں ہو نے والے فیصلو ں نے کمزور معیشت پر مز ید ظلم ڈھا ئے ،وفاقی حکو مت کے علا وہ صوبائی حکو متو ں کے بھی لا تعداد ایسے فیصلے ہیں جن کو ملکی مفا د سے زیا دہ سیا سی ا ور ذاتی مفا د پرہی مبنی قر ار دیا جا سکتا ہے ۔

 گزشتہ پنجا ب حکو مت کی کابینہ (جو اب پھر اقتدار میں ہے )نے اپنی مدت کے آخر ی دنو ں میں صو بے کے پانچ ڈویژنوں میںہائی کو رٹ کے 5نئے بنچ بنا نے کی سمر ی گو رنر کو بھجو ا دی تھی اور یہ فیصلہ فیصل آباد اور کئی دوسر ے بڑ ے شہروں میں ہائی کو رٹ کے بنچ کے قیا م کے لئے جاری وکلا کے کئی سال کے احتجاج جس میں آج کل شدت آگئی ہے، کے پیش نظر کیا گیا اور اس فیصلے سے پہلے اس پر نہ تو کو ئی ہو م ورک کیا گیا تھا اور نہ ہی قانونی ماہر ین کی رائے شامل تھی ،اس کے علا وہ نہ کسی متعلقہ ادارے سے مشا وارت کی گئی ۔ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ اس سمر ی کے گو رنر کو بھیجنے کے بعد لاہور اور ملتان میں ان بنچو ں کے قیا م کے خلا ف باقاعدہ احتجاج کیا گیا تھا، اور جن شہر وں میں بنچ کے قیا م کا فیصلہ تھا ظاہر ہے وہا ں اس فیصلے کو خو ش آمد ید کہا گیا اور وہا ں کے مقامی وکلا ءاور لو گو ں کوامید قائم ہو گئی کہ شا ئد بنچ بن جا ئیں اور ان کے مسائل حل ہو سکیں، لیکن یہ بھی سرائیکی صوبے کی طر ح کا ایک اور ڈرامہ نکلااور لوگوں سے ووٹ لینے کے لئے ان کے جذبات سے کھیلاگیا ۔ لاہور ہائی کو رٹ کے چیف جسٹس اور گورنر میں ایک ملا قا ت کے بعد معا ملہ ختم ہو گیا، اور اب شا ئد وہ سمر ی گورنر ہاوس میں کہیں ردی کی ٹو کر ی میں پڑ ی ہو گی ، لیکن ہنگامہ پنجا ب کے بڑ ے شہر وں سے نکل کر آسلام آباد میں پہنچ گیااور نہتے وکیلو ں پر پو لیس نے لاٹھی چارج کر کے روایتی تشدد کاسلسلہ بر قر ار رکھا ۔

 کتنے افسو س کی بات ہے کہ پچھلے 6ماہ سے فیصل آباد کی عدالتیں بند پڑ ی ہیں ۔ نہ جانے کیو ں گزشتہ پنجا ب حکو مت نے اپنی مد ت کے آخر ی دنوںمیں پنجا ب کے لو گو ں کے ساتھ یہ مذ اق کرنا ضروری سمجھا تھا ۔ احتجاج کر نا سب کا آئینی اور بنیادی حق ہے لیکن کسی کے احتجاج کو پو لیس کے لاٹھی چارج کی مد د سے دبانا ناانصافی ہے ،اور یہ بات بھی ارباب اختیار کو سو چناہو گی کہ کب تک ہم لوگوں کو طاقت اور اختیارات والے اداروں سے محروم اور دور رکھیں گے ۔ اب اکیسو یں صد ی میں دنیا گلو بل ویلج بن گئی ہے، جبکہ ہمارے ہاں آج بھی لوگو ں کو اپنی داد رسی کے لئے بھی انیسو یں صد ی جیسے فاصلے اور مشکلات پیش ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کاش ایسا ہو آخر ی مد ت میں ہو نے والو ں فیصلو ں کے خلاف پاکستان کی سپر یم کو رٹ کا بھی کو ئی ماربر ی بنا م میڈ یسن کی طر ح کا فیصلہ آجائے اور شائد آ نے والی حکو متیں محتا ط رویہ اختیا رکر یں اور ووٹ بنک کے لئے لو گو ں کے جذبات سے کھیلنے سے گر یز کریں، لیکن شائد ابھی وہ منزل بہت دور ہے ۔     ٭

مزید : کالم