پاکستان میں خصوصی تعلیم

پاکستان میں خصوصی تعلیم

  

3دسمبر کا دن دنیا بھر میں خصوصی افراد کے عالمی دن کے طورپر ہرسال منایا جاتا ہے۔ اس روایت کو برقرار رکھنے کے لئے 3دسمبر 2013ءکو خصوصی افراد کا عالمی دن پورے جوش وجذبے کے طورپر منایا جارہا ہے۔ اقوام عالم 3دسمبر 2013ءکو.... Break Barriers Open Doors for an Inclusive Society for all....کے طورپر منارہی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن اسلام آباد جوکہ وفاقی سطح پر خصوصی افراد کی تعلیم وتربیت اور بحالی کا نمائندہ ادارہ ہے۔ جوکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے زیرانتظام کام کررہا ہے۔

پاکستان میں خصوصی افراد کی تعلیم وتربیت اور بحالی پر توجہ جنرل محمدضیاءالحق شہید کے دور میں اس وقت دی گئی جب ان کو اپنی بیٹی زین ضیا ءجس کو سماعت کی کمی کا مسئلہ درپیش تھا کی تربیت اور تعلیم کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس موقع پر صدر جنرل ضیاءالحق شہید کے علم میں لایا گیا کہ پاکستان میں محروم سماعت افراد کی تربیت کا کوئی انتظام موجود نہیں ہے اس پر جنرل ضیاءالحق شہید نے اپنی بیٹی زین ضیا کو باہر بھیج کر تعلیم وتربیت دینے کی بجائے اس بات کا فیصلہ کیا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کی بحالی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر یقینی بنایا جائے۔ جنرل محمد ضیاءالحق شہید نے مختلف ممالک کی دوروں کے دوران وہاں کے خصوصی تعلیم کے نظام کو دیکھا اور اس وقت کے بہت ہی قابل بیوروکریٹ جناب سلمان فاروقی صاحب کویہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ خصوصی افراد کی تعلیم وتربیت کے لئے مختلف اداروں کے قیام کو ممکن بنائیں۔

اس وقت اسلام آباد میں ابتدائی طورپر چاروں معذوریوں کے لئے چارادارے بنائے گئے اور پھر 1985ءمیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ اس ادارے کے افسران نے انتھک محنت کی اور مشکلات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خصوصی افراد کی بحالی کے لئے دن رات کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج خصوصی افراد کے لئے ایک قومی پالیسی موجود ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے کئی ایک کنونشن پر دستخط بھی کرچکا ہے۔ مگر اٹھارویں آئینی ترمیم کی وجہ سے وفاق کے زیرانتظام قائم کئے گئے تمام 127ادارے صوبوں کے حوالے کئے جاچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اب ان کے حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں۔ بجٹ کی کمی کی وجہ سے یہ ادارے مشکلات کا شکار ہیں۔ جوکہ پاکستان کے لئے اور خاص طورپر موجودہ حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ البتہ کیپٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے زیرانتظام چلنے والے خصوصی تعلیمی ادارے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن خصوصی افراد کی بحالی کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن نے 3دسمبر2013ءکے حوالے سے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

-1سپورٹس گالہ=25نومبر کو نیشنل ٹریننگ سنٹر برائے خصوصی افراد G-9/2اسلام آباد نے اسلام آباد ٹریفک پولیس اور روٹس سکول سسٹم کے تعاون سے ایک سپورٹس گالہ کا انعقاد کیا جس میں خصوصی بچوں نے نارمل بچوں کے ساتھ مختلف کھیلوں میں حصہ لیا۔ جن میں کرکٹ، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، باسکٹ بال، ویل چیئر ریس وغیرہ شامل تھیں۔ اسی طرح نیشنل سپیشل ایجوکیشن سنٹر برائے محروم سماعت H-9اسلام آباد میں 25نومبر سے لے کر 29نومبر تک مختلف پروگرامز ترتیب دیئے گئے جس میں پینٹنگ کے مقابلے کلچرل گالہ اور بچیوں کے درمیان نیٹ بال کے مقابلے نمایاں اہمیت کے حامل تھے۔

تقریبات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 28نومبر کو نیشنل سپیشل ایجوکیشن سنٹر برائے محروم بصارت کی انتظامیہ نے ایک موسیقی کے مقابلے کا انعقاد کیا۔ جس میں تمام سپیشل ایجوکیشن کے وفاقی اداروں کے بچوں اور مختلف نارمل سکول کے بچوں نے حصہ لیا اور جیتنے والے بچوں میں انعامات تقسیم کئے گئے۔29نومبر2013ءکے دن نیشنل سپیشل ایجوکیشن سنٹر برائے ذہنی پسماندگان میں پینٹنگ کا مقابلہ منعقد کیا گیا اور بچوںنے مختلف ٹیبلوز پیش کئے۔02دسمبر2013ءکو نیشنل انسٹیٹیوٹ برائے خصوصی تعلیم میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں سول سوسائٹی، میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندگان کو خصوصی طور پر مدعوکیا گیا۔تاکہ خصوصی افراد اور ان کی بحالی کے بارے میں معاشرے کو جان کاری دی جا سکے اور پھر سب سے آخر میں 03دسمبر2013ءبروز منگل کو ڈائریکٹوریٹ جنرل سپیشل ایجوکیشن کے زیر انتظام ایک خصوصی تقریب کا انعقاد الفارابی سپیشل ایجوکیشن سنٹر برائے جسمانی معذور افراد کے آڈیٹوریم میں کیا جائے گا۔ جس میں خصوصی تعلیم کے وفاقی اداروں کے بچے خوبصورت پروگرام پیش کریں گے اور پورے ہفتے کی تقریبات کے دوران مختلف مقابلوں میں پوزیشن لینے والے بچوں میں انعامات اور میڈلز تقسیم کئے جائیں گے،مگر ملک کے محدود معاشی وسائل اور سابقہ حکومت کی پالیسیاں اسکی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چنانچہ میری گزارش ہے کہ موجودہ حکومت خصوصی افراد کی بحالی کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے اور معاشرے کے اس محروم طبقے کو اس کے حقوق دلوائے۔

-1نیشنل ٹرسٹ برائے خصوصی افراد یعنی NTDکو دوبارہ فعال کیا جائے اور مخیر حضرات کے تعاون سے وسائل کو بڑھا کر خصوصی افراد کی بحالی کے مزید منصوبے شروع کئے جائیں۔

-2خصوصی افراد کے لئے بنائے گئے پارک کو جو کہ F-9پارک کے اندر موجود ہے پاکستان بیت المال کے قبضے سے بازیاب کروا کر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن کو واپس کروایا جائے تاکہ اس پارک کو اس کے اصل مقصد یعنی خصوصی افراد کی بحالی اور انٹرٹینمنٹ کے لئے استعمال کیا جائے۔

-3وفاقی سطح پر CBRکے پروجیکٹ کو وسعت دی جائے۔

-4خصوصی بچوں کی ابتدائی سکریننگ کا ایک خصوصی سنٹر قائم کیا جائے تاکہ ان بچوں کی بحالی کا کام ابتدائی عمر سے شروع کیا جا سکے تا کہ یہ بچے آگے چل کر نارمل زندگی گزارنے اور نارمل بچوں کے ساتھ پڑھنے کے قابل ہو سکیں۔

-5نیشنل کونسل برائے بحالی معذوراں یعنی NCRDPکو پابند کیا جا سکے کہ وہ 2%کوٹے کی Implementationکو یقینی بنائے اور اس کونسل کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن کے ساتھ اٹیچ کیا جائے۔

-6بڑی عمر کے خصوصی افراد کی بحالی کے لئے Fountain Houseلاہور کی طرز پر ایک رہائشی بنیاد پر ادارہ اسلام آباد میں بھی قائم کیا جائے۔

قارئین اکرام!

آخر میں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ زین ضیاءجو کہ میری بہن ہیں کی بحالی اور تربیت نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خصوصی افراد کی بحالی مشکل ضرور ناممکن نہیں۔ اور بقول شاعر۔

میں جسے ذرہ سمجھتا رہا

وہ تو سمٹا ہوا صحرا نکلا

چاند تاروں کی مانند امبر

روشن میرا ہی قافلہ نکلا

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خصوصی افراد کی بحالی صرف حکومت کے بس کا روگ نہیں بلکہ اس میں سول سوسائٹی اور مخیر حضرات کو بھی آگے آنا ہو گا اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو خصوصی افراد کے لئے دوست ملک بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔      ٭

مزید :

کالم -