اردو اور انگلش میڈیم پختون

اردو اور انگلش میڈیم پختون

  

مکرمی! بیچاری پاکستانی قوم بھی گزشتہ 44سال سے عجیب پریشان کن مخمصے کا شکار ہے۔جب کبھی فوجی طالع آزماﺅں کے چنگل سے آزادی کے بعد انتخابات کا موقع آتا ہے تو سیاسی شکاری انہیں نت نئے نعروں کے جال میں پھانس لیتے ہیں۔مداری ڈگڈگی بجاتے، عوام کو بے وقوف بنا کے اقتدار میں آتے ہیں اور دوران مہم کئے گئے وعدوں کو پر ِکاہ کی حیثیت تک نہیں دیتے۔حالیہ انتخابات میں تحریک انصاف کے تبدیلی کے نعرے پر ہماری نئی نسل کا ایک بڑا حصہ، موہوم امیدوں اور امنگوں کو دل میں لئے عمران خان کی قیادت پر فریفتہ ہوگیا تھا۔ انتخابات کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت وجود میں آئی۔اول الذکر تبدیلی کی اور ثانی الذکر اسلامی انقلاب کی دعویدار ہے۔ اس حکومت کے سربراہ نسلی اور اصلی پختون پرویز خٹک ہیں۔شنید ہے کہ ان کے سیاسی ”کیرئیر“ کا بڑا عرصہ پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستگی پر مشتمل ہے۔کہتے ہیں ہر شے اپنے اصل پر جاتی ہے۔ موصوف اپنے صوبے میں تبدیلی کے عمل کا آغاز سرکاری سکولوں میں انگلش میڈیم کے نفاذ سے کرنے کے اعلانات فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو پڑھا سنا تھا کہ انگریزی استعمار کے خلاف مزاحمت میں پختون بھائی ہم پنجابیوں سے بہت آگے رہے تھے، انہیں اپنے غیرت مند ہونے اور دلیری پر بھی بڑا فخر ہے۔خوشحال خان خٹک کے قبیلے کے پرویز خٹک ان کے افکار و خیالات سے یقینا آگاہ ہوں گے۔ سمجھ نہیں آتی کہ پھر یہ کایا کلپ کیوں ہو گئی؟ غلامی کی یادگار انگریزی کو قومی زبان اردو پر ترجیح دینے کا سودا ان کے سر میں کیوں سمایا ہوا ہے؟ تماشا یہ ہے کہ ان کی کابینہ میں شامل جماعت اسلامی بھی اس پر دم سادھے بیٹھی ہے، حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ جیسے ہی پرویز خٹک نے میڈیا پر انگلش میڈیم کے نفاذ کا اعلان کیا تو سراج الحق بھی ذرائع ابلاغ پر اپنے جماعتی موقف کا اظہار کر دیتے۔ ہمارے انگلش میڈیم پختون پرویز خٹک کے ہیرو (شاید نہ ہوں، لیکن عام آدمی تو یہی سمجھتا ہے) خوشحال خان خٹک تو مسلمان مغلوں کے خلاف عمر بھر لڑتے رہے اور مرتے وقت جو وصیت کی اس کو علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے یوں منظوم فرمایا تھا:

ہے مدفن وہ خوشحال خان کو پسند

اُڑا کر نہ لائے جہاں بادِ کوہ

مغل شہسواروں کی گردِ سمند!

ایک طرف پختون غیرت کا یہ عالم اور دوسری طرف ایک ناموس بدیشی اور غلامی کی علامت کا انگلش میڈیم کے ذریعے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا شاہین بچوں کو دوبارہ غلامانہ ذہنیت کا شکار کرنے کا عزم، خدایا! ایں چہ بوالعجبی است.... عمران خان کو بھی ان کے اس غیر آئینی اقدام کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔پرویز خٹک اور ان کے سینئر وزیر سراج الحق کی خدمت میں گزارش ہے کہ پہلے وہ بہ صد احتیاط یہ جائزہ تو لیں کہ صوبہ پنجاب میں انگلش میڈیم کتنی بُری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اب یہاں عملاً اردو ذریعہ تعلیم بحال کیا جا چکا ہے۔ فارسی کا ایک مقولہ ہے کہ :

ہر چہ دانا کُند، کُند ناداں، ولیک بعد از خرابی ءبسیار

ہر وہ کام جو دانا کرتے ہیں، وہ بے وقوف بھی کرتے ہیں،لیکن خواری اور خرابی کا منہ دیکھنے کے بعد۔ امید ہے پرویز خٹک دانا بنیں گے، نادان نہیں اور ساتھ ہی سراج الحق بھی۔

ڈاکٹر محمد شریف نظامی،صدر قومی زبان تحریک ، 26/Aرحمن پورہ کالونی لاہور،

0303-4325835،0331-4912359

مکرمی! آج کل انرجی بحران ،بجلی کی کمی کا بہت زیادہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ہمارے نامور سائنسدان اس کے حل کے لئے اکثر و بیشتر بیانات دیتے ہیں، جنہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ مہینوں میں یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر سکتے ہیں۔وزیراعظم سے کہنا یہ ہے کہ ان تمام سائنسدانوں کو ایک میٹنگ میں بلائیں اور حکومتی نمائندوں کو بھی بلائیں، ان کی تجاویز سنیں اور اگر واقعی وہ قابل عمل ہیں تو ان کو عملی جامہ پہنائیں اور عوام کو سستی بجلی مہیا کریں۔ (ڈاکٹر زاہد عباس ربانی، شیخوپورہ)   ٭

مزید :

اداریہ -