جام و لب کے درمیان بہت فاصلے ہیں

جام و لب کے درمیان بہت فاصلے ہیں
جام و لب کے درمیان بہت فاصلے ہیں

  

ایک طویل عرصے سے میڈیا میں ڈرون حملوں کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ خدا وند کریم سے دست بدعا ہوں کہ وہ اس وبا سے متاثرہ مریضوں کو جلد صحت یاب کرے۔ اِن مریضوں سے درج ذیل دو سوال پوچھنے کو جی چاہتا ہے:

(1) جو لوگ امریکی ڈرون گرانے پر مصر ہیں، خدا نہ کرے کل کلاں اگر یہ ستمگر امریکہ، خود ان پر ڈرون برسانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کے پاس اس کا توڑ کیا ہو گا؟

(2) اگر حکومت ِ پاکستان فی الحال ڈرون نہیں گرا سکتی تو طویل آہ و بکا اور بڑھکوں کا کیا فائدہ کہ: ”امریکیو! ہم پاکستانیوں پر ڈرون حملے بند کرو.... یہ انسانیت سوز اقدام ہے.... پاکستان ایک آزاد اور ساورن ملک ہے.... فاٹا کی فضائیں پاکستان کی فضائیں ہیں، ایک ساورن کنٹری کی فضائیں ہیں.... تم ایک خود مختار اور آزاد ملک پر ڈرون حملے کی جرا¿ت کیسے کر سکتے ہیں ہو؟.... ہم نے آج نیٹو سپلائی لائن بند کی ہے، تو آنے والے کل میں تمہیں لگ پتہ جائے گا جب زمین بند (Land Locked) افغانستان سے اپنا عسکری سازو سامان واپس لے جانے کی کوشش کرو گے یا کراچی سے طور خم کی راہ اپنی افواج مقیم ِ افغانستان، کو راشن پانی مہیا کرنے کی کوشش کرو گے.... کل کلاں اگر ایران چاہ بہار کا راستہ کھول بھی دیتا ہے اور اس بندر گاہ سے بھارت نے کئی برس قبل جو سڑک ہمارے بلوچستان کی مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ تعمیر کر کے اسے زرنج (افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے نیم روز کا ایک معروف شہر) تک استعمال کر کے تم کو ایک متبادل ”راہِ فرار“ فراہم بھی کر دیتا ہے تو بھی ہم سلامتی کونسل میں چلے جائیں گے.... تم کو تو معلوم ہے کہ یہ سلامتی کونسل شروع ہی سے بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی پابندی کرنے میں پیش پیش رہی ہے.... مسلم امہ کی تو بطور خاص ہمدرد ہے.... خبر ہے کہ اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل بانکی مون ہمارا آدمی ہے۔ وہ ہماری ہاں میں ہاں ملائے گا۔ بڑا انصاف کرنے والا آدمی ہے۔ امریکہ کی کہاں سنتا ہے۔ وہ ایسی قرارداد پاس کروائے گا کہ تم کو آ سمجھ جائے گی اور اے امریکیو! ہمارے رب نے چاہا تو تمہارا سارا غرور اور تکبر خاک میں مل جائے گا.... ارض ِ پاکستان کے18کروڑ مسلمان جب خدائے لم یزل کی کورٹ میں حاضر ہو کر تمہارے خلاف فریاد دائر کریں گے اور تمہارے ڈرون سازوں کو بددعائیں دینے میں رات دن ایک کر دیں گے تو پھر دیکھنا تمہارا حشر اور انجام کیا ہوتا ہے؟ کیا تم لوگوں کو نمرود، شدّاد اور فرعون کا انجام یاد نہیں؟.... ذرا تاریخ کا مطالعہ کرو.... او شیطانو! تم پر خدا کی پھٹکار!“

قارئین گرامی! تفنن برطرف، ہم مسلمان صرف دُعائیں مانگنے اور بددعائیں دینے ”جوگے“ رہ گئے ہیں، لیکن اگر ہم نے ڈرونوں کو روکنا ہے تو نیٹو سپلائی بند کرنے جیسی مجہول حرکات اور بچگانہ اقدامات سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ خدا نے تو فرما دیا ہوا ہے کہ :”لیس لا انسان الیٰ ما سعیٰ“.... حیف تو ہم پر ہے کہ ہمارے دشمنوں نے زبور، تورات اور انجیل پر عمل کیا اور ہم نے قرآن کو پس ِ پشت ڈال دیا۔

مجھے اقبال کی ایک چھوٹی سی نظم یاد آ رہی ہے جو بانگ درا میں ہے اور جس کا عنوان ہے ”ارتقا“.... اگر بارِ خاطر نہ ہو تو سُن لیں۔ اس کے صرف سات اشعار ہیں۔ پہلا شعر تو آپ نے کئی بار خود پڑھا ہو گا، ہمارے علماءو فضلاءاور بزرگان ِ عظام اپنے خطبات میں کئی بار اس کو دہراتے ہیں اور مجھے امید ہے آپ نے بھی کئی بار اسے پڑھ کر اس کے وہ معانی نہیں نکالے ہوں گے جو اقبال کا مقصود تھے۔ وہ شعر یہ ہے:

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز

چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی

لیکن اس پہلے شعر کے بعد جو چھ اشعار ہیں، ان کو ہم نے شاذ و نادر ہی کہیں پڑھا ہو گا۔ وجہ یہ ہے اقبال نے اپنے کلام کا ایک بڑا حصہ اس فلسفے کے گرد استوار کیا جو قرآن کا فلسفہ ہے اور برہانِ قاطع ہے۔ نظم کا دوسرا شعر دیکھئے:

حیات، شعلہ مزاج و غیورو شور انگیز

سرشت اس کی ہے، مشکل کشی، جفا طلبی

ڈرون حملوںکا توڑ، زندگی کی یہی شعلہ مزاجی، غیرت، شور انگیزی، مشکل کشی اور جفا طلبی سے عبارت ہے جو آج ہم مسلمانوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ہاں یہ ان لوگوں کو بھاتی ہے جن کو ہم بد دعائیں دے دے کر مارنا چاہتے ہیں.... جی چاہ رہا ہے کہ اس کے بعد کے دو شعر بھی آپ کی نذرِ کر دوں اور ساتھ ہی تھوڑی سی تشریح بھی:

کشا کش ِ زم و گرما، تپ و تراش و خراش

زخاک تیرہ دروں، تابہ شیشہ¿ حلبی

حلب ، شام کا ایک مشہور شہر ہے۔

پچھلے دنوں یہ شہر شام کے باغیوں کے قبضے میں آ گیا تھا۔ گھمسان کے رن پڑتے رہے اور ہزاروں لوگ اس شہر کے گلی کوچوں میں ہلاک ہو گئے۔ پرانے زمانے میں یہاں کا زجاج، کانچ، شیشہ بلور اور آئینہ بہت مشہور تھا۔ یہ شیشہ، حلب کی ریت آمیز مٹی سے بنایا جاتا تھا جس میں شیشے کے اجزائے ترکیبی پائے جاتے تھے۔ ان شیشہ گرانِ حلب کی محنت اور جفا کشی مشہور تھی۔ یہ لوگ حلب کی سیاہ مٹی (خاکِ تیرہ دروں) سے آئینہ سازی کرتے تھے۔ آئینے بنانے کے کئی مراحل تھے۔ پہلے اس مٹی کو خاص درجہ ¿ حرارت تک گرم کیا جاتا تھا، پھر ٹھنڈا، پھر گرم اور پھر ٹھنڈا.... بار بار کے اس عمل اور معکوس عمل سے حلب کی سیاہ مٹی شیشہ بن جا تی تھی۔ اس شیشے کو ایک بار پھر ایک خاص درجہ ¿ حرارت سے گزار کر اس کو تراشا جاتا تھا (تپ و تراش) اور اس تراش و خراش کے بعد کانچ سے شیشہ اور شیشے سے آئینہ بنایا جاتا تھا۔ اقبال ؒ کہتے ہیں کہ انسانی زندگی میں تب و تراش اور کوشش و کاوش کے یہی مراحل ہیں جو مسلمانوں کی متاع تھے، لیکن ہم نے ان کو فراموش کر کے صرف زبانی کلامی بڑھکوں، نعروں، جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں کا راستہ اختیار کر لیا، پھر ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے، وہ تو ہونا ہی تھا۔

اس نظم کا اگلا شعر تو ایسا لاجواب ہے جو اردو کے بعض شعرا کے سارے دواوین پر بھاری ہے۔.... فرماتے ہیں:

مقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشید

میانِ قطرہ¿ نیساں و آتشِ عنبی

فارسی میں نیساں، اُس بارش کو کہتے ہیں جو سمندروں کی سیپیوں (صدف) پر برستی ہے تو ان کے اندر لعل و گہر پلتے ہیں۔ ایک خاص موسم میں یہ سیپیاں سطح آب پر نمودار ہوتی ہیں اور اپنا مُنہ کھول دیتی ہیں۔ اسی موسم میں نیساں کا بادل ان پر برستا ہے، اس بارش کی ایک ایک بوند صدف کے حلق میں گرتی جاتی ہے اور صدف سمندر کی تہہ میں چلی جاتی ہے۔ پھر سمندر کی طغیانی صدف کو بار بار جنبش دیتی ہے جس سے نیساں کا قطرہ، گہر بن جاتا ہے....لیکن بعض سیپیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے حلقوم میں نیساں کی بارش کے قطرے نہیں پڑتے۔ چنانچہ سمندر جب موجزنی کرتا ہے تو خالی سیپیاں سمندر کے کنارے اٹھا کر ڈھیر کر دیتا ہے۔ دیکھئے اس مضمون کو بھی اقبال کس طرح باندھتے ہیں:

نمی دانمکہ داد این ذوقِ معنی موج ِ دریا را

گہر در سینہ ¿ دریا، صدف بر ساحل افتا دست

(ترجمہ:مجھے معلوم نہیں کہ سمندر کو یہ ذوق معانی کس طرح مل جاتا ہے کہ وہ گہر والی صدف کو اپنے سینے میں لے جاتا ہے اور خالی صدف کو ساحل پر پھینک دیتا ہے)

نیساں کا اثر سمندر پر ہی نہیں، زمین پر بھی پڑتا ہے۔ اور وہ اس طرح ہے کہ یہ نیساں جب کسی انگور کی بیل پر برستی ہے تو اس میں وہ شیرینی، ترشی اور تاثیر پیدا ہو جاتی ہے جو اول درجے کی شراب بنانے کے کام آتی ہے۔ فارسی کا ایک اور شعر اس مضمون کا شارح ہے:

تاک را سر سبز کن اے ابرِ نیساں در بہار

قطرہ تامی مے تو اند شد، چرا گو ہر شود؟

(ترجمہ: اے ابر ِ نیساں! بہار کے موسم میں انگور کی بیل (تاک) کو سر سبز کر۔ وہ قطرہ جو شراب بن سکتا ہو، کیا ضرورت ہے کہ گوہر بنے؟)

اب اقبال ؒ کے اس شعر کو لیتے ہیں جو ”ارتقا“ والی نظم میں ہے اور جس کو مَیں نے سطور بالا میں کوٹ کیا ہے.... اس ایک شعر میں اقبال ؒ نے شراب بنانے کے سارے پراسس کو بتدریج بیان کر دیا ہے۔.... ”مقامِ بست و شکست و فشار و سوز و کشید“ والے مصرع پر غور کیجئے.... خوشہ ¿ انگور سے جب شراب کشید کی جاتی ہے تو اس میں یہی پانچ مراحل (بست و شکست و فشار و سوز و کشید) بتدریج در پیش ہوتے ہیں اور اسی ترتیب سے ہوتے ہیں جس ترتیب سے اقبال ؒ نے باندھے ہیں۔ .... یعنی پہلے انگور بویا جاتا ہے (بست)، پھر اسے شاخوں سے توڑا جاتا ہے (شکست)۔ پھر اس کو نچوڑا جاتا ہے(فشار) پھر بھٹی میں پکایا جاتا ہے(سوز) اور اس کے بعد شراب کشید کی جاتی ہے۔.... اقبال ؒ فرماتے کہ قطرہ¿ نیساں سے لے کر ”انگوری آگ“ (آتش ِ عنبی) بننے تک جو مرحلے پیش آتے ہیں، وہ خاصے مشقت آزما اور وقت طلب ہوتے ہیں۔ آتش عنب ایسے ہی آسانی سے ”انگوری آگ“ نہیں بن جاتی۔

اُن قارئین سے معذرت جو درج بالا اشعار کے معانی اور ان کی تشریح کو مجھ سے ہزار درجہ بہتر جانتے ہیں۔ میرا روئے سخن ان کی طرف نہیں،بلکہ ایک عام پاکستانی قاری کی جانب ہے جو کلام اقبال ؒ کو مشکل جان کر اس لئے نہیں پڑھتا کہ یہ خشک اور بے مزہ خوبانی، اندر تو خوبانی ہو گی، لیکن اوپر سے ”ہاڑھی“ ہے!

ہم ایک بار پھر ڈرون کی طرف آتے ہیں.... ڈرون سازی اور ڈرون کُشی کے اس مقام تک اگر امریکہ پہنچا ہے تو ہمیں بھی اسی راستے پر چلنا ہو گا۔ وہی کچھ کرنا ہو گا جو امریکی کرتے ہیں۔ ان کے جام و لب کے درمیان جو فاصلے ہیں، ان کو وہ بہر طور طے کرتے ہیں۔ راہ میں ہزار پاﺅں پھسلیں یا ہاتھ لرزیں، جام کو ہونٹوں تک لا کر ہی چھوڑتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ:

There are many a slips between the cup and the lips.

مزید :

کالم -