پیپلز پارٹی کو تازہ جنوں کی ضرورت ہے

پیپلز پارٹی کو تازہ جنوں کی ضرورت ہے
 پیپلز پارٹی کو تازہ جنوں کی ضرورت ہے

  

پاکستان پیپلز پارٹی کو قائم ہوئے چھیالیس برس بیت گئے۔ چھیا لیس برس کے سفر میں بے انتہا تبدیلیاں آئیں۔ پارٹی جب قائم ہوئی تھی تو پاکستان بڑا ملک تھا۔ سن ستر کے انتخابات کے بعد بچے کھچے پاکستان پر پیپلز پارٹی نے حکمرانی کی۔ مارشل لاءکے ذریعے حکومت کا خاتمہ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ایسے واقعات بنے جن کے سبب پیپلز پارٹی زندہ رہی۔ پھر دو حکومتیں اور تیسری حکومت سے عین قبل بے نظیر بھٹو کی زندگی ختم ہو گئی۔ پیپلز پارٹی جن حالات میں قائم ہوئی تھی وہ حالات عجیب تھے۔ جنرل ایوب خان کی حکومت قائم تھی ۔ وہ 1958ءمیں ملک میں ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی اس حکومت کے اہم ترین رکن تھے۔ ایوب خان اور بھٹو کے درمیان اختلافات بھٹو کی حکومت سے علیحدگی کا سبب بنے۔ ایوب خان دور میں اس قدر سیاسی گھٹن تھی کہ لوگوں کو تازہ ہوا میں سانس لینے کی ضرورت تھی۔ اس فضاءمیں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ پارٹی کے قیام کا اصولی فیصلہ حیدر آباد میں کیا گیا تھا جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے اکتوبر1967 ء میںمیر رسول بخش کی ٹنڈو میر محمود کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا۔ اس وقت ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد تھی اور حکومت مخالف لوگوں کو ڈی پی آر کے تحت گرفتار کیا جاتا تھا ۔ اس گھٹن والی فضا کو ختم کرنے کے لئے میر رسول بخش کی رہائش گاہ سے ان کے بڑے بھائی میر علی احمد تالپور کی قیادت میں ایک جلوس نکالا گیا تھا، جس سے حکومت کو یہ پیغام دینا تھا کہ دیکھو لوگ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔

 اس جلوس میں راقم سمیت صرف بائیس لوگ شامل تھے۔ ایسی فضاءمیں پارٹی کے قیام کے فیصلے پر عمل کیا گیا تھا۔ وہ تمام سیاسی عناصر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے تھے جو پاکستان مسلم لیگ کنونشن کی حکومت سے بے زار تھے۔ ایوب خان کنونشن مسلم لیگ کے سربراہ بھی تھے۔ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والے، دانش ور، سرگرم سیاسی کارکن، محنت کشوں کے ر ہنماء، طالب علم رہنماء غرض وہ تمام عناصر جو آمر کی حکومت سے بد ظن تھے، تبدیلی چاہتے تھے۔ تبدیلی تو عام شخص بھی چاہتا تھا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیاں سن65 ءمیں ہونے والی جنگ سے ایوب خان کی حکومت کو سہارا مل گیا تھا وگرنہ ان کی حکومت تو جنوری 65 میں ہی ڈھیر ہو جاتی جب ایوب خان محترمہ فاطمہ جناح کو جعل سازی اور دھاندلی کے ذریعے شکست دے کر منتخب ہوئے تھے۔ بنیادی جمہوریت کے 80ہزار اراکین ووٹ دینے کے اہل تھے ۔ حکومت چو نکہ ایوب خان کی تھی جس نے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لئے ہر ممکن ہتھکنڈے اختیار کئے تھے ۔ ایسی گھٹن والی فضا ءمیں پاکستان کو ایک مضبوط سیاسی جماعت کی ضرورت تھی۔ مضبوط پارٹیاں پہلے سے موجود تھیں۔ عوامی لیگ تھی، نیشنل عوامی پارٹی تھی۔ حکمران کنونشن لیگ کے علاوہ بھی مسلم لیگ تھی۔ لیکن ان تمام جماعتوں ماسوائے عوامی لیگ، قیادت عوام میں مقبول نہیں تھی۔ عوامی لیگ مشرقی پاکستان تک محدود تھی ۔ مغربی پاکستان میں میدان خالی تھا۔ بھٹو مرحوم سن 65ءکی جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں بھارت کے خلاف نہایت جذباتی تقریر کرکے قوم کے دل میں گھر بنا چکے تھے۔ وہ ایوب حکومت سے علیحدہ ہوئے۔ سو انہیں ہی آمادہ کیا گیا کہ وہ ایک سیاسی جماعت قائم کریں۔ جماعت قائم کرنے کے لئے لوگ اکھٹے کئے گئے۔ ہر مکتبہ فکر کے لوگ میسر آ گئے اور پارٹی کھڑی ہوگئی۔

آج کی پارٹی ماضی کی پارٹی سے یکسر مختلف ہے۔ آج پارٹی پر جن لوگوں کی گرفت مضبوط ہے ان کا تعلق اس ملک کے اس طبقے سے ہے جس کے خلاف پارٹی کو کھڑا کیا گیا تھا۔ پارٹی کی تاسیسی دستاویز پارٹی کو بائیں بازو کی ایک ایسی پارٹی قرار دیتی تھی جو سوشلزم پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت کا ڈھانچہ تبدیل کرے گی لیکن پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن گئی تھی۔ پارٹی میں ایک طرف وہ لوگ تھے جو سوشلزم پر یقین رکھتے تھے اور دوسری طرف وہ لوگ تھے جو ملک میں معیشت کو سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ہی رکھنا چاہتے تھے۔ اسی کھینچا تانی میں پارٹی کی پہلی حکومت نے پانچ سال مکمل کئے، لیکن سن 77ءمیں مار شل لاءکے نفاذ نے ملک کو واپس مکمل سرمایہ دارانہ نظام کے چنگل میں پھنسا دیا۔

 مار شل لاءکے دور ابتلاءمیں مرحومہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کو زندہ رکھا۔ پارٹی کا روپ بدلتا گیا اور پارٹی آج جاگیر داروں اور بڑے زمینداروں کی پارٹی بن گئی ہے۔ پارٹی سے وابستہ لوگ یہ تسلیم نہیں کریں گے لیکن پارٹی کا بنیادی منشور اس کے آج کے عمل کے بر عکس تھا:

 یوں تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار

 اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

پارٹی کے رہنماءبحث کرتے اور پارٹی کو عوام کی پارٹی قرار دیتے نہیں تھکتے لیکن پارٹی کی آج کی ہیئت دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ پارٹی اجارہ داروں کی پارٹی بنادی گئی ہے۔ 1970ءکے انتخابات کے دوران پارٹی نے کسی بھی گھرانے ماسوائے ممتاز بھٹو (ذوالفقار علی بھٹو کے چچا زاد بھائی ) اور غلام مجتبے جتوئی ( غلام مصطفے جتوئی کے بھائی ) ایک سے زائد ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا۔ ٹھٹھہ کی قومی اسمبلی کی نشست کے لئے مخدوم محمد زمان طالب المولی کے صاحبزادے مخدوم امین فہیم کو ٹکٹ دیا جا رہا تھا تو مخدوم صاحب نے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ ”یہ بچہ ہے، یوسف چانڈیو جیسے گھاگ سیاست دان کا کیا مقابلہ کر سکے گا“۔ اس نشست پر بھٹو صاحب کو خود امیدوار کھڑا ہونا پڑا تھا۔ بدین کی نشست پر میر علی احمد تالپور کو ٹکٹ کی پیش کش کی گئی تو انہوں نے بھی کوئی عذر اختیار کر لیا اور بھٹو صاحب کو ہی کونسل مسلم لیگ کے سربراہ حاجی نجم السیدین سریوال کے مقابلے میں کاغذات داخل کرنا پڑے تھے ۔ میر علی احمد اور حاجی نجم الدین پرانے دوست تھے۔ اگر پیپلز پارٹی کو وسائل سے محروم (have nots) لوگوں کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو 1970ءکے انتخابات میں کوئی ، مبشر حسن، ملک معراج خالد ، کوثر نیازی، حنیف رامے، شیخ رشید، خورشید حسن میر، ملک سلیمان، عبدالخالق خان ، احمد رضا قصوری، قاسم عباس پٹیل، عبدالستار گبول، عبدالحفیظ پیرزادہ، میر رسول بخش تالپور ، سید قائم علی شاہ، محمد خان سومرو، عبدالوحید کٹپر، اور درجنوں نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں میں نہ پہنچ پاتے۔

آج پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کو دیکھیں تو مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری نظر آتی ہے۔ خصوصاً صوبہ سندھ کے کسی بھی ضلع میں چلے جائیں رکن قومی اور صوبائی اسمبلی رشتہ دار ملیں گے۔ کئی مقامات پر تو رشتے بہت ہی قریبی ہیں۔ اجارہ داری نے پارٹی کو عوام سے نکال کر دوبارہ ڈرائنگ روم میں پہنچا دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بدل گئی اور اب یہ وہ پارٹی نہیں رہی جوپہلے تھی۔ بلاول بھٹو کو یہ دیکھنا ہوگا کہ پارٹی میں جو بھی لوگ اراکین اسمبلی ہیں ان میں سے کتنوں کا تعلق اس طبقے سے ہے جسے روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت ہے۔ خود بلاول اپنی انگلیوں پر گن سکتے ہیں کہ ان کے دھدیال کے کتنے لوگ پارٹی کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہو ئے ہیں۔ ان کے ننھیال میں سے تو کوئی زندہ بچا ہی نہیں ۔ پارٹی کے رہنماءیہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ پارٹی نے عوام کی خدمت کی ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران سندھ میں جو دو خطر ناک سیلاب آئے ان میں پارٹی کے وزرا ءکی کارکردگی پر سوالیہ نشانات پائے جاتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کو تو ایک طرف رکھیں کیوں کہ پیپلز پارٹی متحدہ قومی موومنٹ کو اردو بولنے والوں کی اجتماعی سودا کاری ایجنٹ تصور کرتی ہے اس لئے پارٹی رہنماﺅں کی اکثریت کے دلوں میں ان کے لئے گنجائش نہیں پائی جاتی ہے لیکن پارٹی رہنماﺅں کی اسی اکثریت کی دل میں ایسے غریب اور وسائل سے محروم سندھیوں کے لئے بھی گنجائش نہیں ہے جن کے پاس سفارش نہیں ہے، جو بااثر نہیں ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام ان لوگوں کی پارٹی کی حیثیت سے عمل میں آیا تھا جن کا شمار وسائل سے محروم طبقے (have nots) میں کیا جاتا تھا۔ وسائل سے مالا مال (Haves) لوگوں کے طبقے کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل ہی نہیں دی گئی تھی۔ پارٹی کی دستاویزات ہوں یا پارٹی ٰ کے بانی چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کی تقاریر ہوں ، ان سے دوبارہ استفادہ کیا جائے تو بات سمجھ میں آجائے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے قیام کے وقت تازہ ہوا کا وہ جھونکا تھی جو سب کی پارٹی تھی۔ رنگ، نسل، قبیلہ، زبان، مسلک،کی تفریق اور تقسیم سے بالا تر ایک ایسی سیاسی جماعت جو پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانا چاہتی تھی ، جو کسی امتیاز کے بغیر تمام لوگوں کے لئے انصاف ، مراعات، سہولتیں اور مواقع چاہتی تھی۔ اس وقت کے صوبہ مغربی پاکستان کے گورنر جنرل موسیٰ خان نے جب ایک بیان میں طنز کیا تھا کہ پیپلز پارٹی تانگے والوں کی پارٹی ہے تو ذوالفقار علی بھٹو نے جوابی بیان میں کہا تھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ پاکستان کے اس اکثریتی طبقے کے رہنماءہیں جو وسائل سے محروم ہیں۔ حیدرآباد میں 21ستمبر 1968ءمیں ذوالفقار علی بھٹو کی تقریر کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبہ سندھ کے پہلے صدر میر رسول بخش تالپور حیدرآباد میں اس وقت دیگر کئی محنت کش تنظیموں کے ساتھ ساتھ تانگے والوں کی یونین کے سر پرست بھی تھے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے فرزند بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بنا دئے گئے اور ان کے والد آصف علی زرداری شریک چیئرمین بن گئے۔ بلاول بے شک یہ کہتے رہیں کہ پیپلز پارٹی کسی سرمایہ کار، ملا یا کھلاڑی کی جماعت نہیں جو ختم ہو جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی آج اپنی کوئی نظریاتی شناخت نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ا یسے افراد کے ایک گروہ کے تابع ہو گئی ہے جو صرف اور صرف اقتدار میں رہنا چاہتا ہے۔ یہ وہ مجنوں ہیں جنہیں ہرحال میں وزارت اور اسمبلی کی رکنیت چاہئے۔ یہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ مخالفین کی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے میدان ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس تماش گاہ میں پارٹی کے رہنماﺅں کی یہ خوش گمانی ہے کہ پارٹی ہی نمائندہ جماعت ہے۔ پارٹی کے سیاسی مخالفین اپنی کوتاہ نظری، سیاسی مفادات کے حصول کی جلد بازی،تنظیمی کمزوریوں اور اتحاد کی برکت سے محروم ہونے کی وجہ سے تقسیم در تقسیم ہیں اسی طرح جیسے 1970 ءکے انتخابات میں مغربی پاکستان میں ووٹروں کی اکثریت نے پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف ووٹ دیا تھا چونکہ مخالفین کے ووٹ تقسیم ہو گئے تھے اس لئے نمائندگی کی عدوی کامیابی عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کے حصے میں آ گئی تھی اور دونوں جماعتوں کو اکثریت حاصل ہو گئی تھی۔ شرمیلا بوس نے اپنی کتاب

(Dead Reckoning - Memories of the 1971 Bangladesh War )

 میں بہت چھان پھٹک کر باریک بینی کے ساتھ ایک تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ عوامی لیگ نے ملک بھر کے کل ووٹ کا 38 فیصد حاصل کیا تھا جب کہ پیپلز پارٹی کو 20 فیصد ووٹ ملے تھے۔ 1970 ءکے بعد میں بھی ہونے والے انتخابات میں بھی ایسا ہی نظر آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری اگر یہ کہتے ہیں کہ 2018ء کے انتخابات سے قبل دنیا کو دکھائیں گے کہ پیپلز پارٹی اب بھی ناصرف زندہ بلکہ زیادہ فعال ہے تو کوئی عجوبہ نہیں ہوگا ۔انہیں اپنے والد محترم آصف علی زرداری کی کمان کا تیر بننے کی بجائے یہ کرشمہ دکھانے کے لئے پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ آصف زرداری اور بلاول کی سیاسی سوچ میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ انہیں اس جنوں اورجذبہ اور روایت کو دکھانا ہوگا جو محترمہ بے نظیر بھٹو نے دکھایا تھا۔ اگر جنون نہ ہو تو روائتیں بدل جاتی ہیں اور جذبے مر جاتے ہیں ۔ حسرت موہانی ارشاد فرماتے ہیں:

خرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد

 جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

مزید :

کالم -