تھرکول گیسی فیکیشن پراجیکٹ جلد مکمل کرنے کی ضرورت

تھرکول گیسی فیکیشن پراجیکٹ جلد مکمل کرنے کی ضرورت

  

تھرکول پراجیکٹ کے چیئرمین ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ تھر پراجیکٹ آئندہ سال بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔ تھرکول گیسی فیکیشن پراجیکٹ کامیاب ہے۔ ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا دو ماہ پہلے کول گیسی فیکیشن کے ماہرین کی دُنیا کی ایک مایہ ناز ٹیم نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے اس پائلٹ پراجیکٹ کا موقع پر جا کر معائنہ کیا تھا۔ ٹیم نے پراجیکٹ کے کامیاب ہونے کی توثیق کر دی۔ انہوں نے کہا تھرپارکر میں175ارب ٹن کوئلہ زیر زمین ہے اور اگر اسے دیانتداری اور دانشمندی سے استعمال کیا جائے، تو پاکستان سے ہمیشہ کے لئے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے تھرکول اور اسے زیر زمین جلا کر گیس میں تبدیل کر کے(گیسی فیکیثن) نکالنے اور پھر اسے بجلی بنانے کے لئے استعمال کرنے کے بارے میں ہمیشہ رجائیت پسندی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں، اُنہیں ضرورت کے مطابق فنڈز نہیں ملتے اور بعض اوقات ان میں دانستہ تاخیر بھی کی جاتی ہے۔ اگر درکار فنڈز بروقت ملتے رہیں تو پروگرام کے مطابق منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے، اب انہوں نے اگر یہ خوشخبری سنائی ہے کہ اگلے سال تک گیسی فیکیشن کے ذریعے بجلی بنانے کا آغاز کر دیا جائے گا، تو ایسے لگتا ہے کہ اُنہیں فنڈز ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ تاہم خبر میں اِس طرح کی کوئی اطلاع نہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے جب سے اِس پراجیکٹ پر کام شروع کیا ہے اسے ہدف ِ تنقید بنانے والے بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے ہیں اور وقتاً فوقتاً اُن کے ارشاداتِ عالیہ بھی سامنے آتے رہتے ہیں وہ اِس پراجیکٹ کو قابل ِ عمل ہی نہیں سمجھتے اور اسے وقت اور پیسے کا ضیاع تصور کرتے ہیں۔ منصوبے کے مخالفین کا تعلق بیورو کریسی سے بھی ہے اور اس سے باہر کے حلقوں میں بھی اس کی مخالفت ہو رہی ہے، جبکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ہمیشہ امید دلائی ہے اور کہا ہے تجربہ کامیاب رہا ہے اب اس میں کوئی رکاوٹ نہیں، اگر رکاوٹ ہے تو صرف سرمایہ کاری کی۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر صاحب درست بات کرتے ہیں یا اُن کے مخالفین؟

ملک کو بجلی کا جو بحران اس وقت در پیش ہے یہ بنیادی طور پر دو وجوہ کی بنا پر پیدا ہوا، ایک تو یہ کہ ہم نے بڑے ڈیم نہیں بنائے، ہماری سوئی کالا باغ ڈیم پر اٹکی رہی، ماہرین کہتے رہے کہ یہ ملک کی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ اس سے بہت سستی بجلی بن سکتی ہے، پانی کی ضروریات بھی پوری ہو سکتی ہیں۔لیکن مخالفین اس کی مخالفت پرڈٹ گئے، اب تو وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ اگلے 10،15 سال میں پاکستان پانی کے شدید بحران سے دوچار ہو سکتا ہے،بلکہ قحط کی صورت پیدا ہوسکتی ہے ہم نے کالا باغ ڈیم کی بے کار بحث میں عشرے گزار دیئے، گزار کیا دیئے ضائع کر دیئے، بجلی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہم نے دُنیا کا یہ سستا ترین ذریعہ کج بحثیوں کی نذر کر دیا اور بجلی کے حصول کے لئے تھرمل کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تھرمل بجلی بھی اگر واپڈا یا دوسرے سرکاری ادارے اپنے ذرائع سے بناتے تو شاید سستی تیار ہوتی، لیکن ہم نے یہ بجلی مہنگے داموں آئی پی پیز سے خریدنے کا فیصلہ کیا، جو نرخ آئی پی پیز کو دیئے گئے وہ خطے میں کہیں نہیں ہیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ مہنگی تھرمل بجلی خریدنے کے یہ معاہدے کر لئے گئے، جن پر واپڈا کے ایک چیئرمین جنرل ذوالفقار کے زمانے میں نظرثانی بھی ہوئی اور نرخ کچھ کم ہو گئے، لیکن پھر بھی یہ بجلی انتہائی مہنگے داموں تیار ہوتی تھی۔ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ بڑھنا شروع ہوئے تو اس کا براہ راست اثر اس بجلی کی تیاری پر پڑا اور بجلی مہنگی سے مہنگی ہوتی چلی گئی پھر آئی پی پیز کو ادائیگیاں تاخیر سے ہونے لگیں، تو انہوں نے پیداوار بند کرنے یا کم کرنے کا راستہ اختیار کر لیا۔ انہیں رو دھو کر ادائیگیاں کی گئیں، تو تھوڑے ہی عرصے میں گردشی قرضے پھر بڑھنا شروع ہو گئے۔ موجودہ حکومت نے480ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کئے ہیں اور اطلاع یہ ہے کہ یہ بوجھ دوبارہ200 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر 500 ارب کا ہندسہ چھونے اوراسے عبور کرنے میں کتنی دیر لگے لگی؟ اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

دراصل تھرمل بجلی وہ پیر تسمہ پا ہے جو ہماری معیشت کی گردن پر سوار ہو چکا ہے اور جب تک یہ اس کے ساتھ چمٹا رہے گا اس وقت تک خوشحالی کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، مہنگی بجلی کا بوجھ سبسڈی کی صورت میں حکومت پر پڑے یا بجلی کے نرخ بڑھا کر صارفین پر ڈالا جائے دونوں صورتوں میں ایک عذاب ہے جو قوم کو بھگتنا پڑے گا اور اس وقت تک بھگتنا پڑے گا جب تک ہم سستی بجلی بنانے کے لئے تیار اور قابل نہیں ہو جاتے۔ سستی بجلی کے لئے ہائیڈل ذرائع کا استعمال بہترین ہے اس کے بعد ایٹمی بجلی گھروں سے بھی سستی بجلی مل سکتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کا سنگ ِ بنیاد گزشتہ ہفتے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کراچی کے ساحل پر رکھا ہے اور ایسے مزید چھ بجلی گھر بنانے کی نوید بھی دی ہے، لیکن ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کوئلے کو گیس میں تبدیل کر کے نکالنے کا جو منصوبہ شروع کر رکھا ہے اگر یہ مفید ہے تو اسے ترجیحی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور اسے محض اس لئے تاخیر کا شکار نہ ہونے دیا جائے کہ فنڈز دستیاب نہیں یا بروقت مہیا نہیں کئے جا رہے۔ سوال یہ ہے کہ ترکمانستان یا بھارت سے بجلی خریدنے کی جو باتیں ہو رہی ہیں کیا وہاں سے بجلی مفت یا خیرات میں ملے گی؟ اس کے لئے بھی تو فنڈز درکار ہوں گے اور وہاں سے بجلی لانے کے لئے بھی کئی سال لگ جائیں گے۔ بھارت سے بجلی نسبتاً جلد مل سکتی ہے، لیکن وہ بھی تین سال سے کم عرصے میں نہیں ملے گی، پھر حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بجلی بھی ابتدا میں 500میگاواٹ ملے گی، جو لاہور کی ضرورت بھی پوری نہیں کر سکتی، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم درآمدی بجلی پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی بجلی بنائیں اور سستی بنائیں، جو بھاری رقوم درآمد پر خرچ ہوں گی وہ تھرکول پراجیکٹ پر لگائیں۔ تھرکول سے اگر جلد(آئندہ سال) بجلی بنانا شروع ہو سکتی ہے تو ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو پورے فنڈز مہیا کر دینے چاہئیں۔ اگر بیورو کریسی کے کِسی حصے کے خدشات حقیقی ہیں، تو اُن کا نقطہ نظر بھی سمجھ لینا چاہئے۔ ممکن ہے بیورو کریسی کے کچھ لوگ مہنگی تھرمل بجلی کے چکر سے نہ نکلنا چاہتے ہوں، کیونکہ یہ بجلی اور اس کی ادائیگیاں کرتے ہوئے متعلقہ لوگ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں ایسی شکایات بھی ہیں کہ جو کمپنیاں متعلقہ افسروں کی مٹھی گرم کر دیتی ہیں انہیں ادائیگی جلد کر دی جاتی ہے۔ یہ سارے مسائل ایک جگہ بیٹھ کر طے کر لئے جائیں۔ یہ معاملہ وزیراعظم کی سطح پر ہی حل ہو سکتا ہے۔ وہ بجلی کا بحران بھی جلد از جلد حل کرنا چاہتے ہیں، تو کیوں نہ تھر کے کوئلے کا صحیح استعمال کیا جائے، جو عشروں سے دریافت ہو چکا ہے، لیکن زمین سے نکالنے کے معاملے میں ہم سست روی کا شکار ہیں اور جو سائنس دان اسے نکالنے کے طریقے بتا رہا ہے اس کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اِس سارے معاملے پر متعلقہ لوگوں کو سامنے بٹھا کر بات کریں اور ہمیشہ کے لئے معاملہ طے کر دیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند جو کہتے ہیں، اُنہیں کر کے دکھانے کا موقعہ دیا جائے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو اِس شغل سے روک دیا جائے۔

تاوان کے عوض ڈاکٹر عبدالمناف کی رہائی؟

کوئٹہ (بلوچستان) کے سینئر ڈاکٹر (امراض قلب) عبدالمناف ترین بازیاب ہو گئے اور اغوا کار ڈھائی ماہ کے بعد اُن کو لسبیلہ کے علاقے اتھل کے ایک پٹرول پمپ پر چھوڑ گئے۔ میڈیکل ایسوسی ایشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ترین کو پانچ کروڑ روپے تاوان کے عوض رہائی ملی ہے، جبکہ خود ڈاکٹر ترین نے اخبار نویسوں کے سوالات کے جواب نہیں دیئے اور صرف اتنا کہا کہ اُن کو معلوم نہیں کہ تاوان دیا گیا یا نہیں۔

ڈاکٹر عبدالمناف ترین کو17ستمبر کو اُس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ اپنے نجی کلینک سے گھر جا رہے تھے۔ اُن کے اغوا کے خلاف احتجاج کے لئے ڈاکٹر حضرات نے مظاہرے کئے اور ہڑتال بھی کی تھی، لیکن وہ بازیاب نہ ہوئے۔ جمعہ کو خود اُن کی طرف سے اتھل سے لسبیلہ پولیس سے رابطہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ اغوا کار ان کو یہاں چھوڑ گئے ہیں۔ پولیس جلد حرکت میں آئی اور پھر اعلیٰ حکام کی ہدایت پر اُن کو کراچی لے جا کر ایک نجی ہسپتال سے اُن کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ بعدازاں اتوار کو انہیں بذریعہ طیارہ کوئٹہ پہنچایا گیا۔ پولیس حکام نے تاوان کے حوالے سے تردید یا تائید سے گریز کیا اور موقف اختیار کیا کہ ڈاکٹر مناف کو چاہئے کہ وہ تفتیش کاروں کو پوری تفصیل سے آگاہ کریں تاکہ پولیس ملزموں تک پہنچنے کی کوشش کرے۔

ڈاکٹر عبدالمناف ترین کا بخیریت واپس گھر آنا پورے خاندان کے لئے خوشی کا باعث بنا ہے اور سب نے اللہ کا شکر ادا کیا،جہاں تک تاوان کی ادائیگی کا تعلق ہے تو کوئی اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کے باوجود اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈھائی ماہ کے بعد اگر اُن کو بخیریت چھوڑا گیا توکوئی ڈیل ہوئی ہو گی؟ پولیس کو صرف سوال ہی نہیں کرنا چاہئیں اسے اپنی تنظیمی اور تفتیشی صلاحیتوں کا جائزہ لے کر مستقبل کی پیش بندی کرنا چاہئے۔

اغوا برائے تاوان اغوا کار ملزموں کے لئے ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے اور اِن وارداتوں میں اضافہ بھی ہوا ہے، اکثر مغوی تاوان کی ادائیگی کے بعد ہی واپس آتے ہیں۔ اگر کسی اِکا دُکا واردات میں پولیس کو کامیابی ہوئی بھی ہے، تو وہ بھی جسمانی نقصان کے بعد ہوئی۔ حکومت اِس سلسلے میں کوشش ضرور کر رہی ہو گی، لیکن جب تک کوئی مثبت نتائج سامنے نہ آئیں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ایسی وارداتیں روکنے کے لئے زیادہ ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے ۔   ٭

بجلی صارفین کو رعایت!

نیپرا نے بجلی کے بلوں پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر وصول کئے جانے والی رقم اقساط میں واپس کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر کیا گیا ہے اور جولائی 2012ءسے مئی2013ءتک وصول کئے گئے چارجز ماہ بمعہ اقساط ہی میں واپس کئے جائیں گے۔ رواں ماہ میں جولائی2012ءکے مجموعی یونٹوں پر ایک روپیہ44پیسے کے حساب سے رقم بل سے منہا کر دی جائے گی اور اِسی طرح بتدریج ایک روپیہ55پیسے،42پیسے، 2روپے 39پیسے فی یونٹ جنوری، فروری اور مارچ کے بلوں میں کم کئے جائیں گے اور اِسی طرح بتدریج 11ماہ میں صارفین سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر43ارب روپے واپس ہوں گے، جو وصول کئے گئے تھے۔ اس کا اطلاق کے ای ایس سی پر نہیں ہوتا کہ یہ کمپنی نجی شعبہ کے پاس ہے۔

حکومت کی ہدایت پر رقوم واپس کرنے کا یہ فیصلہ اچھی نظر سے دیکھا جائے گا اور قابل تعریف ہے۔ آج کے دور میں جب بجلی کے نرخ بڑھا دیئے گئے اور عوام چیخ و پکار کر رہے ہیں اتنی ریلیف بھی اُن کے لئے سکھ کا سانس لینے کے مترادف ہو گی۔

حکومت ایک سیاسی حکومت ہے جو عوامی ووٹوں سے منتخب ہوئی اُسے عوام کے مسائل کا ادراک ہے، تو اُن کو حل کرنے کا بھی سلسلہ ہونا چاہئے۔ یہ ایک بہتر فیصلہ ضرور ہے تاہم جو نرخ بڑھائے گئے اُن کو بھی زیر غور لا کر صارفین کے لئے کسی رعایت کا اہتمام کرنا چاہئے، خصوصاً درمیانہ اور نچلے درمیانے طبقے کا لحاظ ضروری ہے۔

مزید :

اداریہ -