گورنر پنجاب اور رفیع بٹ روڈ کی افتتاحی تقریب

گورنر پنجاب اور رفیع بٹ روڈ کی افتتاحی تقریب
گورنر پنجاب اور رفیع بٹ روڈ کی افتتاحی تقریب

  

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے 30 نومبر 2013ءکو مسلمانان ہندوستان کے منتشر شیرازے کو مجتمع کر کے تحریک قیام پاکستان کا آغاز کر دینے والے رہبر فرزانہ اور بانی پاکستان و بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ایک جاں نثار محمد رفیع بٹ کے اسم گرامی سے موسوم کی جانے والی ایک شاہراہ ”رفیع بٹ روڈ“ کا افتتاح کیا حالانکہ ابھی وہاں کوئی سڑک موجود نہیں ہے صرف فیروز پور روڈ کے نیچے سے گزر کر زیریں انداز میں ملتان روڈ سے آگے بڑھ جانے والا وہ گندا نالہ موجود ہے جو روز نامہ ”پاکستان“ لاہور کے دفاتر کے قریب سے جیل روڈ کے نیچے سے گزر کر فیروز پور روڈ کی طرف بڑھتا ہے، کچھ مدت پہلے سنا تھا کہ پنجاب حکومت شاید اس نالے کے اوپر کوئی قابل دید سڑک بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے چنانچہ اس باب میں اکھاڑ پچھاڑ بھی کی گئی اور جاری بھی ہے، تعمیراتی سامان اور انداز بھی نظر آتا ہے مگر حقیقتاً وہ کیا منصوبہ ہے اس کا ذکر اس تقریب میں بھی نہ کیا گیا جس کا اہتمام فیروز پورروڈ کے ساتھ ”ایل او ایس“ کے پرانے اڈے اور ”ریسکیو 1122“ کے دفاتر کے پہلو میں کیا گیا تھا۔ دعوتی کارڈ پر مہمانوں کو ایک بجے تشریف آور ہونے کی تاکید کی گئی تھی اس لئے ہم جناب قائد اعظمؒ کی ہدایات و پابندی¿ اوقات کی روایات کے مطابق ٹھیک ایک بجے جائے تقریب پر پہنچ گئے یوں ہمیں ایک خوبصورت ویرانے کا سامنا تو کرنا پڑا مگر پر کشش انتظامات کی زیب و زینت کا جائزہ لینے کا خاصہ وقت مل گیا اور ہم وہ بھنک بھی کان میں محفوظ کر چکے تھے کہ گورنر پنجاب دو بجے تک تشریف آور ہونے والے تھے، کچھ دیر کے بعد ایک ایسے شخص نے جو بعد ازاں سٹیج سیکرٹری کے منصب پر فائز نکلا روسٹرم اور اس پر رکھے ہوئے مائیک کا انتظام کرنے والوں سے کہا کہ ”بھٹی اس مائیک کو تو اونچا کرو کیونکہ اس مائیک کے سٹینڈ سے تو میں بھی اونچا ہوں اور گورنر پنجاب تو مجھ سے بھی لانبے ہیں چنانچہ مائیک کو حسب گنجائش اونچا کر دیا گیا روسٹرم کے ساتھ ہی دائیں طرف بانی پاکستان جناب قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی ایک قد آدم تصویر کے ساتھ رفیع بٹ کی تصویر بھی اتنی ہی قامت کے ساتھ اس طرح نظر آ رہی تھی کہ جیسے وہ تصویر کسی ایسے موقع پر اتاری گئی تھی جب کسی تقریب میں جناب قائد اعظمؒ کی تشریف آوری پر رفیع بٹ ان کا استقبال کرنے کے بعد جناب قائد اعظم کو اسکارٹ کر کے لا رہے تھے چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ”رفیع بٹ روڈ“ کی اس تقریب میں جو شخصیت بھی تشریف آور ہوتی اس کی نگاہیں پہلے اس پر کشش تصویر پر جم جاتیں اور لطف اندوز ہوتیں، سٹیج پر براجمان شخصیات کے عقب میں ایک ایسا بینر بھی آویزاں تھا جس پر رفیع بٹ کی ایک بڑی تصویر مرتسم کر دی گئی تھی، سفید پوش کرسیاں اور سٹیج کو ڈھانپنے والی سفید چادریں بھی خوبصورت نیلے ریشمی ربن سے مزین کر دی گئی تھیں یوں انتظامات کی سجاوٹ کی جھلک دل و نگاہ کو لبھا رہی تھی۔ ہم اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ تقریباً سوا دو بجے بعد از دوپہر گورنر پنجاب بھی پہنچ گئے اور اوپن پنڈال میں داخل ہونے سے پہلے انہوں نے اس ”رفیع بٹ روڈ“ کا افتتاح کیا جو شاید ابھی تعمیر ہو گی کیونکہ مذکورہ نالے کے دونوں طرف جو چھوٹی چھوٹی سڑکیں موجود ہیں ان کو تو یقیناً جناب قائد اعظم ؒکے ایک جاں نثارکے اسم گرامی سے موسوم نہیں کیا گیا ہوگا پھر سٹیج سے اعلان کیا گیا کہ گورنر پنجاب تشریف لا رہے ہیں ان کا اٹھ کر اور بھرپور تالیوں سے استقبال کیا جاتا،چنانچہ مہمانان گرامی نے پوری تکریم اور آداب کے ساتھ ”چیف گیسٹ“ کا سواگت کیا۔ رفیع بٹ کے صاحبزادے امتیاز رفیع بٹ جو اس ساری تقریب کے منتظم تھے گورنر پنجاب کے ساتھ تھے اور سٹیج پر چیف گیسٹ کے بائیں طرف براجمان ہوئے اور چند لمحات کے بعد اپنا استقبالیہ سپاس پیش کیا مگر انگریزی کو ذریعہ ¿ اظہار بنایا حالانکہ گورنر پنجاب نے اپنے ٹھیٹھ اردو خطاب سے اختصاراً سامعین کو نوازا جبکہ امتیاز رفیع بٹ نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی مگر ثابت کیا کہ وہ اپنے والد کے تذکار کے ملبوس میں جناب قائد اعظمؒ کی عقیدت وارادت سے سرشار ہونے کا ثبوت فراہم کر رہے تھے۔

 محمد رفیع بٹ نئی انارکلی کے قریب جراحی آلات بنانے والی ایک ایسی فیکٹری کے مالک تھے جو ان کے والد غلام نبی بٹ نے قائم کی تھی جو عین اس وقت وفات پا گئے جب محمد رفیع بٹ ابھی صرف 16 برس کے تھے یوں رفیع بٹ واقعی ایک نہایت کٹھن آزمائش میں آ گئے مگر ان کے والد کی فیکٹری میں تیار ہونے والے آلاتِ جراحی میوہسپتال میں مکمل طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ پھر 1909ءمیں اندرون لاہور کے ”نیواں کٹڑہ“ میں پیدا ہونے والے رفیع بٹ 26 نومبر 1948ءکو صرف 39 برس کی عمر میں ایک ہوائی حادثے کی نذر ہو گئے اس وقت تک وہ محض آلات جراحی بنانے والی اپنی فیکٹری تک ہی محدود نہ تھے بلکہ اپنی ایک صنعتی اسٹیٹ اور برصغیر میں مسلمانوں کا ایک اولین بینک قائم کر دینے کی صلاحیت کا اظہار بھی کر چکے تھے اور 1940ءتک مسلمانان برصغیر کے رہبر فرزانہ اور ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی عروقِ مردہ میں زندگی کی تازہ لہر دوڑا دینے والے بطلِ جلیل حضرت قائد اعظمؒ محمد علی جناح کے فکر و تدبر اور سیاسی دانش و بصیرت سے متاثر ہو کر تحریک قیام پاکستان کے لئے جناب قائد اعظمؒ کے ایک ادنیٰ مگر پر جوش اور وفا شعار کارکن کے طور پر ان کے دائرہ قیادت میں اتر جانے کا عزم بھی کر چکے تھے، امتیاز رفیع بٹ اپنے استقبالیہ سپاس میں جب وہ حقائق پیش کر رہے تھے تو گورنر پنجاب کے ساتھ آئے ہوئے گورنر بلوچستان اور سٹیج پر امتیاز رفیع بٹ کے بائیں طرف فروکش ”ریسکیو 1122“ کے ڈائریکٹر جنرل رضوان نصیر بھی متاثر ہو رہے تھے اور وہ کیوں متاثر نہ ہوتے جبکہ مسلمانان برصغیر کے خلاف مکار ہندو کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو تار عنکبوت بنا کر ژولیدہ اور پژمردہ مسلمانوں کو ہندو کے مد مقابل آ جانے والی ایک عظیم سیاسی اور قومی قوت بنا دینے والے مسیحا جناب قائد اعظم ہی وہ عظیم ہستی ہیں کہ جن کے تذکار ہر سچے پاکستانی کو سرشار کر دیتے ہیں، خود گورنر پنجاب کے چہرے پر امتیاز رفیع بٹ کے خیالات سے آگاہ ہو کر جو تاثرات ابھر رہے تھے ان سے قطعاً ظاہر ہورہا تھا کہ وہ خود بھی جناب قائد اعظم کے شیدائی و فدائی اور سچے پاکستانی ہیں، انہوں نے اگرچہ اپنی زندگی پاکستان کے باہر گزار دی ہے مگر ایک رتبہ تو ان کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے بالآخر پاکستان ہی نے عطا کیا ہے۔ حالانکہ اس سے میرے جیسے ان لوگوں کی بڑی حق تلفی ہوئی ہے جو اپنی زندگی کا ایک ایک سانس پاکستان کی خدمت کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان سے باہر جا کر کسی اور قوم کے لئے وقف ہو جانے کا تصور تک بھی نہیں کرتے اور اگر ان کو گورنر کے منصب پر خدائے تعالیٰ فائز فرما دے تو پھر وہ یگانہ روز گار گورنر بھی ثابت ہوں۔ بہر حال جب موجودہ گورنر پنجاب استقبالیہ سپاس کا جواب دینے کے لئے روسٹرم پر تشریف لائے تو سٹیج سیکرٹری کی بات سچ لگی کیونکہ گورنر پنجاب اتنے رعنا اور لانبے ہیں کہ روسٹرم اور اس پر پڑا ہوا مائیک نیچے ہی رہ گئے تاہم گورنر نے امتیاز رفیع بٹ کے والد کی خدمات کو سراہا اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کی بھی تعریف کی اس وقت رضوان نصیر کے رخسار قندھاری انار بن گئے مگر گورنر پنجاب نے لاہور کے سکولوں میں پئے جانے والے پانی کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے 38 سکولوں کا پانی ٹیسٹ کر ایا ہے صرف تین سکولوں کا پانی پینے کے قابل نکلا ہے باقی سکولوں کے بچے تقریباً زہر پی رہے ہیں چنانچہ ہم گورنر سے عرض کریں گے کہ ہمارا گھر سکول تو نہیں مگر ہمارے گھر کا پانی تو ٹیسٹ کرا دیں کہیں ہم عظیم اور نایاب لوگ بھی زہر ہی تو نہیں پی رہے۔

مزید :

کالم -