خطے کا امن مفاہمت میں مضمر ،مذاکرات ہوں گے؟حکومت ،طالبان رابطے بحال تجزیہ : چودھری خادم حسین

خطے کا امن مفاہمت میں مضمر ،مذاکرات ہوں گے؟حکومت ،طالبان رابطے بحال تجزیہ : ...

  

معتبر اطلاع ہے کہ حکومت اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطے جاری ہیں اور طریقہ کار طے کیا جا رہا ہے کہ ریاست کے وقار اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ مذاکرات کہاں اور کیسے ہوں ؟اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ،ایک معاصر کی یہ بھی اطلاع ہے کہ کابل میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران اس امر کا بھی جائزہ لیا گیا کہ طالبان اور امریکہ (نیٹو ) کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران ٹوٹے مذاکرات کس طرح شروع ہو سکتے ہیں ،وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے ملک کے مفادات کی رو شنی میں امن کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور اس بات چیت میں یہ بھی سوچا گیا کہ طالبان کو متحدہ عرب امارت کی طرح دفتر کھو لنے کی سہو لت بہم پہنچائی جائے اور ترکی یا سعودی عرب میں یہ دفتر کھول دیا جائے ،میاں محمد نواز شریف نے افغان معاملات میں کسی مداخلت کے بغیر اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ بھی کہا ہے اگر افغان حکومت ملا برادرز سے ملاقات کے لیے کوئی وفد بھیجے تو اسے سہولت بہم پہنچائی جائے گی ۔ ملا برادرز رہا کیے جا چکے ہیں اور وہ کراچی میں ہیں ۔

وزیراعظم میاں نواز شریف وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وفاقی وزیر اطلاعات سینٹر پرویز رشید نے اپنے لگ الگ بیانات میں مذاکرات کیلئے عزم کا اظہار کیا ، وفاقی وزیر داخلہ تو یہ تک کہ گئے کہ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کو مارنے سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات نہیں ہونے دینا چاہتا ،اطلاع ہے کہ اب حکومت پاکستان نے سفارتی سطح پر امریکہ سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے عمل کے دوران ڈرون حملوںسے اجتناب برتے اس سلسلے میں سرتاج عزیز تو یہ کہہ بھی چکے تھے کہ پھر ڈرون حملہ ہو گیا ۔

جہاں تک مذاکرات کا تعلق ہے تو ان میں تاخیر اور حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد صورت حال نے کافی پیچیدگی اختیار کی اس کے علارہ ملک کے اندر تبدیلیوں کا عمل ہونا تھا جو اب مکمل ہو چکا ہے تو یہ بات بھی سامنے آئی کہ مذاکرات کیلئے زمین ہموار ہو رہی ہے ۔اس سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ نئی عسکری قیادت بھی حکومت کے فیصلے کی حمایت میں ہے اور اس سلسلے میں تعاون کرے گی اور حکومت جو فیصلہ کرے گی اس کی تائید کی جائیگی ۔

اس وقت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے جو صورتحال ہے وہ کافی پیچیدہ ہے دہشت گرد ی کی وارداتوں میں بظاہر کمی آئی لیکن پھر بھی اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں اور بڑے حادثات کا خدشہ رہتا ہے ،کئی بار تو یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ طالبان کی آڑ میں جرائم پیشہ گروہ وارداتیں کر رہے ہیں امن خود طالبان کے حق میں بھی ہے ان کو بھی اس پر غور کرنا چاہئے اور فریقین کو شرائط سے پرہیز کر کے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے بعد بات شروع کرنی چاہئے کہ کوئی نتیجہ نکل سکے۔

تجزیہ

مزید :

صفحہ اول -