لاپتہ افراد کیس، پانچ دسمبرکو آئی جی ایف سی بلوچستان طلب ، حکم دیاتو وزیراعظم اورآرمی چیف کو بھی نتائج بھگتناپڑسکتے ہیں: سپریم کورٹ

لاپتہ افراد کیس، پانچ دسمبرکو آئی جی ایف سی بلوچستان طلب ، حکم دیاتو ...

د وبازیاب افراد کی شناخت خفیہ رکھنے کی استدعامنظور، تحریری جواب دیں، آئی جی ایف سی کی عدم پیشی پر توہین عدالت کا نوٹس دیں گے: عدالت عظمیٰ

لاپتہ افراد کیس، پانچ دسمبرکو آئی جی ایف سی بلوچستان طلب ، حکم دیاتو وزیراعظم اورآرمی چیف کو بھی نتائج بھگتناپڑسکتے ہیں: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں پانچ دسمبرکو آئی جی ایف سی بلوچستان کو طلب کرلیا ہے اور واضح کیاہے کہ عدم پیشی کی صورت میں توہین عدالت کا نوٹس دیاجائے گا۔ عدالت کو بتایاگیاکہ لاپتہ افراد میں سے مزید تین افراد بازیاب ہوچکے ہیں جن میں سے دو افراد اپنے خاندان کے ساتھ ہیں جبکہ ایک شخص بیرون ملک موجود ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ تین لوگوں کی بازیابی محض مونگ پھلی کے دانے جیسے ہیں، عدالتوں کو لالی پاپ مت دیں،حکم دیا تو آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بھی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔عدالت نے حکم دیاکہ پوسٹمارٹم کرنیوالے ڈاکٹر کو شامل کرکے حراستی مرکز میں دوافراد کی ہلاکت کا مقدمہ درج کریں اور بازیاب ہونیوالے افراد کی رہائی اور حراستی مرکز کے بارے میں تحریری طورپر آگاہ کریں۔وزارت دفاع کی استدعا پر عدالت نے لاپتہ افراد کی پیشی کے لیے دودن کی مہلت دیتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے سے کسی کامورال ڈاﺅن نہیں ہوتالیکن عدالتوں میں پیشی سے مورال ڈاﺅن ہوتاہے ، پیرکو اٹارنی جنرل کو خوش کیا، منگل کو وزیردفاع کو بھی خوش کردیتے ہیں لیکن آپ بھی عدالت کو خوش کریں ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت قائم مقام سیکریٹری دفاع نے عدالت کو بتایاکہ تین مزید افراد کا پتہ چلا ہے، حبیب اللہ 18 دسمبر 2012 ءکو پشاور سے بیرون ملک گیا، حبیب اللہ بحالی مرکز میں تھا، اسے چھوڑا گیا تو وہ بیرون ملک چلا گیا۔دو مزید افراد کی شناخت ہوئی جو اپنے خاندان کے ساتھ بخوشی رہ رہے ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ان کے بارے میں نہ پوچھے، ان دو افراد کی شناخت ظاہر کی گئی تو ان کی سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوں گے جس پر عدالت نے استدعا منظور کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ محض تین لوگ ہیں، 30 فیصد لوگ بھی لے آتے تو کہتے کہ پیش رفت ہوئی، یہ مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے، ہمیں لالی پاپ مت دیں۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تحریری طور پر بتائیں کہ ان لوگوں کو کب اور کہاں رکھا گیا؟ بتایا جائے کہ انہیں کب چھوڑا گیاَ؟ سیکریٹری دفاع نے کہاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی بہت خطرناک عمل ہے، سردار علی اور ناصر خان کا پوسٹمارٹم ہوا، ان کی طبعی موت تھی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جو لوگ مرے ہیں، ان کا مقدمہ درج کرایا جائے، پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹرز کو بھی شامل کریں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے عدالت میں بیان دیا کہ اُنہیں چارج سنبھالے چار دن ہوئے ہیںاور یہ پیش رفت ہوئی،مجموعی طورپرپانچ لوگوں کا پتہ لگ گیا، وزیراعظم اور آرمی چیف سے بھی بات کی ہے، لاپتہ افراد بازیاب ہوں گے، گمشدگی کے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ چلے گا، ماورائے آئین روایت ختم ہو گی۔ اُنہوں نے عدالت سے پوچھاکہ بازیاب ہونیوالے تین افراد کو عدالت میںپیش کریں جس پر عدالت نے کہاکہ تین نہیں ، تمام لاپتہ افراد کو پیش کریںیامعلومات دینے والے افراد کے بارے میں بتائیں اور ایک گھنٹے کی مہلت دیدی ۔سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ حکم دیا تو آرمی چیف اور وزیر اعظم کو بھی نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں،لاپتہ افراد کے ذمہ داروں کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے گا، وزیر اعظم بھی عدالتی حکم ماننے کے پابند ہیں ،حکم دیا تو مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے موقف اختیار کیا کہ آرمی چیف اور وزیر اعظم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کی یقین دہانی کرائی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ لوگ چاہیں تو لاپتہ افراد ایک گھنٹے میں بازیاب ہو سکتے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے آئی جی ایف سی کی طرف سے سیل بند لفافہ عدالت میں پیش کیا جس پرچیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکریٹری دفاع کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ کل دو افراد کے مرنے کی اطلاعات تھیں ،آج 3 افراد کا پتا چل گیا، آپ کو سب پتا ہے کہ لاپتہ افراد کہاں ہیں اور سربمہر لفافہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم وزیر اعظم کو بھی ماننا پڑتا ہے اگر سیکیورٹی کا مسئلہ ہے تو دیکھ لیا جائے گا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ لاپتہ افراد کو پیش کرکے اپنی عزت بھی بچائیں اور ہمارا بھی خیال کریں ،عدالت اس سے زیادہ سہولت نہیں دے سکتی۔ عدالت نے پانچ دسمبرکو آئی جی ایف سی کو طلب کرلیا اور واضح کیاکہ اگر آئی جی ایف سی پیش نہ ہوئے تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی ۔ ایف سی کے نمائندے نے عدالت سے استدعا کی کہ آئی جی ایف سی اگر عدالت میں پیش ہوئے تو پوری بٹالین کا مورال گرے گاجس پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتوں میں پیشی سے کسی کا مورال ڈاﺅن نہیں ہوتابلکہ اضافہ ہوتاہے ، ملک کے وزیراعظم بھی عدالتوں میں پیش ہوئے البتہ آئی جی ایف سی کسی ذمہ دارافسر کو پیش کرسکتے ہیں ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ریاست کے ریاست بنانے سے مورال ا پ ڈاﺅن نہیں ہوتالیکن عدالتوں میں پیشی سے مورال ڈاﺅن ہوناسمجھ سے بالاتر ہے ۔ وزیردفاع نے استدعاکہ کچھ مہلت دی جائے جسے قبول کرتے ہوئے سماعت دودن کے لیے ملتوی کردی اور ریمارکس دیئے کہ گذشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو خوش کیا، آج آپ کو کردیتے ہیں لیکن آپ بھی عدالت کو خوش کریں ۔

مزید :

اسلام آباد -Headlines -