ماحولیاتی کانفرنس اور نواز شریف

ماحولیاتی کانفرنس اور نواز شریف

  



عالمی ماحولیاتی کانفرنس پیرس میں زور شور سے جاری ہے،دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اپنے ہی پھیلائے کاربن فضلے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں اور اب اس ضمن میں بہتری چاہتی ہیں،اسی سلسلے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف کانفرنس COP21پیرس میں تشریف بھی لائے اور یہاں عالمی لیڈروں سے ملاقات بھی کی۔ میاں محمد نواز شریف سے ایک صحافی ہونے کے ناطے ملاقات تو پہلے بھی کر چکا ہوں، لیکن گزشتہ روز پاکستان سے باہر پیرس میں ہونے والی ملاقات اس لحاظ سے اہمیت کی حامل تھی کہ یہاں میاں محمد نواز شریف کے ساتھ کوئی وزراء یا مشیران اور خواہشمندانِ دیدار کی لمبی قطارموجود نہیں تھی ، اور نہ ہی پاکستانی سیکیورٹی کے مسائل آڑے آ رہے تھے ، جب میاں نواز شریف سے پاکستانی میڈیا نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو یہاں پر موجود پاکستانی عملے اور خاص کر میڈیا کو وزیراعظم کی خبریں جاری کرنے والے پی آر او نے پیرس اور پاکستان سے آئے صحافیوں کو اس سے بے خبر رکھنے کی بھرپور کوشش کی، اعلان کیا کہ آپ یہاں کھڑے نہ ہوں یہاں تو میاں صاحب نے آنا ہی نہیں ہے کیوں کہ وزیر اعظم پاکستان تو اپنی کنونشن ہال میں تقریر کے بعد ہی ریڈ زون سے سیکورٹی میں واپس چلے جائیں گے۔

صحافی ہونے کے ناطے دماغ نے جناب خواجہ معاذ کی اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ کنونشن ہال کے راستے پر تو ہم خود کھڑے ہیں اورجہاں سے امریکی صدر باراک اوباما، وزیر خارجہ جان کیری، جرمن چانسلر انجیلا مرکل، فرانسیسی وزیراعظم فرانسوا ہولنڈے،طیب اردوان،اٹلی، ناروے، سپین،چین ، ہالینڈ کے صدور اوربھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت ایک سو پچاس سربراہانِ مملکت گزر گئے ،وہاں پر نواز شریف کو سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہو سکتا،لہٰذا اپنے وزیر اعظم کے دیدار کے لئے کھڑے رہے کہ سوال کرنا اور خبر لینا صحافی کا حق بھی ہے اور ڈیوٹی بھی۔ میاں کچھ دیر بعد آ بھی گئے اور سوالوں کے جواب بھی دئیے، بلکہ انڈین میڈیا کو آڑے ہاتھوں بھی لیا اور ان کو باور کرایا کہ پاکستان سیکیورٹی اور دفاع کے لئے بہت کچھ کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑا سٹیک ہولڈر بھی پاکستان ہی ہے۔ سوال کے جواب میں نواز شریف نے بڑی متانت سے جواب دیا کہ نریندر مودی سے جو گفتگو ہوئی ،وہ سب نہیں بتا سکتا ۔ محمد نوا ز شریف بھارتی وزیراعظم ، اشرف غنی اور برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد کچھ تھکے تھکے بھی نظر آئے، اسی دوران وزیر اعظم کو معلوم ہوا کہ ان کی تقریر میں ابھی کچھ وقت ہے تو پولین میں ایک طرف کو چل دئیے کہ یہاں پر موجود کانفرنس اور سٹالز کا جائزہ بھی لیں، اسی دوران وزیراعظم سے ملاقات بھی ہوئی اور وزیر اعظم پاکستان نے جس انداز میں یہاں موجود صحافیوں کو ان کے قریب جانے سے روکنے پراپنے سٹاف کو سخت سست کہا، اس پر دل خوش ہو گیا۔

پاکستان کے وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستانی اتنی دور سے پرائے دیس میں آئے ہیں، انہیں قریب آنے سے کوئی نہ روکے، ان کی قدر میں مزید اضافہ کر گیا کہ پاکستان کو ایسے ہی لیڈر کی ضرورت ہے جو عوام میں گھل مل جائے۔محمد نواز شریف کا دورۂ فرانس اس لئے بھی اہمیت کا حامل تھا کہ یہ اقوام متحدہ کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا اجلاس تھا ،جہاں تقریباً سبھی عالمی لیڈر موجود تھے،کانفرنس میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں جہاں پاکستا ن کو در پیش مسائل کی طرف عالمی لیڈر کی توجہ دلائی ،وہاں دوسری جانب نواز شریف نے عالمی سربراہان کو پاکستان کی کلائمیٹ چینج سے ہونے والی مشکلات میں اضافے سے بھی آگاہ کیا، اور عالمی لیڈرز کو باور کرایا کہ پاکستان کی مدد کرنا سب ممالک کا فرض ہے، کیونکہ پاکستان اپنے ماحول کو خود نقصان نہیں پہنچا رہا، بلکہ اس کے ہمسایہ ممالک میں صنعتوں کے لئے کوئلے کے بے دریغ استعمال ،کاربن کے فضلے کی ہوا میں موجودگی اور پھیلاؤ کے باعث پاکستان متاثرہ ممالک کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر سب سے متاثرہ مُلک ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ صورت حال مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے ،اور اس ضمن میں حکومت پاکستان کا ساتھ دینا سب کا فرض ہے،بھارت اس ضمن میں پاکستان کے لئے سب سے بڑی مشکلات کھڑی کر رہا ہے جو کوئلے کا بے دریغ استعمال جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان اس کے باعث شدید متاثر ہو رہاہے۔

یہاں آپ کو عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے حوالے سے بتاتا چلوں کہ بھارتی وزیراعظم مودی یہاں پر ماحول کی بہتری کے لئے تقریریں تو کرتے رہے اور یہاں پر شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام کرنے کی خواہش بھی کرتے رہے، لیکن ان کے اپنے ملک میں ان کی حکومت کے دوران سب سے زیادہ کوئلے سے ماحول کو نقصان پہنچانا ریکارڈ کیا گیا۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔۔۔خیر عالمی کانفرنس سے خطاب اور برطانوی وزیراعظم اور افغان صدر سے خطے کی صور ت حال پر باہمی بات چیت اور بھارتی وزیراعظم مودی سے ایک منٹ کی،لیکن عالمی تناظر میں ایک اہم ملاقات کے بعد جس میں ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم کوخطے میں بھارتی جارحانہ عزائم سے روکنے کا اشارہ بھی دیاہے، وزیر اعظم پاکستان پیرس سے لندن تو چلے گئے، کانفرنس کاافتتاحی سیشن بھی ہو گیا، عالمی لیڈران میں سے بہت سے اپنے دیسوں کو بھی سدھار گئے، لیکن کانفرنس جاری ہے، اور یہاں پر پاکستان کی نمائندگی کے لئے وزارت کلائمیٹ چینج کا ایک چھوٹا سا سٹال بھی موجود ہے، یہاں پر وزارت کی جانب سے افسران بھی موجود ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ وزیر کلائمیٹ چینج زاہد حامد بھی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی جاری رکھے ہوئے ہیں، ان کی ٹیم بھی ان کی مدد کے لئے یہاں موجود ہے، اور کلائمیٹ چینج پر پوری دنیا کی جانب سے تقاریر کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے۔

اس کانفرنس کا اختتامی سیشن 11دسمبر کو ہو گا، کانفرنس بھی ختم ہو جائے گی، کانفرنس میں تقاریر بھی ہو جائیں گی اور کانفرنس کا ایجنڈا اور نئے احداف بھی طے ہو جائیں گے،لیکن کیا پاکستان کے وزیراعظم جو اہداف لے کر عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں گئے اور انہوں نے پاکستان کی بہتری کے لئے جو تقریر کی اور عالمی لیڈروں کو اس جانب توجہ دلوائی ،کیا ان کے جانے کے بعد وزارتِ کلائمیٹ چینج اس ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو پائے گی؟ کیادنیا سے مدد کا حصول پاکستان کے لئے دشوار گزارہی رہے گا؟ کیا پاکستان کوکلائمیٹ چینج کی مد میں عالمی حصہ دیا جائے گا؟ کیا جرمنی ، فرانس، ہالینڈ، بیلجیم اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے گرین فنڈ اور اسی طرح کے دیگر فنڈز کا جن سے پاکستان اپنی مشکلات ختم کر سکے ،حاصل ہو پائیں گے؟ یا ایک بار پھر کمزور حکمتِ عملی اور پالیسی کا فقدان آڑے آئے گا اور پاکستان ایک عالمی ایونٹ میں موجود ہونے کے باوجود اپنے لئے بہتری کا نادر موقع گنوا دے گا؟ یہ آنے والے دن ہی بتائیں گے اور وزارتِ کلائمیٹ چینج کی صورت حال سے بھی اپنے اگلے کالم میں اپنے قارئین کو پیرس سے آگاہ کرتا رہوں گا ،جہاں یہ عالمی میلہ اپنی رنگینیوں کے ساتھ جاری ہے۔

مزید : کالم