روس اورفرانس کے بعد برطانیہ کی بھی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری ، جنگ مزید بڑھنے کا خطرہ

روس اورفرانس کے بعد برطانیہ کی بھی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری ، جنگ ...
روس اورفرانس کے بعد برطانیہ کی بھی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری ، جنگ مزید بڑھنے کا خطرہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پارلیمنٹ کی طرف سے منظوری ملنے کے محض57منٹ بعد ہی برطانیہ نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کر دی ۔ 397برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے شام پر بمباری کرنے کے حق میں ووٹ دیئے جبکہ 223ایم پیز نے اس کی مخالف کی، چنانچہ 174ووٹوں کی برتری کے ساتھ پارلیمان نے شام پر فضائی حملوں کی منظوری دے دی۔برطانوی وزارت دفاع نے بھی بمباری کی تصدیق کر دی ہے۔
ترجمان وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ برطانوی ایئر فورس کے 4 ٹورنیڈو جی آر فور جنگی طیاروں نے قبرص کے فضائی اڈے سے پرواز کی اور شام میں داعش کے زیرتسلط علاقوں میں بمباری کی ہے۔وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 4 میں سے2 جنگی طیارے پرواز کرنے کے تین گھنٹے بعد واپس آ گئے جبکہ 2کارروائیوں میںمصروف ہیں۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے پارلیمان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایک طویل تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ”شام میں برطانیہ کی فضائی کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کے حملوں سے برطانوی عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ درست فیصلہ کیا ہے۔ شام اور عراق کے بارڈر کے متعلق انہوں نے کہا کہ داعش اس بارڈر کو نظرانداز کر رہی ہے، لہٰذا ہم پر بھی ان دونوں ملکوں میں موجود سرحد کا احترام کرنا لازم نہیں رہا۔ دوسری جانب اس فیصلے کے مخالفین اراکین پارلیمان کا کہنا تھا کہ شام میں فضائی حملوں کا فیصلہ انجام کار ایک غلطی ثابت ہو گا اور اس کے نتائج کافی سنگین بھی ہو سکتے ہیں۔
دریں اثناءامریکی صدر باراک حسین اوباما نے برطانوی پارلیمان کی طرف سے شام پر بمباری کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم داعش کے خلاف لڑائی کے بنائے گئے اتحاد میں شامل ہونے پر برطانیہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔امریکہ اور برطانیہ کے مابین ایک خاص رشتہ ہے اور ہماری مشترکہ اقدار اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے باہمی عزم و ہمت کا جذبہ ہمارے اس رشتے کی جڑ ہے۔ہم مل کر دنیا میں خوشحالی، امن اور تحفظ لانا چاہتے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ ”داعش ایک عالمی خطرہ ہے اور اس سے پوری دنیا کو مل کر نمٹنا ہو گا‘۔ یادرہے کہ اس سے قبل روس اور فرانس کے طیارے بھی شام میں داعش کیخلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔