مردم شماری کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ

مردم شماری کے لئے سپریم کورٹ کا فیصلہ

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ فوج دستیاب ہو یا نہ ہو مردم شماری دو ماہ (15مارچ سے 15مئی) میں مکمل کی جائے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ وفاقی حکومت 7دسمبر تک مردم شماری کرانے کی حتمی تاریخ سے آگاہ کرے جس پروزیراعظم کے دستخط ہوں ورنہ وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت میں بلایا جائے گا۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مردم شماری نہ کرا کر پورے ملک سے مذاق کیا جارہا ہے مردم شماری ہوگی تو نئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔ جمہوری نظام کا دارومدار مردم شماری پر ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو یہی ’’سٹیٹس کو‘‘ سوٹ کرتا ہے، آج حکومت کہہ رہی ہے فوج کے بغیر مردم شماری نہیں ہو سکتی کل الیکشن کمیشن کہہ دے گا فوج کے بغیر الیکشن نہیں ہو سکتے، لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں چل رہی ہیں اس طرح تو اپریل میں بھی مردم شماری نہیں ہوسکتی، چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ مردم شماری نہیں کرانی تو آئین میں ترمیم کرلیں ملکی پالیسیاں ہوا میں بن رہی ہیں عوام کی تعداد کسی کومعلوم ہی نہیں، قومی معاملے پر کوئی سیاسی جماعت عدالت میں نہیں آئی۔مردم شماری کے بارے میں حکومتوں کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اور آئینی ضرورت کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری کرانے کی بجائے اسے حیلوں بہانوں سے ملتوی کردیا جاتا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو مردم شماری سے خوف کی کیفیت اس پر طاری ہوتی ہے۔ حالانکہ درست منصوبہ بندی کے لئے آبادی کے تازہ ترین اعدادو شمار پر ہی انحصار کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر مقررہ وقت پر مردم شماری نہیں ہوگی تو یہ کیسے معلوم ہوگا کہ آبادی کی شرح میں کس حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی ضروری ہوگئی ہے آبادی میں اضافے کی وجہ سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ضروری ہے جو مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔

سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت طویل عرصے سے ہو رہی ہے اور متعدد بار اٹارنی جنرل کی جانب سے عدالت میں یہی موقف اختیار کیا گیا کہ فوج دستیاب نہیں ہے جس کے بغیر مردم شماری نہیں ہو سکتی حالانکہ اس معاملے کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکالا جاسکتا تھا، لیکن جب حکومت اس موقف پر اڑی رہی تو سپریم کورٹ نے بالآ خر یہ حکم جاری کردیا کہ 15مارچ اور 15مئی کے درمیانی دو ماہ کے عرصے میں مردم شماری کی تاریخ مقرر کر کے عدالت کو اس سے آگاہ کیا جائے، حکومت کو اس عدالتی حکم کی روشنی میں اب ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کرنے ہوں گے۔ فوج کی خدمات اگر نہیں بھی دستیاب ہوتیں تو بھی عدالتی حکم پر تو عملدرآمد کرنا ہی ہوگا۔ بہتر راستہ تو یہی تھا کہ حکومت اپنا یہ فرض خود وقت مقررہ پر انجام دیتی اور اگر تاخیر ہوگئی تھی تو بھی اسے غیر معینہ مدت تک التوا کا شکار نہ کیا جاتا، لیکن مردم شماری کے معاملے میں حکومتی رویہ اسی امر کا غماز رہا۔حکومت اگر سرکاری امور کی انجام دہی میں آئین میں دی گئی گائیڈ لائنز پر چلتی رہے تو نہ صرف گڈگورننس کا تاثر پیدا ہوگا بلکہ یہ رائے بھی قائم ہوگی کہ حکومت آئین کی روشنی میں ملکی امور آگے بڑھارہی ہے، فوجی حکومتوں پر سب سے بڑا الزام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ آئین سے انحراف کی مرتکب ہوتی ہیں اگر جمہوری طور پر منتخب حکومتیں بھی اسی راستے پر چل پڑیں تو فوجی اور جمہوری حکومتوں کے طرزِ عمل میں زیادہ فرق نہیں رہ جاتا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جمہوری حکومتوں کے لئے کو ئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں۔ جہاں تک عدالتی احکامات کا تعلق ہے انہیں بے اثر بنانے یا معرضِ التوا میں ڈالنے کا رویہ ہماری حکومتوں کے اقدامات میں دیکھا جاسکتاہے،یہاں تک کہ فاضل ججوں کو متعدد بار یہ ریمارکس دینا پڑے کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل نہیں کرنا تو عدالتوں کو تالے لگا دیں، فاضل ججوں کو ایسے ریمارکس اسی وقت دینا پڑتے ہیں جب عدالتی احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوتا۔

معاملہ صرف مردم شماری ہی کا نہیں ہے بلدیاتی انتخابات میں بھی ہماری حکومتیں اس طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتی رہیں، جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور میں 2001ء اور 2005ء میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے طے شدہ پروگرام کے مطابق 2009ء میں انتخابات ہو جانے چاہیے تھے، لیکن 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں جو حکومتیں برسر اقتدار آئیں انہوں نے بلدیاتی انتخابات کی ضرورت محسوس نہ کی غالباً وہ پرویز مشرف دور کے بلدیاتی نظام کو اپنی سیاسی ضرورتوں کے مطابق خیال نہیں کرتی تھیں اگر ایسا ہی تھا تو بھی انہیں بلدیاتی قوانین میں ردو بدل کر کے 2009ء میں انتخابات کرا دینے چاہیے تھے، اگر ایسا ہوتا تو 2013ء میں بھی عام انتخابات ہو جاتے لیکن کوئی صوبائی حکومت اس جانب نہ بڑھی یہاں تک کہ معاملہ عدالتوں میں جاپہنچا اور عدالتی احکامات کے تحت ہی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے،حالانکہ یہ سب صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری تھی جس سے پہلو تہی کی گئی پنجاب میں تو یہ عمل اب تک مکمل نہیں ہوا ابھی چند روز پہلے مخصوص نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں، چیئرمینوں اور میئروں کے انتخاب کا مرحلہ اب بھی باقی ہے عدالتی احکامات کے باوجود اس غیرمعمولی تاخیر سے پنجاب حکومت کے متعلق اچھا تاثر قائم نہیں ہوا۔

باقی صوبوں میں اگرچہ بلدیاتی نظام برے بھلے انداز میں چلنا شروع ہوگیا ہے لیکن کراچی کے میئر وسیم اختر کو شکایت ہے کہ ان کے پاس پورے اختیارات ہیں نہ فنڈز ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا صوبائی حکومت نہیں چاہتی کہ کراچی جیسے شہر کا میئر اپنے شہر کی حالت بہتر بنائے؟اگر ایسا نہیں تو پھر پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر کی حالتِ زار بہتر بنانے کے لئے صوبائی حکومت کو میئر کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شہر کی تمدنی ضروریات پوری کرنے کے لئے فنڈز مہیا کرنے چاہیں ، ہو سکے تو وفاقی حکومت بھی اس کاسمو پولٹین شہر کے لئے کوئی ترقیاتی پیکیج دے۔ اس اچھے مقصد کے لئے سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر فیصلے کئے جائیں۔

مردم شماری چاروں صوبوں میں اگر مرحلہ وار پروگرام کے تحت کرالی جائے اور اس سلسلے میں سیکیورٹی کے لئے پولیس کی خدمات صوبوں کو مستعار دی جائیں تو شاید فوجی افسروں اور جوانوں کی خدمات حاصل نہ کرنا پڑیں امید ہے حکومت یہ مرحلہ خوش اسلوبی سے طے کرلے گی اور آئندہ ایسے امور عدالت میں جانے سے پہلے ہی آئین کے مطابق نپٹانے کی کوشش کرے گی۔

مزید : اداریہ


loading...