مینار پاکستان پر جلسوں کے لئے اصرار کیوں؟

مینار پاکستان پر جلسوں کے لئے اصرار کیوں؟

آزادی چوک انٹر چینج کی ضرورت اور تعمیر کے دوران لاہور کی معروف اور قدیمی اقبال پارک (منٹو پارک) اور مینار پاکستان کے علاوہ لیڈی ولنگڈن ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا، اس پر بہت احتجاج بھی کیا گیا جس کے جواب میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس پورے گلشن کو پھر سے آباد اور جدید ترین سہولتوں سے مزین کرنے کے لئے فنڈز مختص کئے اور ذاتی دلچسپی لی اب اقبال پارک اور اس سے منسلک مینار پاکستان کی تعمیر و تزئین نو مکمل ہو چکی اس پر اربوں روپے خرچ آئے ہیں یوں شہر والے اور سیاح بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اب اس تعمیر و تزئین نو کا افتتاح ہونے والا ہے، اقبال پارک میں سابقہ کھیلوں، کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، اور کشتی کے اکھاڑے کی سہولتیں مہیا کرنے کے علاوہ جدید جھیل بھی بنائی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے اس خوبصورت پارک کی دیدہ زیبی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے اصرار پر یہاں جلسے ،جلوسوں کی ممانعت کردی ہے، دوسری طرف حکومت نے لاہور میں ٹریفک کی بندش کے مسائل اور اس سلسلے میں عدالت عالیہ کے حکم کو پیش نظر رکھتے ہوئے، جلسوں اور دھرنوں کے لئے ناصر باغ کوہائیڈ پارک کا درجہ دے دیا ہے، جہاں کے لئے درخواست دے کر منظوری سے نہ صرف جلسہ اور مظاہرہ کیا جاسکے گا بلکہ اگر کسی کا موڈ دھرنے کا ہو تو دھرنا بھی دیا جاسکے گا، اجازت کا مقصد ٹکراؤ کو روکنا ہے ، تاہم یہ احکام جاری ہو چکے ان کی تشہیر نہیں کی گئی کہ ابھی مکمل عمل درآمد نہیں ہو پارہا۔جہاں تک مینار پاکستان کا تعلق ہے تو اقبال پارک اور مینار پاکستان کے حوالے سے انتظامیہ کے فیصلے کا تعلق ہے تو اسے پورے لاہور کے عوام کی تائید حاصل ہے جو اس کا حسن برقرار رکھنا اور یہاں تفریح کے لئے آنا چاہتے ہیں، لیکن اب ایک نئی صورت حال پیدا ہو رہی ہے کہ یہاں سیاسی جلسے ہوتے رہے ہیں تو مذہبی اجتماعات بھی ہوتے آئے، انہی میں منہاج القرآن کے زیر اہتمام عالمی میلاد کانفرنس بھی ہے جو 12۔ ربیع الاول کو ہوتی اور علامہ طاہر القادری اس سے خطاب کرتے ہیں چاہے ویڈیو لنک کے ذریعے کینیڈا یا لندن سے کریں، اس موقع پر نہ صرف یہاں دیگیں پکتی ہیں بلکہ بیت الخلاء بھی بنائے جاتے اور زمین کھود دی جاتی ہے، یہاں کے پھولوں کی کیاریاں تباہ ہو جاتی ہیں، پورے گلشن کا ستیاناس ہو جاتا ہے اور اس کی بحالی میں طویل عرصہ لگتا ہے کہ پہلے پھیلائی گئی گندگی اٹھائی جاتی اور پھر بحالی ہوتی ہے۔اس سال حکومت کی طرف سے ممانعت ہے، منہاج القرآن کی طرف سے انعقاد کے لئے درخواست دی گئی ہے جس کا ابھی شاید فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ پاکستان عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری گنڈا پور نے ایک بیان میں اصرار کیا کہ یہ قدیمی کانفرنس ہے اور یہیں ہوگی اگر انکار کیا گیا تو حکومت کو نقصان ہوگا، انہوں نے ڈی،سی،او لاہور کے رویے کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔پاکستان عوامی تحریک کا یہ رویہ افسوس ناک ہے، اقبال پارک اگر اربوں روپے کی لاگت سے بحال ہو چکی ہے اور ممانعت سب کے لئے ہے تو پھر ایسے اصرار کی سمجھ نہیں آتی، منہاج القرآن کی انتظامیہ یہ انتظام اپنے سیکرٹریٹ کے سامنے والی گراؤنڈ میں بھی کرسکتی ہے اگرچہ وہاں بھی رہائشی پریشان ہوں گے، جویوں بھی سیکرٹریٹ کی سیکیورٹی کے باعث مسلسل ہو رہے ہیں ، حضور اکرمؐ کے پاک نام پر اجتماع کے حوالے سے ہنگامہ آرائی ہرگز اچھی بات نہیں، علامہ طاہر القادری کو ضد کی بجائے اس پر غور کرنا اور اپنی جماعت کے عہدیداروں کو ہدایت کرنا چاہیے کہ وہ انتظامیہ سے مذاکرات کر کے کوئی اور جگہ متعین کرلیں، ناصر باغ بھی چھوٹی جگہ نہیں ہے۔جہاں تک دھمکی کا تعلق ہے تو یہ مناسب نہیں ماہ مبارک ربیع الاول ولادتِ پیغمبر آخر الزمانؐ کا مہینہ ہے اور اسلامیان پاکستان روز و شب عقیدت کے پھول برساتے ہیں ایسے متبرک دنوں میں تنازعہ پیدا کرنا مناسب نہیں اور عوام پسند نہیں کریں گے، ویسے بھی یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ آپ کی جماعت کی نمائندگی کتنی ہے، صرف ایک بار حضرت طاہر القادری قومی اسمبلی پہنچے اور پھر چند ماہ بعد ہی استعفا دے دیا اس سے پہلے کہ دہری شہریت کا مسئلہ پیدا ہوتا، اس کے علاوہ سرگودھا میں کانفرنس کے بعد تعمیر نو کا وعدہ پورا نہ ہوا اور نہ کبھی مینار پاکستان کے گلشن کی خبر لی۔ اس لئے انتظامیہ کا فیصلہ بہتر ہے۔

مزید : اداریہ


loading...