کرکٹ ٹیم، نیوزی لینڈ سے سیریز ہار گئی، ’’پرچی کے کمال‘‘ کی تحقیق ضروری

کرکٹ ٹیم، نیوزی لینڈ سے سیریز ہار گئی، ’’پرچی کے کمال‘‘ کی تحقیق ضروری
 کرکٹ ٹیم، نیوزی لینڈ سے سیریز ہار گئی، ’’پرچی کے کمال‘‘ کی تحقیق ضروری

  


نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے اپنی سرزمین پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دونوں میچ جیت کر وائٹ واش کر دیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق نیوزی لینڈ نے 1985ء کے بعد یہ کارنامہ انجام دیا اور پاکستان کے شاہینوں نے 31 سال بعد اپنے لئے خفت کا سامان کیا ہے۔ روایت کے مطابق کرکٹ ٹیم پر تنقید کے دروازے کھل گئے ہیں اور اس تاریخ کا رخ موڑنے والی ٹیم کی سلیکشن سے لے کر فیلڈنگ اور باؤلنگ تک ہدف بن گئی ہے جبکہ انضمام الحق جیسے پیر کی کارکردگی اور چناؤ بھی سوالیہ نشان ہے۔ دوسرا ٹیسٹ تو مثال ہے کہ ٹیم نے کبھی بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور ہمیشہ غلطیوں کو دہرایا ہے۔ تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کی دونوں اننگز ایک دوسرے کی ضد ثابت ہوئیں۔ نیوزی لینڈ نے پاکستانیوں کو ’’گرین ٹاپ‘‘ پر کھلایا اور حسب توقع نتائج بھی حاصل کر لئے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنی ہوم سیریز ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی اور ویسٹ انڈیز سے تینوں فارمیٹ کی سیریز جیت لیں۔ ٹیسٹ میچوں میں پہلے دو ٹیسٹ جیتنے کے بعد ٹیم وائٹ واش کی امید لے کر تیسرا ٹیسٹ ہار گئی یوں سیریز تو جیت گئی لیکن وائٹ واش کے نمبر نہ بنا سکی۔ اس میچ سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ ’’بس بھئی بس‘‘ اب اور نہیں اور جب وہاں سے ٹیم نیوزی لینڈ پہنچی تو پہلا میچ باؤلروں کی اچھی باؤلنگ کے باوجود بلے بازوں کی کم ہمتی کے باعث ہار گئی۔ اس دوران کیپٹن مصباح الحق کو بھی اپنے سسر کی وفات کے باعث واپس پاکستان آنا پڑا یوں بھی جرمانہ کی وجہ سے ان پر ایک ٹیسٹ کے لئے پابندی لگا دی گئی تھی وہ دوسرا ٹیسٹ نہیں کھیل سکتے تھے اس کے لئے اظہر علی کو کپتان بنا دیا گیا تھا۔

اس ٹیسٹ میں ٹیم نے ایک شاندار تاریخ رقم کی وہ یہ کہ پہلی اننگ میں پہلے نمبروں (اوپننگ سمیت) والے بلے باز ناکام ہوئے تو لوئر آرڈر والوں نے سکور کو دو سو کے ہندسے سے اوپر پہنچا دیا اور نیوزی لینڈ کی لیڈ صرف 55 رنز کی رہ گئی تھی۔ دوسری اننگ کے لئے نیوزی لینڈ نے ان کو جیت کے لئے 369 رنز کا ہدف دیا تھا جو حاصل کیا جا سکتا تھا۔ اس اننگ میں پہلی کا الٹ ہوا۔ اوپننگ پارٹنر شپ 131 رنز کی ہوئی اظہر علی 58 رنز بنا گئے اور سمیع 90 پر جا کر آؤٹ ہوئے تھے۔ اس جوڑی کی وجہ سے توقع ہو گئی کہ میچ جیتا جا سکتا ہے، لیکن بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد بلے بازوں نے وہی کیا جو کیا کرتے ہیں کہ توچل میں آیا اور ساری ٹیم ڈھیر ہوتی چلی گئی اور یہ میچ 138 رنز سے ہار دیا گیا اور تاریخ بدل گئی۔

اس سیریز کے ہارنے اور بعض کھلاڑیوں کی بری کارکردگی کے باوجود آسٹریلیا کے لئے پہلے والی ٹیم برقرار رکھی گئی ہے، یوں یہ دعویٰ بھی غلط ہو گیا کہ جس کی کارکردگی ہو گی، وہی کھیلے گا ایسا نہیں ہوا۔ اول تو بعض کھلاڑیوں کی ٹیم میں سلیکشن پہلے ہی ’’پرچی‘‘ کا کرشمہ لگتی تھی پھر انہوں نے ثابت بھی کیا اور ان کو خراب کارکردگی کے باوجود آرام نہیں دیا گیا۔ محمد رضوان کی کارکردگی متحدہ عرب امارات میں بھی سامنے نہیں آئی اس کے باوجود اسے دونوں میچوں میں کھلایا گیا حالانکہ بابر اعظم کو پہلے ہی ٹیسٹ میں رضوان کی جگہ کھلانا چاہئے تھا۔ بابر اعظم نے دوسرے ٹیٹ کی پہلی اننگ میں 90 ناٹ آؤٹ کئے دوسری اننگ میں اس کو ون ڈاؤن بھیج کر دباؤ میں ڈال دیا گیا، وہ بھی رنز نہ کر سکے۔یونس خان اور اسد شفیق بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ اول تو یونس خان کو ریسٹ دینا چاہیے تھی اگر یہ ممکن نہیں تھا تو پھر ون ڈاؤن انہی کو کھیلنا چاہیے تھا چاہے سکور نہ کرتے، پھر دوسرے ٹیسٹ میں سپنر یاسر شاہ کو نہ کھلانا بھی سوالیہ نشان ہے۔ وہاب ریاض اپنے نوبال کی عادت پر قابو نہیں پا سکے اس کے باوجود ان کو راحت پر ترجیح دی گئی جو سمجھ سے باہر ہے یہ بھی تو ’’پرچی‘‘ کا کمال ہے۔

اب یہی ٹیم جس کا مورال گر چکا آسٹریلیا چلی گئی جہاں تین ٹیسٹ میچ کھیلنا ہیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم جنوبی افریقہ سے حال ہی میں سیریز ہاری ہے لیکن وہ آخری ٹیسٹ جیت کر اپنی فارم حاصل کر چکی ہے اس کی ہوم گراؤنڈ پر پاکستان ٹیم کو مشکل ہوگی۔ اب دیکھیں مصباح الحق کی قیادت نصیبوں والی ہوتی ہے یا نہیں؟یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہو گیا کہ محمد عامر کی باؤلنگ بہتر ہو رہی ہے لیکن فیلڈر ان کی گیندوں پر کیچ چھوڑتے چلے جا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی دوسری اننگ میں بھی ان کی گیندوں پر تین کیچ چھوڑے گئے اسے سازش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ کرکٹ میں سیاست تو ہے۔ اسے کون ختم کرے گا؟ احمد شہزاد، عمر اکمل اور کامران اکمل کی کب سنی جائے گی اور ان کو معافی ملے گی اور سلمان بٹ کو مزید کتنا انتظار کرنا ہوگا، تحقیقات کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...