نہری نظام کی جدید خطوط پر تشکیل کیلئے ماہر ٹیم تشکیل دی جائیگی

نہری نظام کی جدید خطوط پر تشکیل کیلئے ماہر ٹیم تشکیل دی جائیگی

لاہور(اپنے خبر نگار سے ) صوبائی وزیر آبپاشی و چیئرمین پیڈا امانت اللہ شادی خیل نے کہا ہے کہ دنیاکے سب سے بڑے نہری نظام کی جدید خطوط پر تشکیل کے لئے پیشہ ورانہ مہارت کی حامل ٹیم تشکیل دی جائے گی تاکہ کسانوں کو مساویا نہ بنیادوں پر نہری پانی کی ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ نہری ڈھانچے کی بحالی و تعمیر نو کے پراجیکٹس کی کوالٹی کو ہر صورت ملحوظ خاطر رکھا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی کی وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعداریگیشن سیکرٹریٹ میں دی جانیوالی محکمانہ بریفنگ کے دوران کیا۔اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری(ایڈمن)محمد نعیم غوث،ایڈیشنل سیکرٹری(آپریشن) چوہدری محمد اشرف،ڈپٹی سیکرٹری (آپریشن)ڈاکٹر محمد نعمان،اریگیشن کنسلٹنٹ ایم ایچ صدیقی اور جنرل مینیجر پیڈا محمد اجمل میاں موجود تھے۔چیف مانیٹرنگ حبیب اللہ بودلہ نے صوبائی وزیر کو بریفنگ دی۔صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ پنجاب کا اریگیشن سسٹم دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا منفر داور منظم نہری نظام ہے جو 20 کروڑ لوگوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہے۔یہ نظام آبپاشی پنجاب کے قابل کاشت رقبہ کی 70فیصد ضروریات پوری کر نے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔تاہم آبادی میں اضافہ کی بنیاد پر نہری پانی کی ضروریات 120 تا 150 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔صوبائی وزیر امانت اللہ شادی خیل کو مزید بتایا گیا کہ پنجاب کی آبی ضروریات پوری کر نے میں نہری پانی کا حصہ 50 تا 55فیصد،زیر زمین پانی کا شیئر35تا 40فیصد جبکہ بارشی پانی 10 تا 15فیصد حصہ دار ہے۔

۔ صوبائی وزیر کو اریگیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام کے تحت نہری نظام میں کسانوں کی شمولیت کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پنجاب اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھا رٹی کے توسط سے کسان برادری کو نہری سسٹم کے انتظام و انصرام میں براہ راست شمولیت کا موقع ملا ہے۔اسطرح کسان برادری کو نیا اعتماد اور حوصلہ ملا ہے۔اس موقع پر صوبائی وزیر امانت اللہ شادی خیل نے اجلاس کو ہدایت کی کہ پانی کے با کفایت استعمال کا سماجی شعور اجا گر کیا جائے اور واٹرمینجمنٹ کے ذریعے کسانوں کو ان کے حصے کا نہری پانی منظم انداز میں فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ آبپاشی کا کردار زرعی شعبہ میں کلیدی ہے۔اس حوالے سے ہر سٹاف ممبر اپنا کردار انتھک انداز میں ادا کرے تاکہ زرعی پیداوار میں بھرپور افاقہ ہو۔

مزید : کامرس


loading...