نوٹوں کی تبدیلی: بھارت کا سیاسی خلفشار۔۔۔!

نوٹوں کی تبدیلی: بھارت کا سیاسی خلفشار۔۔۔!
 نوٹوں کی تبدیلی: بھارت کا سیاسی خلفشار۔۔۔!

  


بھارت میں آج کل مودی سرکار پرتابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں،ساری بھارتی اپوزیشن اور عوام، نریندر مودی کے خلاف اشتعال میں ہیں اور تلخ ترین فقروں اور گالیوں کی صورت اپنے وزیر اعظم کی ’’مزاج پرسی‘‘ میں لگے ہیں۔ بھارت کے اسی خلفشار کے توڑ کی خاطر مودی سرکار نے کشمیر میں ظلم و جبر اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جارحانہ حملے شروع کر رکھے ہیں۔۔۔بھارتی اپوزیشن نے ’’نوٹوں کی تبدیلی‘‘ کی مودی پالیسی کو اندرا گاندھی کے دور کی ’’ایمرجنسی‘‘ اور ’’نس بندی‘‘ پالیسی سے زیادہ خطر ناک قرار دے دیا ہے اور حکومت مخالف احتجاج شروع کردیا ہے، مودی سرکار نے بڑے نوٹوں کی تبدیلی کا جو طریقہ کار اپنایا ، اس میں عام شہری بری طرح خوار اور جگہ جگہ تشدد آمیز کارروائیوں کا شکار ہو رہے ہیں اطلاعات کے مطابق مختلف مقامات پر نوٹوں کی تبدیلی کی خاطر لگی قطاروں میں بھگدڑ سے (ابھی تک) 77افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں (فراڈیوں کے ہاتھوں) اپنی نقدی سے محروم ہو چکے ہیں۔بھارتی اپوزیشن پارٹیوں اور بھارتی عوام کی طرح بھارتی میڈیا بھی اس پر خوب واویلا مچارہا ہے،(اس کی ایک جھلک ہمارے اس کالم میں بھی دیکھی جاسکتی ہے) ہم شاید اس پر کچھ نہ لکھتے مگر بے شمار غیر ملکیوں کی طرح ہم بھی متاثر ین میں سے ہیں کہ بھارت یا ترا کی نشانی کی صورت چند نوٹ تھے ، جو مودی نے ضائع کرادیئے۔

’’ہندوستان میں بڑے بڑے جادوگر ہوئے ہیں، گوگیا پاشا، پی سی سرکار، بنگال کے جادوگر، کالے جادوکے ماہر، لوگوں کو آنکھوں میں دھول جھونکنے والے، سینکڑوں کی بھیڑ کو بے وقوف بنانے والے، جیب سے خرگوش نکالنے والے، آپ کا پرس غائب کر کے کسی دوسرے کی جیب سے نکالنے والے، یہاں تک کہ قطب مینار کو غائب کرنے والے، مگر یہ جادوگر چند سو لوگوں کو چند لمحوں کے لئے نظر بند کر کے ان پر اپنا جادو چلاتے آئے ہیں۔ آج تک نہ ہندوستان میں اور نہ پوری دنیا میں ایسا جادوگر ہواہے جس نے پلک جھپکتے ہی ہندوستان کے 125کروڑ انسانوں کو بھکاری بناکر سڑک پر کھڑا کردیا۔ ان کی جیبوں،پرسوں،تجوریوں، غلوں سے لاکھوں کروڑ روپیہ پار کردیاہو، ایک جھٹکے میں سارے نوٹوں کو ردی کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ ایسا جادوگر اگر دنیا میں ہوا ہے ، تواس کا نام ہے نریندردامودرداس مودی۔۔۔نریندر مودی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ’’کالے جادو‘‘ سے ملک میں رکھی تمام کالی کمائی برآمد کرلی۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ سب تو ہاتھ کی صفائی ہے۔ نریندر مودی نے کوئی کالی کمائی برآمد نہیں کی۔ بلکہ ایک ہی جھٹکے میں انہوں نیبھارت کے غریب عوام کی برسوں کی محنت کی کمائی ان بینکوں میں پہنچادی، جو ملک کے دھنا سیٹھوں کو لاکھوں کروڑ کا قرضہ دے کر ایک جھٹکے میں اسے معاف کردیتے ہیں۔ یہ تو مودی جی کی ’’جادوئی‘‘ چال ہے، جس سے وہ امبانی، اڈانی، برلا،ٹاٹا اور ان جیسے درجنوں ارب پتیوں کی خالی تجوریوں کو جنتا کی گاڑھی کمائی سے بھر کر ایک نیا کھیل کھیل رہے ہیں۔

مودی کے حمایتی کہتے ہیں کہ’’ مودی جی نے یہ کمال دکھایا ہے ۔ ایسا کمال، جس کی ہمت بھارت کا کوئی دوسرا لیڈر نہیں کرسکا۔ مودی جی نے ایک ہی جھٹکے میں کالی کمائی، حرام کی کمائی کرنے والوں کی دولت کو ردی کی ٹوکری کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔ عام لوگ کچھ دن پریشان ہوں گے، مگر آخر کار اس سے ان کا ایسا بھلا ہوگا کہ وہ عمر بھر نریندر مودی کو دعائیں دیں گے۔ مودی جی کے اس اقدام سے پراپرٹی میں لگنے والا کالا دھن غائب ہو جائے گا اور ملک بھر میں پراپرٹی کے دام گر جائیں گے، مکانوں کے دام آدھے رہ جائیں گے، غریبوں کا گھر بنانے کا سپنا پورا ہو جائے گا، یہ مودی جی کی ہمت اور حوصلہ ہے کہ انہوں نے اتنا بڑا اقدام اٹھایا، ایسا قدم اٹھانے کے لئے 56انچ کا سینہ چاہئے جو مودی نے دکھایا کہ ان کے پاس ہے، یہ قدم دکھا کر نریندر مودی ہندوستان کی تاریخ کے عظیم ترین پردھان منتری بن جائیں گے، نہرو، اندرا، نرسمہاراؤ ،اوراٹل بہاری واجپئی نریندر مودی کے سامنے بونے نظر آئیں گے۔ ایک جھٹکے میں مودی نے ہندوستان کی معیشت، بازار، سوچ اور سیاست کو بدل دیا ہے، مودی نے ایک جھٹکے میں تمام سیاسی پارٹیوں کی کالی کمائی کو کوڑا بنا دیا ہے۔ مایاوتی،ملائم سنگھ سے لے کر ممتابنرجی، لالوپرسادیا دو، شردو اور یہاں تک کہ کانگریس کے پاس جمع جو کالا دھن تھا، وہ اب بیکار ہوگیا۔ اس پیسہ کا استعمال یہ پارٹیاں الیکشن لڑنے کے لئے نہیں کرسکتیں،اس طرح بھارت کی سیاست میں کرپشن کی بنیاد پر مودی نے گہری چوٹ لگائی ہے اس لئے یہ تمام لیڈر بلبلا رہے ہیں‘‘۔

مودی کے حمایتی کچھ بھی کہیں، زمین پر حالات مختلف ہیں۔ ہر طرف ہاہا کار ہے۔ یہاں تک کہبھارت کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ یہ کہنے پر مجبور ہوگئی کہ ’’یہ سرجیکل اسٹرائک نہیں کارپٹ بمباری ہے‘‘ یعنی جس طرح عراق پر جارج بش نے اندھا دھند بم برسائے تھے، جس سے فوجی کم عام لوگ زیادہ ہلاک ہوئے تھے، مودی کے نوٹوں کے خاتمہ سے کالے دھن والوں کو کم، 125 کروڑ ہندوستانیوں کو زیادہ چوٹ لگی ہے۔ درجنوں افراد لائنوں میں جان دے رہے ہیں۔ درجنوں خو د کشی کررہے ہیں۔ ہزاروں بے روزگار ہو گئے ہیں۔ لاکھوں کا دھندہ چوپٹ ہو گیا ہے۔ ہندوستان کی معیشت کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اس معیشت کو دوبارہ پیروں پر کھڑا ہونے میں برسوں لگ جائیں گے۔ مودی کا جادو دوسرے دن سے ہی فیل ہوگیا۔ 8نومبر کو مودی جادو کی چھڑی گھما کر جاپان چلے گئے، جاپان سے واپس لوٹے تو انہیں حال بے حال نظر آیا، مودی جی کا سر بدل گیا، انہوں نے کہا میں نے بہت بڑا قدم اٹھایا،اب میری زندگی خطرے میں ہے۔ انہوں نے دہائی دینی شروع کردی۔ ان کے آنسو نکل آئے۔ روز پلان بدلے جانے لگے۔ کبھی کہا چار ہزار دیں گے،کبھی اڑھائی ہزار کبھی دو ہزار۔ کبھی کہا شادی کے لئے ڈھائی لاکھ اور کبھی کہا 50ہزار تک نکال لو، مگر یہ صاف ہوگیا کہ مودی جی کا پورا پلان لڑکھڑا رہا ہے۔ جادو چل نہیں رہا، لوگوں کی ناراضی بڑھتی جارہی ہے۔ داؤ الٹا پڑتا نظر آ رہا ہے۔ کل تک جو لوگ مودی کے اقدام کو انقلابی قدم بتا رہے تھے، وہ اب اسے کھوکھلا اقدم بتا رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہبھارت میں کالے دھن کا صرف 6فیصد کیش ہے۔ بھارت کے زیادہ تر کالے دھندے والوں نے اپنا پیسہ پراپرٹی، گولڈ، ہیرے،جواہرات اور ڈالر میں بدل رکھاہے۔ اس کالے دھن کی بیشتر کمائی بھارت سے باہر جا چکی ہے۔ سوئزرلینڈ اور پانامہ کے بینکوں میں جمع ہے۔ اب اتنے بڑے اقدام سے کہ جس سے بھارت کی چولیس ہل گئی ہیں، مگر صرف دو چار فیصد کالا پیسہ بیکارہو گیا۔ یہ بھی شاید ہاتھ نہ لگے۔ الزام یہ ہے کہ زیادہ تر بڑے سرمایہ داروں کو پہلے سے پتہ تھا کہ 500اور ہزار کے نوٹ بند ہونے والے ہیں۔ انہوں نے پہلے چند ماہ میں اپنا پیسہ یا تو باہر بھیجا یا بینکوں میں جمع کرایا یا سونے میں تبدیل کرلیا۔

اب جو بچا ہے، اسے بھی طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے کالے سے سفید بنایا جا رہا ہے، یعنی اس پوری کارروائی کے نتیجہ میں صرف 2 سے 4 فیصد تک کالا دھن برآمد ہوگا، مگر اس اقدام سے بھارت کی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کے نتیجہ میں ملک کو لاکھوں کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ غریب کسان، مزدور مزید غریب اور بے روز گار ہو جائے گا ایک اندازے کے مطابق 16 لاکھ کروڑ کی کالی کمائی میں سے مشکل سے تین لاکھ کروڑ سرکار کے ہاتھ لگیں گے، مگر اس اقدام سے بھارتی معیشت کو جو نقصان پہنچے گا، اس کی ازالہ کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے اور یہ نقصان 5 سے 7 لاکھ کروڑ کا ہو سکتا ہے۔

مودی نے کہا ہے کہ مجھے 50 دن دے دو۔ اس کے بعد اگر زبردست خوشحالی نہ آ جائے تو مجھے جو چاہے سزا دینا۔ دراصل مودی اس کے بعد ایک اور بڑا قدم اٹھانے والے ہیں۔ مودی اگلے بجٹ میں انکم ٹیکس میں بھاری چھوٹ دینے والے ہیں۔ کسانوں کا تمام قرضہ معاف کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔ زمین جائیداد کی رجسٹری کا ریٹ بھی آدھا کر دیا جائے گا۔ 5 سے سات لاکھ کی سالانہ آمدنی والے کا انکم ٹیکس بالکل معاف کر دیا جائے گا۔ بینک کے قرضوں پر سود میں بھی کمی آئے گی، جس سے صنعت کاروں اور مکان و گاڑی خریدنے والوں کو سستا قرض مل سکے گا۔ ان تمام اقدامات سے مودی کا خیال ہے کہ وہ عام جنتا کا دل جیت لیں گے۔ لوگ اپنی تمام تکلیفیں بھول کر مودی کی جے جے کار کریں گے۔ مودی کے نام کی مالا جپیں گے اور پنجاب ’’یوپی‘ تراکھنڈ گوا اور گجرات کے الیکشن میں مودی کو زبردست کامیابی ہو گی۔سچائی یہ ہے کہ مودی کا یہ اقدام اگر کامیاب ہو گیا۔ وہبھارت کی نگاہ میں ہیرو بن جائیں گے اور انہیں اس طرح کامیابی نصیب ہو گی، جیسی کہ اندراگاندھی کو بینک نیشنلائزیشن کے بعد ملی تھی، مگر یہ اقدام ناکام ہوا اور معیشت مزید اندھے کنویں میں چلی گئی تو مخالفین اور جنتا تو مودی کو بعد میں سبق سکھائیں گے، ان کی اپنی پارٹی کے لیڈر انہیں پہلے ہی اٹھا پھینکیں گے۔ جو سرمایہ دار اور میڈیا مودی کو سر آنکھوں پر بٹھا رہے ہیں، وہ انہیں ہٹا کر کسی دوسرے کو لانا چاہیں گے بی جے پی کے بڑے بڑے لیڈر مودی کی جگہ دوسرے بھاجپائی لیڈر کی تلاش کریں گے۔ مودی کو اڈانی اور امبانی سے اتنا خطرہ نہیں ہے، جتنا کہ جوشی اور اڈوانی سے ہے۔ اگلے دو ہفتے مودی کے لئے بھی بہت اہم ہیں۔ اگلے دو ہفتے میں کرنسی کے بحران پر قابو پالیا گیا۔ بازار میں کافی کرنسی آگئی۔ بھارتی عوام کی فوری مشکلات دور ہو گئیں، تو پھر مودی کے سرپر لٹکی تلوار ہٹ جائے گی اور اگر ان پریشانیوں میں اضافہ ہوا، تو پھر جیسا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے جگہ جگہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ عوام کے غم و غصہ کا آتش فشاں پھٹ پڑے گا اور بھارت ایک نئے طوفان سے دو چار ہوگا، جس پر قابو پانا مودی کے بس کی بات نہیں ہو گی‘‘۔۔۔بھارت،بھارتی سیاست اور مودی کے حالات خواہ کچھ بھی ہو جائیں، مجھے جو ’’نقصان‘‘ اٹھانا پڑا ہے، اس کا ازالہ کسی صورت ممکن نہیں، میں کسی حال میں بھی مودی کو اچھا نہیں کہہ سکتا۔۔۔!

مزید : کالم


loading...