فیڈ ل کاسترو :ایک عہد کا خاتمہ

فیڈ ل کاسترو :ایک عہد کا خاتمہ
 فیڈ ل کاسترو :ایک عہد کا خاتمہ

  


سامراج،وسائل کی لوٹ مار اور اندھی طاقت کے نشے کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے،جتنی خود انسانی تہذیب کی تاریخ۔ انسان کی معلوم تاریخ کا شاید ہی کوئی دور ایسا ہو ،جس دور میں طاقتور بادشاہوں، حکمرانوں ، سلطنتوں اور ریاستوں نے اپنے سے کمزور ریاستوں یا سماجوں پر اپنے بھرپور غلبے کے لئے عسکری یا معاشی جنگیں نہ کی ہوں، تاہم دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود رہی ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں سامراجی سوچ کو کسی نہ کسی صورت میں مزاحمت بھی ملتی رہی ہے۔اگر صرف 20ویں صدی کا ہی جا ئزہ لیا جائے تو ایسے اشخاص، جنہوں نے سامراج یا اندھی قوت کے نشے میں چور طاقتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا ایسے افراد کے صرف نام درج کرنے کے لئے ایک کالم نہیں، بلکہ ایک بڑی کتاب درکار ہوگی، تاہم اگر صرف 20ویں صدی کے ایسے اشخاص کا ذکر کیا جائے، جنہوں نے آخری دم تک سامراجی سوچ کے خلاف اپنی مزاحمت کو جاری رکھا تو ان میں فیڈل کاسترو کا نام سنہرے حروف کے ساتھ لکھا جا ئے گا۔ 47سال تک کیوبا کے وزیراعظم اور پھر صدر رہنے والے فیڈل کاسترو نے2006ء میں اپنی گرتی ہوئی صحت کے باعث اقتدار اپنے بھائی رال کاسترو کے حوالے تو کر دیا، مگر 25 نومبر 2016ء یعنی اپنی موت تک کاسترو کا سحر کیوبا میں کم نہ ہو سکا۔آئزن ہاور سے لے کر جارج ڈبلیو بش تک دس امریکی صدور فیڈل کاسترو کا اقتدار ختم کرنے کے لئے بھرپور کوشش کرتے رہے۔ 1961ء کے Bay of Pigs سمیت فیڈل کاسترو کو تقریباً 600 مرتبہ موت کے گھاٹ اتارنے کی کوششیں کی گئیں۔کیوبا کے خلاف دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی معاشی ناکہ بندی کی گئی ،ہر جتن کے با وجود کیوبا کے اس مرد حر کی گردن کو نہ جھکا یا جا سکا۔دنیا کے ہر خطے ، علاقے حتی ٰکہ چاند، ستاروں تک اپنی کمندیں ڈالنے والا امریکہ ، ریاست فلوریڈا سے صرف 90میل کی مسافت پر قائم کیوبا کو فیڈل کا سترو کے ہوتے اپنے دام میں لانے میں ناکام رہا۔

اس امر میں کوئی شک نہیں کہ لاطینی امریکہ کے تناظر میں فیڈل کاسترو کے اقتدار میں بھی آمرانہ رجحانات پائے جاتے تھے، مگر اس کے باوجود فیڈل کاسترو نہ صرف کیوبا، بلکہ عالمی سطح پر بھی بائیں بازو اور سامراج مخالف حلقوں کے لئے ایک کرشماتی شخصیت تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت جہاں ایک طرف امریکی میڈیا میں ان کو ’’ ایک جابرآمر‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ، فلوریڈا کے شہر میامی میں چند سو جلاوطن کیوبن با شندے سڑکوں پر کاسترو کی موت کا جشن منا رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف کیوبا کے عام شہری، زیریں متوسط طبقات اور غر یبوں کی اکثریت کاسترو کی موت پر انتہا ئی افسردہ دکھائی دے رہی ہے۔کیوبا میں آج بھی ایسے شہری زندہ ہیں جنہیں یاد ہے کہ 1959ء، یعنی کیوبا کے انقلاب سے پہلے کیوبا کی شہرت چپے چپے پر پھیلے جوئے خانوں اور جسم فروشی کے اڈوں کے باعث تھی۔ اس وقت کیوبا پر بٹسٹاکی امریکہ نواز آمریت مسلط تھی، جس نے اپنے ملک کو عملی طور پر ایک امریکی منڈی بنا یا ہوا تھا ۔فیڈل کاسترو کی حکمرانی کے باعث آج اگر کیوبا کا تقابلی جا ئزہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ امریکہ میں ایک شخص کی اوسط عمر 78.94سال ہے تو کیوبا میں79.39 سال ہے، پڑوسی ملک ہیٹی کے مقابلے میں کیوبا میں ایک شخص اوسطاً16سال زیا دہ زندہ رہتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں کم عمر (ایک سال سے کم) بچوں کی شرح اموات5.8فیصدہے تو کیوبا میں یہ شرح 4.5 فیصدہے، جبکہ ہیٹی میں یہ شرح 48.2 ہے۔عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کیو با میں صحت کا نظام تیسری دنیا کے ممالک ہی نہیں، بلکہ امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک کے نظام سے بھی بہتر ہے کہ جہاں کسی انسان کو اپنے درد ، زخم اور کسی بھی بیماری کے علاج کے لئے کوئی رقم ادا نہیں کرنا پڑتی۔

جہاں تک فیڈل کاسترو کے آمرانہ اور امریکہ مخالف رویے کا تعلق ہے تو اس کے لئے لاطینی امریکہ کے تناظر کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔امریکہ نے لاطینی امریکہ کو اپنے تابع رکھنے کے لئے ایک صدی تک لاطینی امریکہ کے ملکوں میں ظالم آمروں کی حمایت کی، جنہوں نے لاطینی امریکہ کے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتا را۔کاسترو یا’’ کا سترو ازم‘‘ اسی ظلم و تشدد کے خلاف ایک طرح کا رد عمل تھا۔کیوبا لاطینی امریکہ کا وہ آخری ملک تھا، جس نے ہسپانوی سامراج سے1898ء میں آزادی حاصل کی ، مگر سپین سے آزادی ملنے کے ساتھ ہی کیوبا امریکہ کی سامراجی بھوک کا نشانہ بن گیا۔امریکہ کی جانب سے1901ء میں کی گئی ’’پلیٹ‘‘ ترمیم کے ذریعے امریکہ نے کیوبا کے معاملات میں مداخلت کرنے کا’’حق‘‘حاصل کر لیا۔ 1959ء کے انقلاب سے پہلے بٹسٹانے امریکہ کارپوریشنز اور سرمایہ داروں کو بھر پور مراعات دیں اور اس کے بدلے میں امریکہ نے بٹسٹاکے کیوبا کے شہر یوں پر ظلم و ستم پر اپنی آنکھیں بندرکھیں۔ بٹسٹانے اپنے شہریوں پر اتنے ظلم کئے کہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی کو بھی یہ اعتراف کرنا پڑا کہ بٹسٹاکے دور میں کیوبا کے کم از کم 20,000 باشندوں کو سیاسی اختلاف کی بنا پر موت کے گھاٹ اتا را گیا ۔اسی عرصے کے دوران امریکہ ڈومینکن ری پبلک میں ٹروجلو، ہیٹی میں ڈویلئراور نکارا گوا میں سموزا جیسے آمروں کو بھی اپنی حما یت فراہم کرتا رہا۔لاطینی امریکہ کے کسی بھی ملک میں اگر کوئی جمہوری طریقے سے تبدیلی کا خواہاں ہو تا تو اسے سی آئی اے اقتدار سے محروم کر وادیتی۔ جیسے 1954ء میں گوئٹے مالا میں اربینز کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔اس ساری صورت حال نے لاطینی امریکہ کے عام اور پسے ہوئے طبقات میں امریکہ کے خلاف شدید نفرت پیدا کر دی۔

ظاہر ہے اس ساری صورت سے لاطینی امر یکہ کے حساس نوجوانوں کی طرح فیڈل کاسترو اور ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے چے گویرا( جو کیوبا کے انقلاب میں فیڈل کاسترو کے شانہ بشانہ رہے اور جنہوں نے پورے لا طینی امریکہ میں انقلاب لانے کی بھر پور جدو جہد کی اسی جدوجہد میں 1967ء میں اپنی جان دے کر پوری دنیا میں شہرت حاصل کی)بھی متا ثر ہوئے۔ 20کے پیٹے میں ہی کاسترو نے بٹسٹا کے خلاف آرتھو ڈاکس جیسی قوم پرست جما عت سے اپنی جدو جہد کا آغاز کیا ۔1953ء میں کاسترو کی جدو جہد نے مسلح رنگ اختیار کر لیا۔مختصر قید اور جلا وطنی کے بعد کاسترو 1956ء میں پہلے سے زیا دہ عزم کے ساتھ کیوبا واپس آئے اور اپنی کار روائیوں کو تیز کر دیا۔اس وقت دنیا بھر میں سامراج مخالف عوام کی جانب سے کاسترو کے حوالے سے بہت زیادہ ہمدردیاں بھی پیدا ہونا شروع ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب1959ء میں کاسترو اور چی گویرا نے چند سو چھاپہ مار ساتھیوں کے ساتھ بٹسٹاکا تختہ پلٹا تو اس وقت دنیا بھر میں موجود سامراج مخالف تحریکوں کو زبردست حوصلہ افزائی ملی،تاہم کا سترو نے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں اس انقلاب کو قطعی طور پر ایک سوشلسٹ انقلاب قرار نہیں دیا تھا۔ اس انقلاب کو ایک سامراج مخالف یا قوم پرست انقلاب قرار دیا گیا۔ انقلاب کی ابتدا میں کاسترو پر سوویت بلاک کا حصہ بننے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ امریکہ کو بھی امید تھی کہ 1959ء کا انقلاب محض بٹسٹاکی آمرانہ حکو مت کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر آیا ہے ۔ فیڈل کاسترو کی جانب سے جو ابتدائی اصلاحات متعا ر ف کر وائی گئیں، ان میں1940ء کے کیوبا کے آئین کی بحالی، زمینی اصلاحات، مزدوروں، خاص طور پر چینی کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو منافع میں سے55فیصد تک حصہ دینے کی بات کی گئی ۔

کیوبا کے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے کی جانے والی یہ اصلاحات امریکہ کے لئے کیونکر قابل قبول ہو سکتی تھیں؟ کیوبا کا یہ ماڈل لاطینی امریکہ کے دوسرے ملکوں کے عوام میں بھی مقبولیت حاصل کر سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے کیوبا کی معیشت کا گلا گھو نٹنا شروع کر دیا۔ کیوبا کے لئے تیل کو روک دیا گیا، چینی کی ایکسپورٹس کو بند کروادیا گیا اور کیوبا کی مکمل معا شی ناکہ بندی کردی۔ اسی ردعمل میں کاسترو نے واضح طور پر سوویت یونین کے بلاک میں شامل ہوکر اپنے ملک میں مکمل طور پر اشتراکی نظام لانے کے لئے اقدامات شروع کر دیئے۔ امریکی کا رپوریشنز سمیت سرمایہ پید ا کرنے والے ذرائع کو قومیالیا گیا، صحت، تعلیم اور روزگار بھی ریاست کی ذمہ داری قرار دے دیئے گئے۔اشتراکی نظام کو قبول کرنے کے بعد کا سترو نے اس نظام سے ایسی وفا کی کہ1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد سوویت یونین جیسے بڑے بڑے کمیو نسٹ رہنما بھی کمیو نزم سے تا ئب ہوگئے، مگر فیڈل کاسترو نے اس نظام پر کسی قسم کا سمجھوتا کرنے سے انکار کر دیا۔ فیڈل کاسترو کو اپنے نظریات کی صداقت کا اس وقت شدت سے احساس ہوا ، جب وینز ویلا میں ہوگو شاویز اور بولیوا میں ایو موریلز جیسے رہنما جمہوری انداز سے اقتدار میں آئے، جنہوں نے فیڈل کا سترو کو اپنا آدرش قرار دیتے ہوئے امریکی سرما یہ داری نظام کی بجائے عوامی بہبود کی پالیسیوں کو ہی اپنا یا۔یہ کالم تحریر کرتے ہوئے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ فیڈل کاسترو کی جدوجہد،نظریات اور مزاحمت کی طویل داستان کو محض ایک کالم میں سمیٹنا قطعی طور پر ممکن نہیں۔اس لئے اب آخر میں فیڈل کاسترو کے لئے وہی الفاظ استعمال کرنا پڑیں گے جو انہوں نے 2013ء میں وینزویلا کے رہنما ہوگوشاویز کی موت پر کہے تھے کہ ’’ ہوگوشاویز کو سمجھے کے لئے ضروری ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ ان کی موت پر کون سے طبقات ( سامراج مخالف ، محروم اور پسے ہوئے افراد) افسردہ ہیں اور کون سے طبقات( امریکی سامراج نواز اور اس نظام کے حامی) شاویز کی موت پر خوشیاں منا رہے ہیں‘‘ہوگو شاویز کی موت پر فیڈل کا سترو کے یہی الفاظ با لکل ان پر بھی پوری طرح صادق آرہے ہیں۔

مزید : کالم


loading...