نئے چہرے، پرانے حیلے

نئے چہرے، پرانے حیلے
 نئے چہرے، پرانے حیلے

  


یہ سوال تو بنتا ہے کہ آصف علی زرداری بلاول کو اتنی جواں عمری میں عنانِ سیاست کیوں سونپنا چاہتے ہیں؟ ابھی تو بلاول بھٹو زرداری نے جوانی میں قدم رکھا ہے، کنوارے ہیں اور سیاست سیکھ رہے ہیں۔ سیاست تو کیا وہ تو ابھی اردوبولنا، تقریر کرنا اورامورِ سیاست کو سمجھنا بھی سیکھ رہے ہیں اور یہ سب کام بہت وقت مانگتے ہیں،ریاضت چاہتے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، آصف علی زرداری اس بار بلاول کو پیپلزپارٹی کا سب سے بڑا کارڈ بنا کر میدانِ سیاست میں اتارنا چاہتے ہیں۔پیپلزپارٹی کو ہر بار کسی نہ کسی سانحے یا ہمدردی کا ووٹ چاہیے ہوتا ہے ، اس بار بلاول بھٹو زرداری کو اپنی والدہ کی وراثت کا ووٹ لینے کی امید پر آگے لایا گیا ہے، تاہم ایک خیال یہ بھی ہے کہ آصف علی زرداری نے مستقبل کی سیاست کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کو عنانِ سیاست سونپ دی ہے۔ مستقبل کی سیاست میں سب سے بڑی حقیقت عمران خان ہیں، جو نئی نسل میں بہت مقبول ہیں۔ پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کے ذریعے پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کر سکتی، البتہ بلاول بھٹو زرداری نئی نسل کو متوجہ کر سکتے ہیں، پھر یہ نکتہ بھی سامنے لایا جا سکتا ہے کہ ایک 62برس کا لیڈر نوجوانوں کی قیادت کیسے کر سکتا ہے، اس کے لئے تو کوئی نوجوان رہنما ہی چاہیے اور یہ کمی بلاول بھٹو زرداری ہی پوری کرسکتے ہیں۔

میرا قیاس تو یہ بھی ہے کہ 2018ء کے انتخابات کا منظر ہر لحاظ سے مختلف ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) بھی نئی قیادت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ ممکن ہے نوازشریف اور شہبازشریف صرف قائدانہ کردار تک محدود ہو جائیں۔ مرکز میں مریم نواز اور صوبے میں حمزہ شہبازکو میدان میں اتارا جائے۔ پی ٹی آئی کے پاس ایسی کوئی متبادل قیادت موجود نہیں، وہاں عمران خان ہی سیاسی مہم کی قیادت کریں گے۔ اس طرح نئی نسل کے افراد کو سامنے لا کر پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دوبارہ پاکستانی سیاست پر دو سیاسی جماعتوں یا دو خاندانوں کی اجارہ داری برقرار رکھ سکتی ہیں۔ اگر شریف فیملی پانامہ لیکس کیس سے بچ نکلتی ہے اور مریم نواز کسی نااہلی کی زد میں نہیں آتیں تو یقین واثق ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعظم کے منصب کی امیدوار ہوں گی۔ ترکی کے صدر طیب اردوان جب پچھلی بار دورے پر آئے تھے تو وزیراعظم نوازشریف نے ان سے مریم نواز کا اپنی سیاسی جانشین کے طور پر تعارف کرایا تھا اور طیب اردوان نے اس کی تائید بھی کی تھی۔ یہ سب کچھ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ مستقبل کے سیاسی نقشے کے لئے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مکمل تیاری کررہی ہیں۔ پاکستان میں چونکہ خاندانی سیاست ایک مسلمہ حقیقت ہے اور جمہوریت کے پردے میں خاندانوں کے اقتدار کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، اس لئے وہ اس حقیقت سے غافل نہیں رہ سکتیں کہ اب اقتدار نئی نسل کو منتقل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے تو پھر بھی محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کی شکل میں ایک نئے چہرے کو دیکھا ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) تو صرف نواز شریف کے سائے میں چل رہی ہے، وہ خود بھی تین مرتبہ وزیر اعظم بن چکے ہیں، پھر گزرے ہوئے ساڑھے تین برسوں میں جوکچھ ہوا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ مناسب نہیں لگتا کہ وہ اپنی نئی نسل کو آگے نہ لائیں،کیونکہ ابھی مسلم لیگ (ن)کی مقبولیت کا ایک اچھا خاصا گراف موجود ہے۔ ایسے میں وہ لوگ مریم نواز کو سامنے لاکر، خاص طور پر نوجوان ووٹروں کو ،جن کی تعداد اب کروڑوں میں ہے،مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔

خاندانی سیاست پر تنقید کرنے والے اس نکتے پر بھی غور کریں کہ پاکستان میں عوام کا مزاج بھی اس کے حق میں ہے۔ وہ اگر اسے پسندنہ کریں تو یہ سلسلہ کیسے چل سکتا ہے؟ ابھیکل ہی جھنگ کا ضمنی انتخاب ہوا تو اس میں حق نوز جھنگوی کے بیٹے مسرور نواز آزاد امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہو گئے، حالانکہ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کا امیدوار بھی موجود تھا۔ اب اس پر بڑی لے دے ہو رہی ہے۔ آصف علی زرداری نے اسے نیشنل ایکشن پلان کا سب سے بڑا نتیجہ قرار دیا ہے۔یہ سوال بھی پوچھا جارہا ہے کہ ایک کالعدم تنظیم کا حامی امیدوار کیسے جیت گیا؟ یہ نہیں دیکھا جارہا کہ اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کس نے دی؟ ہمارے ہاں ایسا کوئی میکینزم نہیں کہ کسکس امیدوار کو ان کی تنظیموں کی سپورٹ یا حمایت سے دور رکھ سکے جن پر پابندی لگ چکی ہے۔ اگر یہی مسرور نواز ایک عام نوجوان ہوتا تو اس کی ضمانت ضبط ہو جاتی، مگر چونکہ اس کے نام کے ساتھ حق نواز جھنگوی کا نام جڑا ہوا ہے، اس لئے اسے ووٹ پڑے اور وہ جیت گیا۔ یہ تو بہت نچلے درجے کی مثال ہے، جہاں تک بڑے سیاستدانوں کا تعلق ہے، پاکستانی سیاست ان کے جبرسے باہر نکل ہی نہیں سکتی، بھٹو خاندان ختم ہوگیا، مگر اس کا نام آج بھی جاری ہے، لہٰذا اس کا نام لینے والے اس کے نام کو استعمال کررہے ہیں اور اس کے وارث بن گئے ہیں،کیونکہ خاندانی وراثت کی چھتریضروری ہے ۔ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پاکستانی سیاست پر بادشاہت کے سائے موجود ہیں، وہ اس بات پرشکرادا کیوں نہیں کرتے کہ ان خاندانوں کی وجہ سے پاکستانی سیاست انتشار سے بچی ہوئی ہے۔ اس پہلو پر کسی کی نظر نہیں جاتی۔ ہماری سیاسی جماعتیں خاندانی حوالوں سے مضبوط نہ ہوتیں تو کب کی قصۂ پارینہ بن گئی ہوتیں۔ ان خاندانی حوالوں نے پارٹیوں کو اکٹھے رکھا، ہوا ہے، مثلاً مسلم لیگ (ن) اگر شریف خاندان کے سائے میں نہ ہو تو ٹکڑوں میں بٹ کر اپنا وجود کھو دے، اسی طرح زرداری خاندان اگر بھٹو خاندان کا نام استعمال نہ کرے تو پیپلز پارٹی کی رہی سہی چولیں بھی ہل جائیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پر تسلط جمانے کے لئے آصف علی زرداری کو بے نظیر بھٹو کی وصیت کا سہارا لینا پڑا تھا، وگرنہ شاید بغاوت ہو جاتی۔

مسئلہ یہ درپیش ہے کہ بھٹو خاندان اور شریف فیملیاں اب اپنی اگلی نسل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ پاکستان ایک ایسی جاگیر ہے، جس پر قبضہ جھوٹی سچی جمہوریت کے ذریعے ہی جمایا جا سکتا ہے۔ یہاں وہ خالصتاً بادشاہت نہیں جس میں اقتدار خود بخود اگلے شہزادے کومنتقل ہو جاتا ہے، بلکہ اس کے لئے ایک طویل کشٹ کاٹنا پڑتا ہے۔ جمہوری حوالے سے مستقبل کی پیش بندی کرنا پڑتی ہے۔ اقتدار پکے ہوئے بیر کی طرح جھولی میں نہیں گرتا، بلکہ اس کی خاطر کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اگر پاکستانی سیاست میں تحریک انصاف ایک نئی سیاسی قوت بن کر نہ ابھرتی تو شاید دونوں خاندان اپنی اپنی باری کا نظام چلائے رکھتے، لیکن اب عمران خان بھی اقتدار کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں، اس لئے ان دونوں پارٹیوں کو حالات کو موافق بنانے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔ باری کے لحاظ سے تو اب پیپلزپارٹی اقتدار کی دوڑ میں آگے ہے اوربلاول بھٹو زرداری میدان میں اتارے گئے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو۔شریف خاندان بھی اپنے بچوں کے لئے کوشاں ہے، اس لئے مریم نواز اور حمزہ شہباز کو نمایاں رکھا گیا ہے، تاہم سیاسی خاندانوں کو بدلتی ہوئی زمینی حقیقتوں پر نظر رکھنی چاہیے، اب صرف یہی کافی نہیں کہ سیاست میں ایک نسل کے بعد دوسری نسل کو لا کر کام چلایا جا سکے، اب عوام سیاست کو بھی روائتی سیاست سے ہٹ کر عوام دوست سیاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔سیاسی شعور تمام تر یکسانیت کے باوجود بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ ان حیلوں سے عوام کو بے وقوف بنانا اب شاید ممکن نہ رہے جو ماضی میں استعمال کئے جاتے رہے اور اب بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں۔

مزید : کالم


loading...