پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچرمیں شاعر بشیر ناطق کے ساتھ ایک شام

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچرمیں شاعر بشیر ناطق کے ساتھ ایک شام
 پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچرمیں شاعر بشیر ناطق کے ساتھ ایک شام

  


لاہور(فلم رپورٹر)پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر، محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب کے زیر اہتمام پنجابی زبان کے معروف شاعر بشیر ناطق کے ساتھ ایک شام منائی گئی۔ جس میں دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں کے علاوہ اُن کے شاگرد شعراء نے شرکت کی۔ جن میں بابا نجمی، عاشق رحیل، عدل منہاس لہوری، پروین سجل، منور سلطانہ، ایم۔ آر مرزا، محمد قاسم متین، عقیل شافی، پیر عبدالخالق اور عبدالحمید صابری شامل تھے۔ محفل کی صدارت دائم اقبال دائم کے فرزند حسن اختر حسن نے کی۔ عدل منہاس لہوری نے کہا کہ بشیر ناطق کے اندر بحرِ علم رواں ہے انہوں نے ہر صنف میں شاعری کی ہے۔ پروین سجل نے کہا کہ ان پر شاعری ایسے اترتی ہے جیسے کوئی آبشار چل رہی ہو۔ اس طرح کے شاعر اب بہت ہی کم ہیں ہمیں ان سے استفادہ اور اُن کی قدر کرنی چاہیے۔ منور سلطانہ، منظور ملنگ اور قاری محمد منشاء نے بشیر ناطق کا کلام ترنم کے ساتھ پیش کیا۔

عبدالحمید صابری نے کہا کہ انہوں نے شعروں کے ذریعے عرشوں کی سیر کرائی ہے۔ اُن کی شاعری تصوف پر مبنی ہے جس میں انہوں نے مخفی اسرار کھولے ہیں۔ عاشق رحیل نے کہا کہ وہ کوہ ہمالیہ جیسے شاعر ہیں جنہیں سر نہیں کیا جاسکتا انہوں نے ناطق تخلص کی لاج رکھی ہے۔ حسن اختر حسن نے کہا کہ بشیر ناطق دائم اقبال دائم کے شاگرد ہیں ان کا ناطق تخلص دائم صاحب نے رکھا۔ شاعری کی کل 32 بحریں ہیں جن میں سے 19 بحروں میں بشیر ناطق نے شاعری کی ہے ان کی شاعری تصوف پر مبنی ہے۔ بشیر ناطق جب سٹیج پر تشریف لائے تو ہال میں تا دیر تالیاں کی آواز گونجتی رہی۔ محفل کے اختتام پر بشیر ناطق نے اپنا کلام سنایا اور پھر پور داد وصول کی۔ بشیر ناطق کے مداحوں نے اور شاگردوں نے اُن کی تاج پوشی کی اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ انہوں نے آنے والے تمام دوستوں، پلاک کے عملہ اور اس کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغرا صدف کا شکریہ ادا کیا۔ اِس تقریب میں نقابت کے فرائض ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر خاقان حیدرغازی نے ادا کئے۔

مزید : کلچر


loading...