ہائیکورٹ ، واپڈا ہاﺅس پر ڈیڑھ کروڑ روپے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے نوٹسزکالعدم

ہائیکورٹ ، واپڈا ہاﺅس پر ڈیڑھ کروڑ روپے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے ...
ہائیکورٹ ، واپڈا ہاﺅس پر ڈیڑھ کروڑ روپے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے نوٹسزکالعدم

  


لاہور ( نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ نے واپڈا ہاﺅس پر محکمہ ایکسائز کی طرف سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے نوٹسز غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیئے ، جسٹس شاہد کریم نے واپڈا اتھارٹی کی طرف سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا، عدالت نے فیصلے میں قرار دیا ہے صوبائی محکمے کسی بھی وفاقی محکمے اور ادارے پر ٹیکس عائد نہیں کر سکتے، واپڈا نے موقف اختیار کیا تھا کہ واپڈاوفاقی حکومت کا ذیلی ادارہ ہے، وفاقی حکومت کے اداروں پر صوبائی حکومت پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں کر سکتی، آئین کے آرٹیکل ایک سو پینسٹھ کے تحت وفاقی حکومت کے ادارے پراپرٹی ٹیکس سے مستثنی ہیں، پنجاب حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین نے موقف اختیار کیا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی وفاقی حکومت کے ادارے سے پراپرٹی ٹیکس وصولی کر سکتی ہے، واپڈا ایک خودمختار ادارہ ہے، واپڈا ایکٹ کی دفعہ تیرہ، بائیس اور چوبیس کو ملا کر پڑھا جائے تو واپڈاہاﺅس پر پراپرٹی ٹیکس کی مد میں وفاقی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، واپڈا ہاﺅس سارا کا سارا سرکاری مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہو رہا بلکہ اس عمارت میں درجنوں ایسی دکانیں ہیں جنہیں آگے کرایہ پر دے کر کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جسے سناتے ہوئے عدالت نے واپڈا ہاﺅس کو بھجوائے گئے ڈیڑھ کروڑروپے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹسز غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیئے ۔

پاکستان کی پہلی آن لائن فلم،مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : لاہور


loading...